حبقوق

سوال:حبقوق باب 1 آیت 1 کے مطابق حبقوق کون تھا ؟

جواب: حبقوق خداوند کا ایک عام سا نوکر تھا ، جو اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا سواۓ اسکے جو حبقوق کی کتاب میں لکھا ہوا تھا-

 

سوال: حبقوق باب 1 آیت 1 کے مطابق حبقوق کب لکھی گئی تھی؟

جواب: عالم دین اس بارے میں پر یقین نہیں ہیں ، یا غالبا 698 تا 697 بی سی دے دوران لکھی گئی جب کسدی بہت زیادہ غالب تھے تاہم 597 بی س تک ہیکل موجود تھا ، اور یہ اس سے پہلے لکھی

 

سوال: باب1 آیت 1 کے مطابق جیسے کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ حبقوق کون تھا اور اسے کب لکھا گیا تھا ، تو اسے ہماری بائبل میں کیوں ہونا چاہیے تھا ؟

جواب:  دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ یسوع نے پورے پرانے عہدنامے کو مستند قرار دیا ہے جیسے کہ متی باب 5 آیت 17 ؛ باب 7 آیت 12 ؛ باب 11 آیت، باب 22 آیت 40 لوقا باب 16 آیت 16 ، 29 ، 31 ؛ باب 18 آيت 31 ؛ باب 24 آیت 27 دیکھاتی ہے کہ اس نے فلسطین میں یہودیوں کے پرانے عہدنامے کو بغیر کسی سوال کے قبول کیا تھا

 

سوال: حبقوق باب 1 آیت 2 اور زبور باب 10 کے مطابق ، ہمیشہ ایسا کیوں لگتا ہے کہ خداوند نیک لوگوں کی دعائیں کیوں نہیں سنتا ؟

جواب:  خداوند نے حبقوق باب 10 آیت 5 تا 11 میں حبقوق کو جواب بتاتا ہے اور آخرکار خداوند نے 610 بی سی کے لگ بھگ اس سوال کے جواب کو پورا کیا ہے عام طور پر ہمیں کچھ دیر کے لیے خداوند کے جواب کا انتظار کرنا چاہیے ، جیسے کہ وہ چیزوں کو اپنے وقت کے مطابق ، جیسے کہ وہ چاہتا ہے نہ کہ ہمارے وقت کے مطابق ، تاہم ہمارا خداوند پر انتظار کرنے کی ضرورت ، اسکے جواب کو جب وہ آتا ہے اسکے مقام میں کوئی کمی نہیں کرتی ، 2 پطرس باب 3 آیت 9 دکھاتی ہے کہ  خدواند سست نہیں ہے ، وہ صرف سست دکھائي دیتا ہے کیونکہ وہ کسی کو تباہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتا-

 

سوال: حبقوق باب 11 آیت 6 تا 10 کے مطابق خداوند کیسے ناپاک کسدیوں کو استعمال کر سکتا تھا ، جبکہ اس سے پہلے حبقوق باب 1 آیت 13 کہتی ہے کہ خدواند اتنا پاک ہے کہ وہ بدی کو دیکھ سکے ؟

جواب: اسکے جواب کے لیے حبقوق باب 2 آیت 8 کے مباحثہ پر غور فرمائیں –

 

سوال: حبقوق باب 1 آيت 8 کے مطابق کیا ہمیں اسے اصطلاحی معنوں میں لینا چاہیے کہ ان کے گھوڑے چتیوں سے بھی زیادہ تیز رفتار تھے ؟

جواب:  یہ ایک شاعری ہے جس میں حبقوق کو مائل کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسے سمجھے جب لوگ کہتے ہیں کہ وہ بائبل کو اصطلاحی معنوں میں لیتے ہیں ، تو ان کا مطلب بامعنی میں نہیں ہوتا ، بلکہ اسکے برعکس ہمیں بائبل کو اس لحاظ سے لینا چاہیے ،جس طرف مصنف ہمیں مائل کرنا چاہتا ہے-

 

سوال: حبقوق باب 1 ايت 9 باب 2 آیت 8 ، باب 2 آیت 17 ، پیدائش باب 16 آیت 5 یہاں عبرانی لفظ خونرزی کا اصلی مطلب کیا ہے ؟

