واعظ میں سے بائبل کا استفار کرنا
سوال:واعظ میں سے ،واعظ جیسی شک پر مبنی کتاب کو بائبل میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟
جواب:خُدا بھی شبہ والی چیزوں کو پسند کرتا ہے۔حقیقت میں ،خُدا لوگوں کو دکھانے کی خواہش رکھتا ہےجو اُس کے مقصد میں اُن کے ئے زندگی ہوتی ہے اپنی زندگی میں کوئی مقصد نہیں رکھتے ہیں۔ حقیقت میں، جو لوگ اپنی زناگی کو بے مقصد سمجھتے ہیں وہ دوسروں کی نسبت کچھ فائدہ رکھتے ہیں۔یہ بات آسان ہو سکتی ہے کہ خُدا کے ارادوں کی تابعداری کرنے کے ئے اپنی خواہشات کو چھوڑنا،اگر وہ پہلے ہی خُدا سے دُور د کیھتے ہیں کہ اُن کی زندگی کے مقاصد بے فائدہ ہیں۔بد قسمتی سے،بہت سارے لوگ لوقا 7 باب کی 30 ایت میں موجود فرسیوں کی ماند ہیںجو اپنے ئے خُدا کے مقصد کو رد کرتے ہیں۔
واعظ کو مختلف زاویوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔
اس کتاب کو جنونی آدمی جو کام کا بے حد شوقین ہو، یا لوگوں کے ئے مکمل حکمت اور وجود ہستی کے عقلی نتجہ کے کام کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
سوال:ئنے عہد نامہ میں واعظ کا حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا ہے؟
جواب:اس کے موجود ہونے کی بابت کو شرائط لاگو نہیں ہیں واعظ خُدا کے بغیر بے مقصد زندگی کی بابت غیر معمولی کتاب ہے،جبکہ نئے عہد نامہ خاص کر خُدا کے ساتھ زندگی کی بابت بات کرتا ہے اور واعظ میں اسیا نہیں ہوتا۔
تا ہم ،واعظ کا برائے راست حوالہ نہیں پایا جاتا، تو بھی اس کی بہت ساری تعیلم دوہعائی جاتی ہے۔مثلا یسوع نے کہا کہ ہمیں دُعا میں بک بک نہیں کرنا چاہیے [متی 6 باب کی 7 ایت اور واعظ 5 باب 2 آیت]۔ہولس نے کہا دولت سے محبت کرنا تمام برائیوں کی جڑ ہے [تھمقیس 6 باب 10 آیت واعظ 5 باب کی 2 آیت ]۔ ہمیں جوانی کی خواہشوں بچنا چاہیے [2 نتمھیس 2 باب 22 آیت واعظ 11 باب 10 آیت] ہم جو بوتے ہین وہی کاٹتے ہیں
[گلہتوں 6 باب 7 آیت واعظ 11 باب کی 1 آیت سے] سب ایک ہی بار مرتے ہیں [عبرانیوں 9 باب کی 2 آیت واعظ 3 باب کی 2 آیت سے ]۔ جیسا کہ گلسٹسیر اور ہو لکھتے ہیں،آیا کس قدر،کتاب کا حوالہ ہرگز اس باب کا تعین نہیں کرتا کہ یہ الہامی ہے یا نہیں"۔
سوال:واعظ میں سے،اس کتاب کا خاکہ کیا ہے؟
جواب:واعظ کی کتاب کو بہتر طور پر ترتیب نہیں دیا گیا۔بعض مفسرین کے خیال میں واعظ 6 باب کی 7 آیت سے 12 آیت اور 12 باب کی 8 آیت ،اور 12 باب 9 سے 14 آیت کو تین مختلف نتائج ہیں۔ دوسروں کے نزد یک 12 باب مکمل طور پر ایک نتجہ ہے۔واعظ کا جدید اور عام خاکہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔
لطف اندوز کا خاکہ یہ ہے:
1 باب 1 آیت،2 باب 26 آیت،2 باب 24 سے 26 آیت لطف اندوز ہونے کی بابت بات کرتی ہے۔3
باب 1 آیت 5 باب 20 آیت 5 باب 18 سے 20 آیت لطف اندوز ہونے کی بابت بات کرتی ہے۔
6 باب 1 آیت،8 باب 17 آیت ۔8 باب کی 15 سے 17 آیت لطف اندوز ہونے کی بابت بات کرتی ہے۔
9 باب کی 1 آیت 11 باب 10 آیت 11 باب کی 7 سے 10 آیت لطف اندوز ہونے کی بابت بات کرتی ہے۔
12 باب ۔۔خاتمہ کتاب
دو حصوں پر مشتمل خسکہ یہ ہے۔
1 باب 3 آیت،11 باب انسانی گھمنڈ پر نظم
1 باب 12 آیت، 6 باب 9 آیت انسانی کار نامے کے لا حاصل کو ظاہر کرتی ہے۔
6 باب 10 آیت،11 باب کی 6 آیت انسانی حکمت کے لا حاصل کو ظاہر کرتی ہے۔
11 باب کی 7 آیت 12 باب کی 14 آیت اپنی زندگی سے خوش ہونا اتنا مختصر ہے جتنا کہ ہو سکتا ہے،اور یہ خُدا کی طرف سے تفہ ہے۔
تا ہم، اس کو ایک کلا سیکل موسیقی کے ماہر کا گیت بنانا سمجھا جا سکتا ہے شاید وہ مختلف حرکات رکھ سکتا ہے،مگر اُس کے خلاصہ وہی ہو سکتے ہیں جو کاریگری کی بنیاد پر دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں،نہ کہ عقلی خاکوں پر سلیمان پر حیرت نہیں ہوگی کہ بحیث مصنف سائس، محبت کی شاعری کا،امثال اور نہ کیسب کا تباد لہ کرنے والا آرٹ کے حصوں کو اور عقل کو آپس میں ملاتا ہے،اور دونوں خاکے مناسب طور پر درست ہو سکتے ہیں۔
سوال:کیا واعظ میں الامی اثرورسوخ پایا جاتا ہے،جس کو یہود یوں نے سلیمان کی نسبت بعد کے دور میں اپنایا تھا؟
جواب:پہلے تین حقائق پھر تین امکان۔
حقائق:ماہر لسانیات سلیمان کی تحریروں پر دلائل دتیے ہیں۔جبکہ ایک رجعت پسند میسی عالم [ڈی لی زیچ] نے واعظ میں 96 "ارامیک"زبان کے الفاظ تلاش کئے،رجعت پسند میسی عالم ہینگٹن برک نے صرف 10 تلاش لئے۔سلیمان کی تحریریں مثالی ہیں جو 10 صدی عبرانی دستاویزات کی نسبت 5 صدی عبرانی دستاویزات کے قریب تر ظاہر نہیں ہوئیں۔
1۔اس کو سنتاشی انداز میں نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اس میں علم الاصورت اور ارامیک زبان کا اثر ظاہر پوتا ہے،جس کو غالبا سلیمان نے ابی بعل کے بیٹے حادام سے دوستی رکھتے ہوئے سکھا جو کہ فنیقیا کے شہر فونشیشن کا بادشاہ تھا۔
ستائشی عبرانی کاتب نے شاید ستائشی انداز کو جدید کیا ہو گا۔
3۔مصنف نے کبھی نہیں کہا کہ وہ سلیمان ہے،تا ہم مگر داود کے بیٹے کا ہروشیلم میں حکومت کرنے کامطلب یا تو سلیمان ہے یا پھر اس کی نسل میں سے کوئی اور۔
سوال:کیا ایسا لگتا ہے کہ واعظ کی کتاب 300 یا 200 قبل از میسح میں لکھی گئ؟
جواب:یہ یقنا پہلے دور میں لکھی گئ،ڈیڈ سی سکرولز میں واعظ کے ابتدائی حصے 2 صدی قبل از میسح میں لکھے گئے تھے۔ تا ہم، ایسی موو یہ بات بتانا بھول گیا کہ واعظ یونانی تورات کے ترجمعہ میں سے ہے،جس کا ترجمعہ 285 سے 160 قبل از میسح میں کیا گیا تھا۔یہ بات حیران کن ہوگی کہ ماسوائہٹک ٹسکٹ،ڈیڈ سی سکرولز ،اور تورات کے یونانی توجمے میں یہ کتاب جود تھی مو ،اور اس کو ابتدائی طور پر 300 اور میسح میں لکھا 200 قبل از گیا تھا۔
سوال:واعظ 1 باب کی 1 سے 2 آیت میں سے،کیا مصنف کا نام "واعظ"[یعنی مبلغ] تھا یا یہ اُس کا حقیقی نام تھا؟
جواب:جبکہ چند لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اُس کا حقیقی نام تھا،لیکن یہ کسی اور جگہ پر کہیں بھی حقیقی نام کے طور پر استمال نہیں ہوا زیادہ تر امکان یہی ہے کہ وہ ایک واعظ [مبلغ] تھا اور اس کے ساتھ بادشاہ بھی جو داود کا بیٹا تھا۔ یہ سلیمان ہی ہو گا۔ 127 زبوربھی سلیمان سے تعبیر کیا جاتا ہے،اور اس میں خُداوند کے بغیر کرنا، لاحاصل ہے ہونے کی بابت بات کی جاتی ہے۔
سوال:واعظ 1 باب 2 آیت اور 11 باب کی 8 آیت میں سے،جبکہ ہر ایک چیز باطل ہے،کیا یہ بات بائبل میں شامل ہوتی ہے؟
جواب:واعظ 1 باب کی 3 آیت پوری کتاب پر مکمل پورا اترتی ہے۔ہر ایک بات سورج کے تلے مطلب ہے کہ کام خُدا کے بغیر یا ابدی تناظر کے بغیر سرانجام پاتے ہیں۔ در حقیت یہ سب باتیں باطل ہیں۔ایوب 21 باب 23 سے 26 آیت ،کہ اُن کے بدنوں کی منزل یکساں ہے بیان کرتی ہے۔
سوال:واعظ 1 باب 4 آیت،زمین کیلے ہمیشہ قائم رہتی ہے؟جبکہ 2 پطرس 3 باب کی 10 آیت کہتی ہے کہ زمین جلائی جا ئیگی،اور مکاشفہ 21 باب کی 1 آیت کہتی پے کہ زمین جاتی رہے گی؟
جواب:عبرانی لفظ زمین اپنے اندر بہت سارے مطلب رکھتا ہے، جیسا کہ انگریزی میں زمین کے ئے ہیں ۔زمین کا مطلب مٹی ہو سکتا ہے،علاقہ ہو سکتا ہے،دُنیا ہو سکتا ہے،اور جو کچھ سطح کے تلے ہے وہ ہمیشہ قائم رہتی ہے،مگر خُدا جیسا اس نے مفنیاہ میں فرمایا کہ وہ جس قدر ہو مسکا زمین کو نابود کرے گا۔مکاشفہ 21 باب کی 1 آیت میں نئ زمین کی بنیاد اس بات پر ہوگئ جوکچھ پرانی زمین پرباقی رہ گئ ہوگئ۔
سوال:کیا واعظ 1 باب کی 5 آیت ظاہر کرتی ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے؟
جواب:پہلے ایک حقیقت جو کہ اس کے جواب کا حصہ نہیں ہے اور پھر اس کا جواب جب جدید اور قدیم لوگ روز مرہ کی زندگی کی بول چالکا استمال کرتے ہیں،جیسا کہ سورج کے نکلنے اور ڈھلنے کی بابت،تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ علم فلکیات کی بابت ہے۔ تا ہم ،حقیقت اس آیت سے منسک نہیں ہے،جب کہ واعظ 1 باب کی 5 آیت کا مضمون سورج اور اُس کا مدار ہے۔سلیمان ،ابتدائی سانسی طریقہ سے ،ٹھیک طور پر آسمان میں سورج کے راستہ کو بیان کرتا ہے۔یہ بات سچ ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے کہ سلیمان نے اس بات کو جانا کہ در حقیقت زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نہ کہ اس کے الٹ ،وہ ابھی تک دعست طور پر سورج کے اجرام فلکی کے راستہ کو بیان کر رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ" اگر کوئی شخص اس آیت کا ترجمہ موجودہ سانسی اصطلاح کے اعتبار سے کرے تو یہ تب بھی سچی ثابت ہوتی ہے،جبکہ ہم علم فکیات کو اور طبیعات کو اصنافیت نظریہ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں نہ مخص صرف 19صدی کے نظریہ سے ۔سائندان بے شک آج بھی کیہ سکتے ہیں کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ یعنی زمین کے مدار کے احاطہ سے۔
سوال:کیا واعظ 1 باب کی 6 آیت ظاہر کرتی ہے کہ ہوا جہاں سے آتی ہے وہاں واپس چلی جاتی ہے جیسا کہ سورج؟
جواب: واعظ کا مصنف سچا ہے،مگر یہاں پر وہ بہت زیادہ بہم سا ہے،غزلبا وہ ہوا کی بابت کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔ تا ہم اس کا نقطہ نظر سانسی اعبتار سے آج بھی قابل قبول ہے۔زمین "ہوا کا رکھنا یا کھونے کی بابت کوئی بھی حاصل نہیں رکھتی ہے جب علاقائی ہوا کا دباو گرتا ہے،تو یہ اُس وقت کھونا پورا ہو جاتا ہے جب ہوا کا دباو بڑھتا ہے۔واعظ 1 باب کی 6 آیت کو مزید سانسی طریقہ سے تلخصیں یُوں کرتے ہیں کہ دُنیا بھر میں ہوا اور آندھی مضبوط طور پر توازن میں ہیں۔
سوال:واعظ 1 باب کی 7 آیت ،کیے دریا'جہاں سے نکلنا وہاں واپس پھر چلا جاتا ہے؟
جواب:واعظ 1 باب کی 7 آیت مخص زمینی پانی کے سلسلہ کا ایک سادہ بیان ہے۔حتی کہ آپ اس بات پت یقین نہیں رکھتے کہ واعظ کی کتاب خُدا کی طرف سے الہام نہیں ہے،تو بھی آپ کو یہ تسیلم کرنا پڑتا ہے کہ یہ میسح سے پہلے 1000 سال کی ثقافت کا ایک عقل پر مبنی مشاہدہ ہے،جو کہ عام تھا،جو کہ بعد کے چند سالوں کے لے سستے ترین لوہے کے اوزار سے تھا۔
سوال:واعظ 1 باب کی 9 سے 10 آیت میں سے ،ہماری تکنیکی دور میں،کیا واقعی سورج کے تلے کوئی نئ چیز نہیں ہے؟
جواب:معاشرتی اور تکنیکی لحاظ سے بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔تاہم ا نسان کے لئے اپنے نئے ہونے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ٹکینالوجی سے ماولدا کےواعظ زندگی کے مطلب کے لحاظ سے سب سے اہم مرکزی سوال تبدیل نہیں ہوا۔ خدا کے بغیر زندگی ویسے ہی آج بھی باطل ہے۔ جیسے پہلے کے دور میں ھتی۔ چاہے لوگ ےسوع کے وقت میں گھروں میں رہتے ھتے،یا آج کے دور کے ائیرکنڈیشز گھروں میں ،اگر بدی معاملات یعنی روح کی بابت موزانہ کیا جائے تو سب کچھ غیر ا ہم لگتا ہے۔ اور اسی اثنا میں کچھ تبدیل نہیں لگتا ہے۔
سوال: واعظ 1 باب کی 11 آیت میں سے ،جب کہ پرانی چیزوں کی یاد نہیں رہتی ،تو پھر تاریخ کی بابت کیا خیال ہے؟
جواب: واعظ کا مطلب مصنف یہ بات نہیں بیاں کر رہا کہ کوئی بھی شخص ماضی بابت کچھ بھی نہیں جانتاہے،کیوں کہ مصنف خود بھی اپنی تحریر میں اپنے ماضی کے واقعات کو جبکہ ایک شخص ج مرتا ہےتو اس دینا سے اس کے ذاتی علم کا خاتمہ ہمشہ کے لئے ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف تاریخی طور پر بہت بڑی اکثر یت سلطنتوں اور بادشاہوں کی اہم معلومات جو نہ صرف ختم پو گیئں بلکہ ان کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہی۔
سوال : واعظ 1 باب 12 آ یت میں یہاں عبرانی میں اسکا واضح مطلب کیاہے؟
جواب: کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ اس کا مطلب ہے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔ (اور زیادہ عرصہ نہیں ہوں) بادشاہ۔" تاہم حا لت بیان میں ایسا ہوسکتا ہے۔جیسے اس کا ترجمعہ ہوا"میں ۔۔۔۔۔۔۔ بادشاہ ہوں۔ (اور اب بھی ہوں) " اس طرح واعظ 1 باب 12ایت یہ سوال بیان نہیں کرتی کہ مصنف کتنا عر صہ بادشاہ رہا۔
سوال : واعظ 1 باب 13 آیت اور 4 باب 8 آیت میں اسکا عبرانی میں کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
جواب: مشقت میں مبتلا" کیلئیے عبرانی لفظ (را) کے مفہوم کا دائرہ کار بہت و سیع ہے۔ اسکا مطلب برائی ، مفلسی، دکھ ، مایوسی ، وغیرہ ہو سکتا ہے۔عبرانی لفظ " جومشقت کے لئے استمال ہوا ہے کا مطلب "روزگار" معاملہ" بھی ہو سکتا ہے “inyan
سوال: واعظ 1 باب کا آیت میں ،کیا مبلغ (واعظ) نے اپنی حکمت پر فخر کرسے مسائل کا سامنا کیا؟
جواب: سلیمان نے جو کیا وہ سچ تھا، اس نے حکمت کو پایا۔لیکن یہ ممکن ہے اس نے اپنی حکمت پر فخر بھی کیا۔ یہ دوغلا کردار ہے وہی شخس امثال 3باب 5سے7 آیت میں لکھتا ہے" سارے دل سے خدا وند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اپنی نگاہ میں دانشمندنہ بن ۔۔۔۔۔۔۔" اور اس کے بعد سلیمان اپنی نگاہ میں دانشمند بنا اور اپنی ہی حکمت پر تکیہ کیا۔( بالا آ خر سلیمان نے دیکھا کہ حکمت کی صداقت اس سے بہت دور تھی واعظ 7 باب 23۔24 آیت میں )
یہ ایسی صورت حال ہے "جو سلیمان نے کہا،اور کیا نہیں"۔ہمیں وہ سُننا چاہیے جو سلیمان کے وسیع خُدا نے کہا،اور وہ سکیھا چاہیے جو بائبل میں ہمیں مخلصانہ انداز میں اُسکی غلطی سے سکھاتی ہے۔
سوال:واعظ 1 باب 17 آیت اور واعظ 2 باب 12 آیت میں 'کیوں کوئی ایماند اپنا دل دیوانگی اور جہالت کو جاننے کیلے لکاے گا؟
جواب:
دراصل الیمان حکمت کو جاننے کے لئے اس کا مطالعہ کرنا چاہتا تھاکہ یہ کیا نہیں ہے۔تا ہم'سلیمان [اور ہمیں ] مخص اُنکی بابت سکھنے کے لئ یہ کام نہیں کرنے چاہیے۔کیا آپ پہلے سیکھنا چاہتے ہیں۔کیا یہ ایسا نہیںکہ آپ بنا پیراشُوٹ کے ہوائی جہاز سے چھلانگ لگا ئیں؟یہ آیت ،اور اسی طرح بائبل کی دُوسری آیات [خاص طور پر پُرانے عہد نامہ میں] ہمیں کوئی ایسا حُکم نہیں دیتی ،بلکہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کیا سیکھ سکتے ہیں جو اُس سے دُوسروں نے کیا۔
سوال:واعظ 1 باب 17 آیت میں 'کیا یہ اچھی بات ہے کہ آپ اپنا دل حکمت کو جاننے پر لگائیں؟
جواب:حقیقتا' نہیں۔ سلیمان نے ایسا کیا'لیکن سلیمان اپنی جسمانی زندگی کے لئے خُدا کا تابعدار نہ تھا۔ہمیں اپنا دل خُدا کو دینا چاہیے اور حکمت کا سیکھنا اور استمال خُدا کی خدمت میں ہونا چاہیے۔ تا ہم خُدا سے پیار کرنا اور اُسکی تابعداری کرنا ہماری پہلی خواہش اور مقصد ہونا چاہیے نہ کہ حکمت۔
سوال:واعظ 1 18 آیت میں' کیونکہ بُہت غم ہے'پھر امثال 3 باب 13 میں کیوں یہ خوشی کا باعث ہے اور کیا ہمیں دانشوار بننا چاہیے؟
جواب:سُورج کے نیچے ،[یا خُدا سے الگ ] حکمت بے فائدہ ہے۔نہ صرف یہ بے فائدہ ہے ،بلکہ، ہر چیز کے متعلق جوز میں پر ہے جاننا'اور مُوت کا علم یہ صرف غم کا سبب ہے۔عام خیال" جہالت نعمت ہی"سچ نہیں ہے،لیکن خُدا کے بغیر جہالت حکمت کی نسبت کم غم دیتی ہے۔
بائبل ہمیں نہیں سکھاتی کہ ہمیں فقط حکمت حاصل کرنا چاہیے جبکہ دُنیاوی عقل اور خُدا کی حکمت میں بُہت فرق [یسعیاہ 55 باب 8 آیت ،1 کرنھہتوں 1 باب 19 سے 25 آیت]ہے۔[امثال 9 باب میں]ہمیں خُدا کی حکمت کے طالب ہونا چاہیے۔ تو بھی ہم بیوقوف ہیں 'اگر ہم سوچتے ہین کہ خُدا کی تمام حکمت کوسیکھنا ایک عمل ہے جس کو ہم اس زندگی میں پورا کرئینگے۔
سلیمان امثال 3 باب 5۔7 آیت میں لکھتا ہے"سارے دل سے خُداوند پر توکل کر اور اپنے مہم ہی پر تکیہ نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی نگاہ میں دانشمندنہ بن"۔
سوال:واعظ 2 باب 2 آیت میں۔۔ یہاں ہنسی کو دیوانہ کہا' کیا میسحوں کو کبھی ہنسنا نہیں چاہیے؟
جواب:نہیں ۔صرف کچھ ہنسی دیوانگی ہے۔ہر طرح کی ہنسی قابل معافی نہیں ہے۔ لیکن واعظ 3 باب 4 آیت کہتی ہے،ہنسنے کا ایک وقت ہے۔یسوع نے بعض ہنسی پر تنقید کی ہے [لوقا 6 باب 25 آیت] لیکن لوقا 6 باب 21 آیت میں مبارک لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔زبور 126 باب 2 آیت ،ایوب 8 باب 21 آیت بھی بیان کرتی ہے۔کہ راستباز خوشی کے ساتھ ہنیس گے۔
سوال:واعظ 2 باب 3 آیت میں، کیا میسحوں کو مصنف کی مثال کی پیروی کرنی چاہیے 'اور کیا اُنہیں مے پینی چاہیے؟
جواب: نہیں ۔۔ زنان خانہ اور مادیت میں،واعظ میں بہت ساری چیزون کا ذکر کیا گیا ہے،جو آسمان کے تلے ہیں مگر ہمیں اُن کی پیروی نہیں کرنی ہیں نہ ہی کبھی ہمیں اُن کی پیروی کرنے کو کہا گیا ہے۔
سوال:واعظ 2 باب کی 10 آیت میں سے،کیا ایک ایماندار کو اپنے سارے دن سے خوشی منانے چاہیے؟
جواب:نہیں ۔جبکہ ایک ایماندار کو گناہ آلودہ خوشی میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔جیسا کہ نشہ کرنا ،اور یہ اسی چیز کی بابت باب کر رہی ہے اس کے جواب میں دو اہم نکات قابل غور ہیں۔
1۔یہ جائز خوشیاں حاصل کرنے کا حوالہ ہے،جیسا کہ مادی چیزوں کو خریدنا،
جن کی بابت خُدا کی شریعت خاص طور پر مسنع نہیں فرماتی ہے؟
2۔اور یہ بھی گناہ ہے کہ خوشی حاصل کرنے کے تعاقب میں زندگی بسر کی جاے،
جبکہ خوشیاں چاہیے بدکار نہ بھی ہوں ۔ ہماری زندگی میں یہ ہونا چاہیے کہ ہم خدا کی نزدیکی حاصل کرنے کے طالب ہیں۔
سوال:کیا واعظ 2 باب کی 14۔ 15 ثابت کرتی ہے کہ موت کے بعد کچھ نہیں ہے؟
جواب: نہیں ،یہ مخص یوں کہتی ہے کہ موت کا واقعہ سب پر آنا ہے۔ آسمان کے تلے جو لوگ مر جاتے ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہتے ہیں۔ موت کے بعد
سوال:2 باب کی 16 آیت ،کس طرح احمق کی نسبت دانشوار کی یاد موت کے بعد باقی نہیں رہتی ہے؟
جواب:تین امیتازی طریقے ہیں۔
متوقی۔اُن لوگوں کی براہ راست یادیں جو اس دُنیا میں سے چلے گے ہیں اور مر گے ہیں۔
دوسرے لوگ۔ جو لوگ اس دُنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور وہ اُن کی یاد مرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ تاریح میں ،قدیم نہد ہوں کی بابت بہت سارے حقائق ہیں،جن کی بابت لوگوں کو اس وقت جاننا نہایت ہی ناگریز یے،یہ حقائق بھلاے چکے ہیں اور بے کار ہیں مگر آثار قدیمہ کے ماہر لوگوں کے لئے مفید ہیں۔
ابدیت:راستباز اور غیر داستباز دونوں کے لئے موت کے بعد اس دنیا کا علم ،حکمت،تکنیک باطل ہیں۔
سوال:واعظ 2 باب کی 17، 18، 20، 23 آیت میں سے ،کیا ہمیں زندگی سے نفرت کرنی چاہیے؟
جواب:واعظ کے نقطہ نظر میں غورو فکر "آسمان کے تلے زندگی کا ہونا ہے۔با الفاظ دیگر،خُدا کے بغیر زندگی مادہ،یہ ہستی ہے۔واعظ کبھی نہیں کہتا کہ ہمیں زندگی سے نفرت کرنی چاہیے،بلکہ مصنف یہ کہا رہا ہےکہ وہ زندگی سے نفرت کرتا ہے۔امثال 8 باب کی 35۔۔36 آیت ان کی بابت بہتر طور پر بیان کرتی ہے جو زندگی کو پاتے ہیں۔تا ہم خُدا کے بغیر آسمان کے تلے زندگی سے نفرت کرنا آسان ہے۔یہ عجیب خیال ہے یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں پر بدھ مت میسحت کی تعیلم " تقریبا "یکساں ہیں۔ بدھ مت کے اٹھ نکات ہیں پہلا نقط یہ ہے کہ زندگی دُکھ درد ہے۔جبکہ میسحت کہتی ہے کہ میسی زندگی عظیم ہیںباوجود دُکھ درد برداشت کرنے کے، میسحت اور بدھ مت اتفاق کرتے ہیں کہ خُدا کے بیغر زندگی دکھ درد میں ہے اور رہے گی۔
سوال:واعظ 2 باب کی 21 آیت ،اس آیت کا حقیقی متن کیا ہے کہ بیٹے میراث میں پائگا یعنی کیا اور کیا نہیں؟
جواب: شاید وہ زاتی طور پر آپنے بیٹے کی بابت حیران تھا،یعنی مستقبل کا بادشاہ
باآخر بیوقوف نکلا اور اُس نے اپنی سلطنت میں سے 10 قبلیوں کو کھو دیاRehoboam. اور Rehoboam
سوال:کیا واعظ 2 باب کی 24 آیت دکھاتی ہے کہ کھاوپیو اور موج اڑاو کا نظریہ سچا ہے؟
جواب:نہیں واعظ 2 باب کی 3 آیت کی بحث کو دیکھں ۔1 کرنتھیوں 15 باب کی 32 آیت کیتی ہے خُدا کے بغیر ،بہت سارے خیاو نہیں ہیں جبکہ کھاو پیو موج اڑاو اتنا ہی اچھا انتخاب ہے جتنا کوئی اور ۔یہ آیت بیان کرتی ہے کہ کھانا پینا خُدا کی طرف سے، اور آسمان کے تلے خُدا کے بغیر ہمارے لئے واقعی ہی کچھ بھی ایسا نہیں ہے کہ ہم سواےکھائیں اور پیں۔
سوال:واعظ 2 باب کی 3 آیت میں کہا جاتا ہے کہ پیدا ہونے کا ایک وقت ہے اور مرنے کا ایک ہے ،جب آرام کی موت جس میں ڈاکڑ جان بوجھ کر مریض کو مرنے میں مدد فراہم کرتا ،توں کیا یہ اخلاقی اعتبار سے درست بات ہے؟
جواب:ضروری ہے کہ ہم موت کی اقسام کی بابت امیتاز پیدا کریں،اور پھر دکھیتے ہیں بائبل کیا کہتی ہے۔
آرام کی موت کی تعریف،یونانی الفاظ کا مطلب "اچھی آرام کی موت "جان بوجھ کر موت کا سبب ایسے عمل یا وہ شخص جس کی زندگی کا خاتمہ یقنی ہو جاے،اور یہ خیال کیا جاےکہ ایسا کرنا اخلا قنا غلط نہیں ہے۔آرام کی موت اخیتاری یا مریض کی طرف سے غیر اخیتاری حصہ ہو سکتا ہے، اور فی الفور موت ، یا آرام آرام سے علاج کے ساتھ، کھانے کے ساتھ، پانی کے ساتھ اور گرمیش کے ساتھ بھی موت ہو سکتی ہے۔ بے شک ،کس طرح، کوئی شخص بیغر خواہش کے وجود کا بیان کرتا ہے،چاہیؑے ایک ہو یا زیادہ کی بابت ،یہ ایک وسیع ،نظر کا موضوع ہے۔غیر اخیتاری طور پر تیزی سے سکون دہ موت، وجود کی خواہش نہ ہونا نازی جرمنی میں وسیع طور پر قابل عمل تھی،آج ہم اس کو لوکاسٹ کہتے ہیں۔یوگنڈا، کمیونسٹ چین میں،اور کمیونسٹ روس میں اُن کے آپنے ہولو کاسٹز ہیں۔جان بوجھ کر غیر ارادی طور پر جلد موت صرف خاص مجرمون کو دی جاتی ہے،مگر عمر میں زیادہ ہونا یقنا مجرم ہونا نہیں ہے ۔
آج کل ہالینڈ میں جان بوجھ کر آرام کی موت دینے کا قانون وسیع تر مطلب میں دیکھا جاتا ہے۔تا ہم، جب کہ ڈاکڑ حضرات ارادی موت کو سر انجام دینے کا حق رکھتے ہیں،وی بکرلٹ آکر سچن رسپونس تو فزلیش اسٹیڑ سو سا ئیڈ صحفہ نمبر 12/13 کہتا ہے کہ ہالینڈ کا مطالہ نے رہربڑ ہن ڈن ،کرس روٹین فرانس، اور فری بگ نیو ذی لیک "فزلیشن اسٹیڑ مو سائیڈ اور یوتھنسیا ان وانیرولینڈ "جنرل آف الرہکن میڈیکل السیوسی الیشن 277 [1977] صحفہ نمبر 1720۔۔۔ 1722] دیکھا کہ ارادی موت کی نسبت غیر ارادی طور پر موت کا زور زیادہ ہے۔یہ بظاہر تباہی کا راستہ ہے یعنی ارادی سے غیر ارادی موت کا جب کہ اس کے تناثرہ شاز نادر یہ اس کے خلاف دعخواست دیتے ہیں۔
موت کی اجازت کو بھی ،جامد ارادی موت کہا ھیا تھا یہ بھی کسی قریب المرگ شخص کے ئے ہمددری ہو سکتی ہے،جو تھوڑی درد کے ساتھ جلد موت کا خواہ ہو۔اس کا مخص مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مزید کوئی خاص قسم کی ادوایات نہیں لینا چاہتا۔ جامد ارادی موت بھی ظالم ہو سکتی ہے۔یعنی اُن کے ئے جو مرنے کی خواہش نہ رکھتے ہوں،اور اُن کے ئے جو قریب المرگ نہ ہوں،ہمیں دوسروں لوگوں کو مضص خوراک کی کمی کے بدلے مرنے نہیں دینا چاہیے ۔ہم کون ہوتے ہیں جو یہ کہیں کہ اس شخص کو اب زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔خاص کر اس وقت جب وہ مردیا عورت زندہ رہنا چاہیتا ہو۔بائبل میں مشعمون،ساول اور یہودادہ اسکر یوتی نے خود کشی کا عمل بھی کیا ہے۔ابتدائی کلیساء میں،رکٹین ٹست [330۔۔۔260 اور] از میسح] داڈیوائن انٹیٹوٹز 3 باب 19 آیت میں لکھتا ہے کہ خود کشی جرم نہایت ہی بُرا عمل ہے اتنا کہ جسے آپ کسی شخص کو قتل کرتے ہیں۔ابتدائی کلیا،یوسبیس [325 بعد از میسح]بیان کرتا ہے کہ کس طرح چھ میسحیخواتین تین مختلف مواقعوں پر بے آبرو ہونے سے بچینے کے ئے خود کسی کرتی ہیں [واعظ کی تاریخ 12 باب اور 14 باب]
مختصرا،
بائبل قتل کی مخالفت فرماتی ہے، جس میں خود کشی اور لوگوں کی ہر طرح کی ارادی موت کی اقسام بھی شامل ہیں ۔بائبل میں جس کو ارادی ،جامد آرام کی ممالعت نہیں ہے سواے ڈاکڑ درست ہدایات کے یا مریض کو قدرتی اعتبار سے مرنے دیا جاےؑ۔جبکہ بائبل خود کسی کو جائز نہیں کہتی ،اگلے سوال کو دیکھیں کہ بائبل موت کی بابتکیا کہتی ہے،
حتی کہ آرام کی موت غلط ہے،میسحی فصیلے بشمول میڈیکل علاج فرسود،باتوں سے کہیں زیادہ آگے ہو سکتے ہیں۔
سوال:واعظ 3 باب 2 آیت میں،بائبل مرنے کی بابت کیا تعلیم دیتی ہے؟
جواب:جبکہ بائبل آرام دہ موت کی اصطلاح کو استعمال نہیں کرتی ہے۔ہم اس کو موت متعلقہ 22 باتوں سے سیکھ سکتے ہیں جو کہ یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدریںمرتے وقت سب کچھ مختلف ہے، دُنیا ہمیں کھوکھلے اور گُمراہ کن فلسفے پیش کرتی ہے،لیکن ہمیں اس کی پیروی کرنا چاہیے جو ہمیں خُدا سکھاتا ہے[گلسیوں 2 باب 9 آیت]
1۔ کرنتھیوں 1 باب 19 تا 23 :یوحنا 10 باب 16 آیت] ۔صرف وہ نہ کریں جو ہماری نگاہ میں ٹھیک ہے [قضاۃ 21 باب 25 آیت]۔
ہم قدر کے حامل ہیں کیونکہ تمام نبی نوع خُدا کی شبیہ پر بنے ہیں[پیدائش 1 باب 26 تا 27 آیت :زبور 8 باب 4 تا 5 آیت]۔ہم عیجب و غریب اور حیرت انگیز طور سے بنے ہیں[زبور 139 باب 14 ]۔
ہمیں بزرگوں کا ادب کرنا ہے [احبار 19 باب 32 آیت ،1 تیھتیس 5 باب 12 آیت]
ہمیں مدد کرنا ہے [نہ کہ قتل] یتموں ،بیواوں،بیماروں،قیدیوں اور دُوسروں نا خوشگوار سماج کو زیر غور لانا چاہیے۔[یعقوب 1 باب 27 آیت، ابشتنا 15 باب 11 ؛ زبور 68 باب 5 آیت؛ متی 25 باب 35 تا 36 ،42 تا 44؛ زکریا 7 باب 9 تا 10 آیت؛عبرانیوں 13 باب 13 آیت]
ہمیں قتل نہیں کرنا چاہیے، اور وہ لوگ جو بااراتا قتل کرتے ہیں اُن کو سزاے موت دی جاسکتی ہے [پیدائش 9 باب 6 آیت ؛خروج 20 باب 13 آیت ؛21 باب 12 آیت ؛اتشنا 5 :17]
قتل جائز قانونا سزاے موت اور جنگ پر مشتمل نہیں ہوتا ہے ۔[پیدائش 9 باب 6 آیت ؛ خروج 21 باب 12 آیت ؛زبور 144 باب 1 آیت ؛اتشنا 20 باب [تا 18 آیت] اپنے تحفط میں مارا جا سکتا ہے [خروج 22 باب 2 آیت]۔
جانوروں کو مارنا اور شکار کرنا مناسب ہے [اعمال 10 باب 10 تا 15 ؛احبار 17 باب 13 آیت ؛خروج ۔۔ اتشنا]، لیکن ہمیں اُن پر ضالم نہیں بننا ہے۔[امثال 12 باب 10 آیت ]۔
میسحوں کو خُدا کی تسلی کو پیش کرنا چاہیے [2کرنھتیوں 1 باب 4 آیت تا 6 آیت ) اور سبھوں کے ساتھ ہمدرد بننا چاہیے(کلیسوں 3 باب 12 آیت 1: کرنتھیوں 13 باب 4 آیت : افسیوں 4 باب 32 آیت :امثال 11باب 16تا17 آیت :1 باب تھسلتیکوں 5باب 15 آیت ) خدا کی محبت میں ہمیں ہمیشہ برداشت کرنا ہے۔ (زبور107 باب 1تا2 آیت)
کوئی شخس بھی اپنا مال دولت اپنے ہاتھ لیں لے جا سکتا (لوقا 12 باب 18 تا 21 آیت زبور 37 باب 7تا 10 ) پس اپنے خاند ان اور دوسروں کے لیئے مہیا کریں ( ا مثال 13 باب 22 آیت 17 تا باب 2 آیت : 19 تا باب 14 آیت :زبور 17 باب 14 آیت : تیمھتیں 5 باب 3 تا 5 آیت 16،8آیت ) اور خدا کے کام کئیے دیں (امثال 3باب 9 آیت : 1 کر نھتیوں 16 باب 2 آیت : 2 ۔کر نھتیوں 8 باب تا 1 تا 8 آیت : 9 باب 6 تا 12 آیت : حجی 1 باب 3 تا 11 آیت) ہمیں مات کا سامنا کرتے وقت بے خوف ہونا چاہئیے( زبور 23 باب 1 آیت :رومیوں 8 باب 35 تا 39 آیت : مکا شفہ 2 باب 11 ،13 آیت) اور خوع نہ کھائیں ( 1یوحنا 4 باب 8 آیت) کیونکہ زندہ اپنا مسیح ہے ارو مر نا نفع۔ فلپیوں 1 باب 20 تا 21 آیت) خدا سے دعا کےیں جب آپ قریب المرگ ہو( زبور 18 باب 4 تا6 آیت : 116 باب 3 آیت : 142 با : فلپیوں 4 باب 6 تا 7 آیت) ہم سکون خدا میں ہی پاتے ہیں ( زبور 62 با 1 آیت اگرچہ عام طور پر مدھوش نہیں بنتے ہیں۔ مگر نشہ مرنے والے کیلئے اچھا ہے( امثال 31 باب 6 تا 7 آیت )۔
فہم و فراست
ہر وقت' نہ صرف مرتے وقت؛حقیقی طور پر سمجھنا چاہیؑے کہ
خُدا ہماری زندگی کے تمام ایام کو پہلے ہی جانتا ہے [زبور 139 باب 6 آیت ]
خُدا کی راہ میں اُسکے مُقدسوں کی موت گراں قدر ہے۔ [زبور 116 باب 15 آیت]
خُداوند ایک خاص طریقہ میں اُن کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔
[زبور 145 باب 18 تا 20 آیت]
لوگ پریشان ہو سکتے ہیں جو کہ زندگی سے مایوس ہوں[2۔ کرنتھیوں 1 باب 8 تا 9 آیت] لیکن یہ خود کشی کا جواز نہیں ہوتا۔
بعض حالات میں' مصیبتں اور آزمائیش نتیجتا کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں
[یعقوب 1 باب 2 ایت ] اور ہم خُدا کو عظمت دے سکتے ہیں [2 پطرس 4 باب 7 آیت ]جیسا ایوب نے کیا۔ ہماری مُصیبتں مقابلتا آسمانی جلال سے کم ہوں گی۔ [1 پطرس 1 باب 6 تا 9 آیت ،1 کرنتھیوں 2 باب 9 آیت ]۔جبکہ اکثر ہم موجسدہ حالات میں خُدا کے مقصد کو نہیں دکیھتے ہیں [زبور 42 ،43، 74 ،79 ،88 :ایوب ]دُنیا کے آخر میں ہم دکیھں گے کہ خُدا ہمیں حالات سے نکالنے کیلے کسیے کام کرتا ہے۔[حبقوق 1 باب 1 تا 11 آیت؛ 1 باب 12 تا 17 آیت ؛2 باب ] ہم خُدا کی حکمت 'انصاف 'محبت اور رحم کو دکیھں گے کہ آسمان پر کوئی ماتم نہ ہو گا [مکاشفہ 21 باب 4 آیت]
مصیبت اور موت دونوں ظالم اور غیر منصفانہ ہو سکتے ہیں [لوقا 13 باب 1 تا 2 آیت 'حزقی ایل 13 باب 19 آیت ]،لیکن یسوع ہماری حالت سے واقف ہے۔کیونکہ اُس نے غیر منصفانہ حالات اور موت دونوں کا تجربہ کیا ہے۔
[زبور 22 باب 1 آیت ؛اعمال 3 باب 13 تا 15 آیت]
ہمیں میسح کے ساتھ رہنا چاہیے'لیکن زمین پر رہنے کی قدر کو جانیں۔
خُدا کو جلال دیں اور دُوسروں کی مدد کریں [فلپیوں 1 باب 22 تا 23 آیت ؛ 3 باب 12 تا 15 آیت؛ 2۔ پطرس 1 باب 5 تا 8 آیت ]۔
غیر میسحوں کے لئے'خُدا سست نہیں ہے' بلکہ وہ لوگوں کو توبہ کے لئے اور وقت دینا چاہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ اُمید
زمین پر گراے جانے سے پیشتر آسمان میں لوگوں کا مرنا اچھا اور طبعی نہ تھا۔
[ رومیوں 8 باب 20 تا 23 آیت ؛5 باب 13 آیت ؛1۔ کرنتھیوں 15 باب 22 آیت ؛ 1۔ کرنتھیوں 5 باب 42 تا 58 آیت]۔
البتہ' تمام چیزیں مل کر خُدا کے منصوبہ کا حصہ بن کر کام کرتی ہیں،اور اُن لوگوں کے لئے اچھی ہیں جو خُدا سے پیار کرتے ہیں۔ [افیسوں 1 باب 11 آیت ؛رومیوں 8 باب 28 آیت ]۔
آسمانی بادشاہت میں 'موت اور دُکھ نہیں ہیں [مکاشفہ 21 باب 4 تا 5 آیت ]۔
نتیجتا' ہمیں موت سے خوف زدہ نہیں ہونا یا اسے نظرانداز نہیں کرنا اور نا ہی ہر وقت اس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ جبکہ 'ایمانداروں کو آپنی زمینی زندگی اور موت کا جائز لینا چاہیے'جیسے یہ خُدا کے ساتھ ہمارے ابدی گھر اور تمام قابل حصول کائنات کے بہرین راہ عمل کا تکمیلی حصہ ہوں۔
سوال:واعظ 3 باب 3 آیت میں 'کیا حقیقت میں مار ڈالنے کا ایک وقت ہے؟
جواب:پودوں اور جانوروں کے مار ڈالنے کا ایک ضرور وقت ہے' لیکن یہ اس سے متعلقہ نہیں ہے جو آیت کیہ رہی ہے ۔
ہاں ،مار ڈالنے کا ایک وقت ہے 'جیسا کہ واعظ 3 باب 8 آیت میں جنگ کا ایک وقت ہے ۔
واعظ 3 باب 8 آیت میں 'کیا ایمانداروں کا عداوت کرنے کا ایک وقت ہے ؟
جواب:ہاں دو طرح سے
پرانے عہد میں اس وقت تک 'اس وقت تک ایمانداروں کو ہر کسی سے محبت کرنا سکھایا نہ گیا تھا ' بشمول اُنکے د شمنوں کے۔
ہر دور میں ایماندار گناہ سے عداوت رکھتے ہیں۔
سوال:واعظ 3 باب 13 آیت کیا ہر نوع سے لطف انداز ہو ؟
جواب:آیات کو اپنے بیان اُصول میں ڈھالنے کی کوشش سے پہلے واعظ کی لتاب کے مرکزی نکتہ کو جاننا بُہت اہم ہے ۔خصوصا واعظ 3 باب 13 آیت میں اور عموما واعظ کی تمام کتاب خُدا سے الگ زمین پر زندگی کے متعلق ایک واضح [اور پتر مُردہ ] بیان دیتی ہے ۔
سوال:کیا واعظ 3 باب 19 تا 21 آیت سکھاتی ہے کہ زندگی کے بعد کچھ نہیں ہے ۔
جواب:اس جواب سے متعلق تین اہم نکات ہیں۔
1۔ " کون جانتا ہے کہ انسان کی روح اوپر ثڑھتی اور کہ " ترجمے کی نجاے
"کون انسان کی روح کو جانتا ہے 'جو اوپر جاتی ہی یا "کا ترجمہ ہو سکتا ہے ۔
2۔ ترجمہ کو قطع نظر کرتے ہوےؑ واعظ کا سیاق وسباق "آسمان کے تلے زندگی " ہے ،اور سیاق و سباق کے روحانی طور پر ، کہ زندگی کے بعد کچھ نہیں ہے ،کو کوئی سمجھ نہیں سکتا ' ماسواےؑ خُدا کے الہام کے ۔
جسمانی طور پر بد ن میں ' موت اور متعفن ہونا ایک ہیں ؛تا ہم 'مُردوں میں سے جی اُٹھنا اور قیامت مختلف چیزیں ہیں ۔
3۔ واعظ کا ابتدائی" طریقہ کار "نظریات کی بجاےؑ عملی مشاہدات تھا ،جیسا کہ واعظ 1 باب 14'17 آیت ؛2 باب 1 تا 10 آیت ؛ 2 باب 11 تا 13 آیت ؛3 باب 16 آیت ؛4 باب 1 آیت ؛ 6 باب 1 آیت ؛11 آیت ؛ 7 باب 15 '27 آیت ؛ 8 باب 9 آیت ،11 آیت ؛
9 باب 11 '13 آیت –اس 'واعظ کے دونوں طریقہ کار کے مطابق موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سکھانا ہچکچا ہٹ کا باعث ہے ،اور" اگر یہ صرف زندگی سے متعلقہ ہے"تویہ یا اُمیدی اور یاس لہبندی کی کتاب ہے۔
سوال:کیا واعظ 3 باب 21 آیت سکھاتی ہے کہ حیوان میں بھی انسان کی طرح رُوح ہے؟ [حیوان میں بھی رُوح جیے انسان میں ]
جواب:حقیقتہ "عبرانی لفظ "دم" کے مفہوم کا دا۴رہ کار بُہت وسیع ہے۔ یہ آیت اس سوال کا جواب نہیں ہے۔
وہ سب جو واعظ کا مننف کیہ رھا ہے'اُن مشاہدات سے ہے جو اُس نے زمین پر کےؑ،کوئی نہیں بتا سکتا کہ موت کے بعد انسان یا حیوان زندگی سے کیا ہوتا ہے ۔مزید معلومات کے لئے 2۔ پطرس 2 باب 5 آیت اور مکاشفہ 16 باب 3 آیت کا موازنہ کریں۔
سوال:واعظ 4 باب 1 آیت ،اوعظ 5 باب 8 تا 9 آیت 'واعظ 8 باب 9 آیت ؛اور واعظ 10 باب 16 تا 20 آیت میں ، کیسے سلیمان کی بادشاہی کے دوران نا انصافی اور جبر ہو سکتا ہے ؟
جواب:اس کو قطع نظر کرتے ہوےؑ کہ آیا سلیمان مصنف تھا یا نہیں ،مصنف نے نہیں کہا کہ اُسکی سلطنت کے زمانہ میں ہوا ۔ اسرائیل کے ساتھ یہ چیزیں بیشتر بار واقع ہوئیں ۔ قغساۃ کی کتاب میں مندرج ہے اور اسی طرح سلیمان کے وقت میں بُہت دوُسرے لوگوں کیساتھ ایسا ہُوا۔
سوال:واعظ 4 باب 2 آیت میں 'کیا پثر مُردہ لوگوں کے لئے زندہ رہنے کی نسبت مرجانا بہتر ہے ؟
جواب:یہ انصار کرتا ہے ۔یہاں جواب سے متعلقہ دو اہم نکات ہیں۔
1۔ واعظ خُدا سے الگ "زمنی زندگی "کے تناظر میں لکھی گیؑ۔ اس کے متناسب پُثر مُردہ لوگوں کا زندگی کی نسبت مرنا۔
2۔ ابدی تناظر کے مطابق 'بوجھ تلے دبے ایمانداروں کا مرنا اور عام بالا پر جانا آسان ہے نسبتا زمین پر زندگی گزارنے کے۔
سوال:واعظ 4 باب 11 آیت میں 'اکیلے کی نسبت دو کا اکٹھے بہتر ہے' کیا تجرد سے بہتر شادی کے بغیر جنسی تعلقات ہیں؟
جواب: الٹھے لیٹنا اچھی پسندیدہ بات ہے 'مگر خُدا کی نافرمانی کرنا اور "مختصر رستہ اپنانا" کی کوشش کرنا گناہ ہی ۔ اسی طرح 'جیسے رقم کا ہونا بہتر ہے اس سے کہ کبھی بھی رقم نہ ہو، خُدا کی طرف سے ایک نادار شخص کو بینک پر ڈا کا ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ بہت سے گناہ [لیکن سب نہیں] ہیں اگر لوگ مختصر ۔طریقے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں' خُدا کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں'جنکا حصول حالات سے ہونا پسندیدہ بات ہے۔
سوال:واعظ 4 باب 13 آیت کیا سلیمان سے منسوب ہے؟
جواب:کچھ ایسا خیال کریں گے۔ الیمان جب نوجوان تھا عقلمند تھا' صرف معتدل خیالات کا حامل تھا' اور خُدا کا فرمابردار تھا۔الیمان نے کبھی خُدا کو نہ چھوڑا اور نہ ہی دُور ہو کر اُس خُدا پر ایمان کو ' لیکن سلیمان نے خُدا کی تابعداری کو چھوڑا ۔شاید اُس نے واعظ کی کتاب خُدا کی تابعداری میں واپس آنے کے بعد لکھی ، جب اُس نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا اور بیوقوف بادشاہ ہے جوتا زیب نہ کرے گا۔
سوال:واعظ 4 باب 13 تا 16 آیت میں 'وہ کون ہے جس ک مصنف حوالہ دیتا ہے ؟
جواب:اسرائیل کی بادشایت میں سے کسی کا بھی حوالہ نہیں دیتا ہے ۔ شاید یہ یوسف سے متعلق ہے' جیسے یوسف نے فرعون کے زیر بادشاہت کی۔تاہم ' مصنف نے کسی کا نام نہیں لیا' غالبا وہ ایک عام اُصول کو واضح کرنا چاہتا تھا اور لوگوں کو معروف تاریح کی دلدل میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
سوال:واعظ 5 باب 1 آیت میں ' کیوں خُدا کے گھر جانے کو واضح کیا گیا ہے، جبکہ واعظ آسمان تلے خُدا سے الگ زندگی کے بارے میں بتاتی ہے ؟
جواب:یہ بُہت واضح اور اہم نکتہ ہے ۔کوئی بھی بُہت زیادہ مزہبی ہو سکتا ہے مگر خُدا سے اُتنا ہی دُور۔
سوال:واعظ 6 باب 6 آیت اور واعظ 9 باب 2 تا 3 آیت میں ' کیا حقیقت میں ہر کسی کا حصہ یکساں تقدیر ہے ؟
جواب:آسمان تلے ' ضرور۔ واعظ 7 باب 2 کہتی ہے کہ موت ہر انسان کی قسمت ہے۔ واعظ کا مقصہ زمینی زندگی دکھانا ہے ناکہ ابدی زندگی۔ ایک بات جس پر یہواہ وٹنس ' مورمونی 'مُسلمان 'میسحی اور دُوسرے مزاہب اتفاق کرتے ہیں کہ حتمی طور پر ہر کوئی ایک ہی جگہ پر نہ جاےؑ گا۔
سوال:واعظ 7 باب 1 آیت میں' مصنف کا لفظ " عطر "کے استمال کا کیا مفہوم ہے ؟
جواب: "عطر " عموما تیز مہک رکھتا ہے ۔ یہ خوشی [جسے پر مفہوم میں ] [واعظ 9 باب 8 آیت ]، خوشحالی [ ایوب 29 باب 6 آیت ]، اور شہرت [غزل الفزلات 1 باب 3 آیت ] کیلؑے استعماال ہوتا تھا۔
عطر موت کے وقت جسم کو مسح کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا۔
سوال:واعظ 7 باب 1 آیت میں ' کیوں مرنے کا دن پیدا ہونے کے دن سے بہتر ہے ؟
جواب:یہاں دو نکات کو زیر غور لایا گیا ہے ۔
واعظ 7 باب 8 آیت دراصل اسکے صحیح مطلب کا بیان کرتی ہے۔
موت کے دن، زمینی زندگی کا اختتام ہوتا ہے اور ہم زمین پر زندگی گُزار کر اسے کا رُل کرنے جا رہے ہوتے ہیں۔اس سے پہلے کی ہم اپنی اہلیت پر غرور کریں' ہمیں اختتام کا انتظار کرنا ' موت کے دن کا' یہ جاننے کیلےؑ کہ حالات کیسے رُخ بدلتے ہیں۔ مرنے کے بعد کی مادی اور ابدی میراث عارضی خوشی سے بہتر ہے جو اچھی خوشبو سے زیادہ دیر کی ہے۔
واظ 7 باب 2 آیت کہتی ہے کیوں اس کو سوچا جاےؑ۔
یاد رکھیں کہ سب کو مرنا ہے ' آسمان کے تیل فانی زندگی کی بجاےؑہمارا فوکس ابدی تناظر کی جانب ہو یہی ہماری مدد کرے گا۔
سوال:واعظ 7 باب 16 آیت میں 'کیوں لوگوں کو حد سے زیادہ نہکوکار نہیں ہونا چاہیؑے ' جبکہ ہمارا مقصد کامل بننا ہے جیسا 2۔ کرنتھہوں 13 باب 11 آیت کہتی ہے ؟
جواب:فلپیوں 3 باب 12 تا 14 آیت میں ،پُولس نشان کی جانب بڑھنے پر ایمانداروں کا حوصلہ بڑھاتا ہے، اور ہمیں بھی متی 5 باب 48 آیت کے مطابق کامل ہونے کیلےؑ سخت محنت کرنا ہوگی ۔جیسا ہمارا آسمانی باپ کامل ہے۔ ہم میسح کی ماند بھی کبھی نہیں ہو سکتے ۔تا ہم 'لوگ نہ صرف ایک طرح سے بلکہ تین پہلووؑں سے "حد سے زیادہ نیکوکار "بنتے ہیں۔
تکُبر : بد قسمتی سے ہم اپنی راستبازی ' دُوسروں کیلےؑ ہماری خدمات '
اپنے بائبل مطالعہ اور خُدا کے ساتھ چلنے پر متکبر ہو سکتے ہیں۔
راستبازی:حقیقت میں یہ تکُبر سے تھوڑا ہی مختلف ہے [ اور شاید زیادہ ابتر ]۔ ہم خُدا کے فضل اور رحم پر ایمان کے بجاےؑ اپنی راستبازی پر بھروسہ کرنا شُروع کر سکتے ہیں جیسا کہ یہودیوں نے کیا رومیوں 10 باب 3 آیت میں۔ ایک شخص راستباز بھی نہیں بن سکتا ' لیکن وہ حد سے زیادہ نیکوکار بن سکتا ہے ۔
بے گناہ کا ملیت کی لغرش: کچھ لوگ ' خاص طور پر راستباز کلیسیائیں اعتقاد رکتھی ہیں کہ وہ اس زندگی میں بے گناہ ہو کر کامل بن سکتے ہیں' جو کہ 1۔ یوحنا 1 باب 10 آیت کے برعکس ہے۔ اس قسم کے لوگ بزات خود اچھا نہیں جانتے ' یا عموما بیشتر ' نہیں سمجھا جاتا کہ گناہ اچھا ہے ۔ایک دفوہ ایک جماعت کا پاسبان کیمپ ڈائریکڑ کو ایسا ہی بتاتا ہے کہ وہ بے گناہ کامل ہے ۔کیمپ ڈا۴ریکڑ ' اس دعوی پر ہلکا سے حیران ہوا ' اُس آدمی کا فون نمبر پوچھتے ہوےؑ ۔ پاسبان نے پوچھا کیوں ۔ کیمہ ڈائریکڑ نے کہا کہ وہ اسکے گھر کال کرے گا اور اسکی بیوی سے پوچھے گا کہ وہ اُسکی کامل راسبازی کے بارے میں کیا خیال رکھتی ہے ۔پاسبان پیچھے گیا اور کہا، میرا یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے چھوٹی چھوٹی غلطیاں نہیں ہوتی۔" کچھ ، ایسا ہی ریورنڑ مُون کا کامل راسباز ہونے کا دعوی ہے ۔ کیھتولک دعوی کرتے ہیں کہ مریم کامل راسباز تھی۔ تا ہم جب مریم لوقا 1 باب 46 تا 55 آیت میں خُدا کی بڑائی کرتی ہے ' تو لوقا 1 باب 47 آیت میں' مریم یُسوع کو اپنامُنجی پکُارتی ہے۔
بظاہر ' مریم کو ایک مُنجی کی ضرورت تھی۔
اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دُوسروں پر حد سے زیادہ نیکوکار ظاہر ہوں ' بلکہ مثل کار جعی مفہوم ہے کہ ہم اپنے خیال میں زیادہ راسباز بنتے ہیں جیسے ہم سچ میں ہوتے ہیں ۔ یہ امثال 3 باب 7 آیت کی طرح ہے ' جہاں یہ کہتی ہے کہ اپنی نگاہ میں دانشمند نہ بن ۔
سوال:واعظ 7 باب 19 آیت میں' صاحب حکمت دس حُکمرانوں سے زیادہ زور آور ہے؟
جواب: کوئی جو جنگ کو ٹال سکتا ہے اُسکی فوج مضبوط ہوگی اُسکی نسبت جو جنگ کے خاتمہ کے بعد لڑتا ہے ۔وہ جو دوست اور احباب بنا سکتا ہے اُسکی نسبت زیادہ محفوظ ہے جیس زندہ رہنے کیلےؑ ہمیشہ کڑنا پڑے ۔
سلیمان کا یہ ذاتی تجربہ تھا ۔سلیمان کی عیظم سلطنت کے دوران اسوریہ اور بابل دونوں کمزور تھے ۔بحر اور خشکی پر مشرق وسطی میں عیظم ترین قوتیں مصر اور فلستی تھے ' اور سلیمان کے دونوں سے دوستانہ تعلقات ھتے ۔
سوال:واعظ 7 باب 28 آیت میں ' کیوں واعظ کو ہزرار میں سے ایک مرد ملا اور عورت ایک بھی نہ ملی ؟
جواب: یہ وہ ہے جو واعظ آدم نے ذاتی طور پر ریاضت کیا ' نہ کہ وہ جو خُدا کہتا ہے اور ہر وقت سچ ہو ۔اگرچہ دراصل ' یہاں ایک ہی راسباز مرد ملا ' یسوع ' اور عالم بالا میں تمام مرد اور عورتیں راسباز ہوں گے ۔
سوال:واعظ 8 باب 2 تا 5 آیت میں کیا ہمیں ہمیشہ بادشاہ کے حُکم کو ماننا چاہیؑے ' چاہیؑے وہ اچھے ہوں یا بُرے ؟
جواب:شاید یہاں ایک تمثیل مدد کرے ۔ قطع نظر کرنے کی بجاےؑ حاکم مُلک کے تمام قوانین پسند کر تا ہے محب وطن شہر یوں کو تمام قوانین کی پاسداری کرنا چاہیئے ما سوائے صوبے کے ان قوانین کا جو ملک کے قانون متازع ہوں ۔اس بات کو قطع نظر کرتے ہوئے کہ اولین وہ خدا کے قانون کے مانند ہیں یا نیں ،تمام شہریوں کو ملک کے قوانین کی پاسداری کرنا چایئے ۔ما سوائے ان قوانین کے جو خدا کے قانون کےمتنازع ہوں۔
سوال : واعظ 8 باب 12 آیت میں ،کیسے ایک گنہگار لمبی زند گی گزار سکت ہےجبکہ خدا راست بازوں کی عمر دارز کرتا ہے؟
جواب: واعظ 8 باب 12 آیت گنہگا روں سے خدا کسی چیز کا وعدہ نہیں ہے۔ بلکہ غیر منصفا نہ زندگی پر توجہ دلائی گئی ہے جسکا مشاہدہ صرف ا"زمین " پر ہے۔ کچھ (تمام نہیں) گنہگار زمین پر لمبی عمر گزارتے ہیں ۔بے شک ، زمین پر دراز ابدی زندگی سے مشابہت میں کچھ نہیں ہے
مارٹن گارڈنر، سائٹیفک امیریکن کا سابقہ ا یڈیر ، اور لاادری عقید یے کا حامل نے ایک عظیم مضمون لکھا جہاں اس نے اپنی کتاب عظیم مضمون لکھا جہاں اس نے اپنی " میں یہ مسحیح نگتہ دریافت کیا ، بے شک ' گارڈ نر نے اسے سلیمان کے تقریبا 3000 سال بعد دریافت کیا ۔The whys of philosophical Sccivener” کتاب
سوال: واعظ 9 باب 5تا6 آیت اور زبور 6:5 آیت میں ،کیا لوگ لا شعور اور موت میں لاوجود ہیں ، اور مردہ لوگ کچھ نہیں جانتے؟
جواب : مردہ لوگ دینا میں کچھ یاد نہیں رکھتے، نہ ہی اس دنیا کی یاد جیسا
صفحہ نمبر 256 کہتاہے۔ یہ خیال واعظ کے مرکزی مقصد سے مکمل when criticsas
مطابقت رکھتا ہے 'زمینی زندگی کا بے معنی ہونا'۔
واعظ 9 باب 5 تا 6 آیت میں عبرانی لفظ " جاننا "کیلے ' اس لےؑ دلچسپ ہے کہ یہ مفہوم کے لحاظ سے بڑی وسعت رکھتا ہے ۔
کہتی ہے " ایک ابتدائی جڑ ہے ؛ جانتا [تلاش سے مکمل تحقیق ] ؛ اس کا استمعال شعور کے اعلی معیار کی انواع میں ہوا ہے ؛ علامتی ' لفظی ' شکُرریزی اور موجب کے طور پر ۔ ہدایت ' القاب ' اور تعزیر وغیرہ ۔
[جیسا متدرج ہے ] " سراہنا ' روشناسی [ کسی شخص سے روشناس ہونا ]' تجویز کرنا جوابدہ ہونا ' مامور کرنا ' یقینا ' با خبر ' وغیرہ ۔ دوسرے دلچسپ مترادفات جو Strongs concordance
میں شائع کئے گئے' سکھسنا ' بتانا اور محسوس کرنا ہیں۔
"جاننا "کیلئے مختلف الفاظ ہیں' مگر یہ یہاں مناسب ہے 'کیونکہ "مردہ لوگ کچھ نہیں جانتے " کم سے کم چار پہلووں میں۔
1۔ مُردہ لوگ آسمان تلے زمین پر مزید کوئی چیز نہیں دیکھتے [معلوم کرنا ] ہے ۔
2۔ کوئی بھی علم اور مشاہدہ جس سے اُنہوں نے سیکھا 'زنین پر وہ علم ختم ہوجاتا ہے ' کیونکہ وہ اسے جاری نہیں رکھ سکتے ۔
3۔ جیسا کہ آیت 5 میں ' [روحانی جسمانی طور پر ] مُردہ لوگون کی کوئی اُمید نہیں اور نہ ہی آنے والے کا علم ۔حتی کہ گہنگار اس زمین پر توبہ کی اۃمید رکھ سکتے ہیں اور جبتک وہ سانس لیتے ہیں زمین پر نجات یا فتہ ہو سکتے ہیں ۔
4 ۔ وہ اجر کی پرواہ نہین کرتے ۔ جیسا ایوب 14 باب 21 آیت میں مُردہ لوگ عزت اور رسوائی کا علم نہیں رکھتے جسے وہ یاد رکھیں ۔ وقت کو وضع کیا ۔ خُدا کو کسی چیز کا انداز لگانے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ خُدا نے قدرت کے قانون کے طور پر تخلیق کیلئے قیاس و واقعات کے قوانین وضع کیئے۔ انتشار ' اور جسے ہم عموما حادثہ کہتے ہیں، صرف چند " برش " ہیں جہنیں خُدا نے حقیقی تصویر میں رنگ بھرنے کیلئے استعمال کرتا ہے ۔
سوال: اگر واعظ 9 باب 12 آیت کہتی ہے کہ کوئی انسان نہیں جانتا کہ اُسکا وقت کب آےؑ گا ' تو پھر مُجرموں کے بارے میں کیا ہے جنکی سزاےؑ موت کیلئے تاریح اور وقت مقرر کیا جاتا ہے ؟
جواب:لوگ عموما نہیں جانتے کہ وہ کب مریں گے ' اور یہ اکثر باوار ہو سکتا ہے جب یہ اچانک آتی ہے ۔یہ بات سچ ہے یہاں تک کہ ایک مُجرم کو بھی اُسکی سزاےؑ موت کے آخری لمحات کے بارے میں بتایا جاتے ہے ۔ لیکن جب تک اس کا وقت نہ آجاےؑ' سزاےؑ موت دیئے جاینوالے مُجرم کو نہیں ہتہ کہ یقینا وہ اُسی وقت مر جائیں گے۔
سوال: واعظ 11 باب 2 تا 4 آیت میں ' کیسے روشنی تاریکی کی طرف بڑھتی ہے ،طاقتور انسان جھکتا ہے ' چکی پینا اور گانا موسیقی کو خراب کرتاہے ؟
جواب:یہ حوالی دیتا ہے جو ایماندار راہ عمل نباتے ہیں مختصر ' عارضی حالت کو ؛ پُرانے دور کو ۔
سوال: کیا واعظ 11 باب 3 آیت ' ثبوت ہے کہ مرنے کے بعد نجات کا کوئی امکان نہیں ہے جیسا بعض کہتے ہیں ؟
جواب: واعظ 11 باب 3 آیت نا ہی اسکا ثبوت دیتی ہے اور نہ ہی اسے جُھٹلاتی ہے۔
یہ موزوں مفہوم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کُچھ چیزیں ہماری زندگی میں نا قابل تنسیخ ہے ۔آپ اس زندگی میں کُچھ زیادہ نہیں کر سکتے 'مرنے کے بعد ۔
سوال:واعظ 11 باب 6 تا7 آیت آیت کا کیا مفہوم ہے ؟
جواب: یہ آیات واقعات کے کچھ پجچیدہ زمرہ کو تیزی سے ڈھانپتی ہے ۔یہاں دو طریقے مربوط ہیں۔
تبدیلی بمقابلہ ۔ نا قابل تسینخ: واعظ 11 باب 6 آیت میں بیج کاباور ہونا نا قابل تسنیخ واقعہ کی مثال ہے، جبکہ واعظ 11 باب 7 آیت " متضاد " انجام دکھاتی ہے واعظ 11 باب 8 آیت ادوار کے بارے میں بات کرتی ہے۔کیا آپ اپنے اختتامی انجام کے لیئے تیار ہیں ، جواٹل اور ناقابل تسنیخ ہے ؟
پر اُمید بمقابلہ ناگریز : ایک کسان کے لئے یہ دانائی ہے کہ وہ اپنی تمام زمین پر سخت محنت کرے ' کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کونسا بارور ہوگا ۔
یا کوئی ہوگا یا نہیں ۔ دوسری طرف ' خُدا کے بغیر آنے والے " تاریکی کے دن " اٹل ہیں ۔
سوال: واعظ 11 باب 9 آیت میں ایک جوان کو اپنے دل کی راہوں کی پیروں کرنا چاہیؑے یا خُدا کی راہ کی ؟
جواب: بعض دفعہ طنز کو مقدس محیفہ میں استعمال کیا گیا ہے ' اور واعظ 11 باب 9 آیت کا طنزیہ مفہوم آیت کے آخری جملہ میں بالکل واضح ہے ۔دُوسرے لفظوں میں خوش ہوں ' وہ کریں جسکی خواہش ہو " مگر یاد رکھیں کہ خُدا ان سب باتوں کے لئے آپکو عدالت میں لائے گا ۔"
Haleys Alleged Discrepancies of the Bible
صحفہ نمبر 250 آشکار کرتا ہے کہ یہودی تبصرہ نگار مانیش بن اسرائیل ' ابن عزرا ' اور راشی سب نے اس کو طنزیہ مفہوم کے متضاد سے مطابقت رکھے ' اسی طرح جیسے جب کوئی کہتا ہے " خُدا کے بغیر مزہ کرو " جب کوئی حقیقی طور پر اسے سمجھتا ہے کہ خُدا کے بغیر لا فانی زندگی کتنی خالی اور بے معنی ہو گی ۔
واعظ 11 باب 10 آیت میں ' کیوںلڑکپن اور جوانی باطل ہیں ؟
جواب: جو کوئی " زمین پر "زندگی گزاررہا ہے ' اُنکا لڑکپن اور جوانی دونوں باطل دکھائی دیتے ہیں جب وہ بوڑھے ہوتے ہیں ۔
سوال: واعظ 11 باب 10 آیت میں ' کیا واعظ نے سب کچھ بیانات " زمین پر " بائبل کے دُوسرے حصوں کی تروید کرتے ہیں ؟
جواب:ایک قانون دان وہ ہے جو سیاق و سباق کو ترک کرتا ہے ' اور یہاں سیاق و سباق ' یا زمینی زندگی خصوصا اہم ہیں ۔ سیاق وسباق سے الگ جو آیت سے محریح مثال لی گی ہے ایک جاہرادمیات ہے جس نے دعوی کیا کہ بائیبل نے کہا ہے " جسم کے بدلے " ایک انسان اپنے جسم کے لیئے سب کچھ دے دے گا جو اُس کے پاس ہے ۔ تاہم وہ ابتدائی تین الفاظ " شیطان نے کہا " کو بھول گیا ۔
سوال: واعظ 12 باب 1 تا 8 آیت میں ' کیوں یہ اتنا اُفسردہ کُن ہے ؟ جبکہ ہم واعظ 11 باب 8 آیت میں پہلے ہی سے اس نکُتہ سے آگاہ ہیں ۔
جواب: حتی کہ آج بھی بُہت سے لوگ ابدیت کیلئے زندگی گزارنے کے نکُتہ سے آگاہ نہیں بلکہ اسکی بجاےؑ موجودہ حالات کیلئے زندگی گُزار رہے ہیں ۔
شاید لوگوں کو اسکی مزید توضیح کرنا چاہیؑے ۔
سوال: کیا واعظ 12 باب 9 تا 14 آیت اضافی تحریر ہے جو بعد میں لکھی گیؑ ' جیسا کہ
Asimov’s Guide to the Bible
صحفہ نمبر 515 میں دعوی کرتی ہے ؟
جواب: ہمارے پاس اس صورت حال میں مزید کوئی شہادت نہیں ہے ۔ بزات خود واعظ میں ' واعظ میں انجام کو چھوڑ کر پہلے شخص کے بارے میں لکھا ہے ، اسلیے شاید ۔۔ یہاں دُرس ہے ۔ اگر ایک دوسرے شخص نے واعظ میں اضافی تحریر کی ہے ' تو بے گناہی کے مسلےؑ میں کوئی اُلجھن نہیں ہے ۔
[Asimov]ایسی موو
سوال: واعظ 12 باب 13 تا 14 آیت میں ، بائبل کی اس کتاب کا مرکزی نکُتہ کیا ہے ؟
جواب: واعظ کی ساری کتاب ' سواے آخری چھ آیات کی ' مکمل طور پر طنزیہ ہے ۔تاہم اس سب سے کوئی مکمل طور پر نکُتہ سے محرم رہا ' واعظ آخر میں طنزیہ مقصد میں آگے بڑھتا ہے ۔ خُدا کے خوف کی بجاےؑ زمینی زندگی گُزارنے کا مقصد نہیں ہے ۔ آپ جو بھی کرنے کا فیصلہ کرو ' یاد رکھیں کہ خُدا ہر ایک اچھے کام کا اجر اور بُرے کام کی سزا دے گا۔
سوال: واعظ میں ' وہ کیا ابتدائی مسودؑے ہیں جو ابھی تک وجود رکتھے ہیں ؟
جواب: مُردہ سمندری طومار : تین مختلف نقلیں غار م
دو ٹکڑوں پر مشتمل ہیں ۔ یہ قبل از میسح گزشتہ دوسری صدی سے تاریخ کیے گے ہیں ۔ تاہم دوسرا زریعہ یہ کہتا ہے کہ وہاں دو مختلف نقلیں تھیں ۔
4.4Q110
یہ واضح کرتا ہے کہ ان میں سے ایک 175-150 میں لکھا گیا ۔
میسحی بائبل مسودے: تقریبا 350 پر ہر عہد نامہ لکھا گیا جس میں واعظ بھی شامل ہے ۔
[تسیری صدی ] واعظ کا حصہ ہے Papyrus Med. واعظ کا حصہ
[340.350A.D]Sinaiticus,[.c325-350A.D]Vaticanus
اور.
ان میں ہر ایک نے واعظ کو محفوظ۔ کیا ہے ۔ [450A.D]Alexandrinus
سوال: کون ابتدائی مصنف ہیں جہنوں نے واعظ کا زکر کیا ؟
جواب: ابتدائی مصنف جہنوں نے واعظ کا حوالہ یا آیت پر گفتگو کی یہ ہیں۔س
[160A.D]Shephecd of Hermas
]170-177/180A.D]Melito/Meleto of Sardis
کی پانچ کتابیںTeitullion
کے مخالف ہیں۔[207/208A.D]Mascion
[193-217/220A.D]Clement of Alexandria
]222-235/6A.D]Hippolytuss
[225-254A.D]Orizen
کا تھیج کا بشپ Cyprian