جواب: پیدائش باب 16 آیت 5 میں ساری نے یہ لفظ استعمال کیا جب اس نے ابراہام سے ہاجرہ کے بارے میں شکایت کی ، یہاں کسی طبعی طاقت کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، عام طور پراس کا مطلب تشدد ہے اور دی ایکسپوزیئر بائبل شرح کے جلد نمبر 7 کا صفحہ نمبر 383 کہتا ہے کہ " اسکا مطلب ہے کہ کوئی اتنا طاقتور ہے کہ وہ قانون کی سرکشی کرتا ہے تو اسکا مطلب محاسبہ کیا جاۓ"

 

سوال: حبقوق باب 1 آیت 13 کے مطابق درحقیقت اخلاقی بدی کیا ہے ؟

جواب: کتاب مقدس مختصر انداز میں تعریف پیش نہیں کرتی ، بلکہ بہت سے بیانات پیش کرتی ہے ، یہاں کچھ مماثل اشیاء پیش کی جارہی ہیں ،

برائی ایک دھوکے اور فریب کے برابر ہے:

قدیم دنیا میں نملے کی ، نمک ، اور تجارت کی دوسری چیزوں کےبارے میں پہچان کرنے کے لیے بہت اہمیت دی جاتی تھی ، استثناء باب 25 آیت 15 اور احبار باب 19 آیت 3 میں بھی اسکی اجازت تب دی گئی جب اس میں باٹ اور پیمانے کے پورے اور ٹھیک ہونے کے بارے میں ھکر کیا گیا ، امثال باب 11 آیت 1 اور امثال باب 16 آیت 11 کہتی اے کہ ایک باٹ صرف اور صرف خداوند کی خوشنودی ہونی چاہیے

امثال باب 20 آیت 10 ، 23 اور ملاک باب 6 آیت 11 ان لوگوں پر ملامت کرتی ہے جو دھوکے فریب اور چال بازی کے باٹ استعمال کرتے ہیں –

پس برائی کو سمجھنے کے لیے ، ہمیں خداوند کو اس لحاظ سے سمجھنا چاہیے کہ وہ اچھا ہے اور ایسا تخلیق کار ہے جو پاک ہے جس نے اچھائی پیمائش کرنے کے لیے معیار مقرر کیا ہوا ہے

برائی اچھائی کے کھت میں ایک سوراخ کی طرح ہے :

و لوگ برائی کے بارے میں توہمات رکھ سکتے ہیں ، لیکن برائی وہم نہیں ہے ، لوگوں کو کسی بھی چیز کے بارے میں وہم ہو سکتا ہے لیکن وہم حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے – برائی کسان کے کچھائی کے کھیت میں ای گڑھے کی طرح ہو سکتی ہے ، " ایک چیز " نہیں بلکہ یک چیز کی نمیر موجودگی ہوتی ہے تاہم یہ ایک وہم نہیں ہے ، لوگوں کے قدم اس گڑھے کی طرف بڑھ سکتے ہیں جو انکو دیکھائی نہیں دیتا جو ان کے ٹخنے کو موڑ سکتا ہے، اگر سب اچھائیاں خداوند کی طرف سے آئی ہیں تب " ایک برائی کا گڑھا " وہ " چیز " ہے جو خداوند کی طرف سے نہیں آتی- پس برائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں خداوند کو اس لحاظ سے سمجھنا چاہیے کہ خداوند اچھا اے اور کوئي بھی چیز مکمل طور پر اچھی نہیں ہو سکتی سواۓ ایک کے لیے خداوند کے

برائی ایک ساۓ دی طرح ہے : خداوند نے ہر چیز صحیح طریقے سے تخلیق کیا ہے ؟

اگر ایسا ہے تب خداوند نے سایوں کو بھی تخلیق کیاہے؟ اگر سایہ صرف وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی چیز روشنی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہے یا روشنی کی مقدار کم کرتی ہے ، کیا روشنی اور اشیا ساۓ کو بنا سکتے ہیں ؟ کوئی اشیاء نہیں کوئی سایہ نہیں ، اگر کوئی روشنی نہیں ہے تو یقینا کوئی سایہ بھی نہیں ہونا چاہیے ، تم ایک ساۓ کو ایک وہم سے ملا کر پریشان ہو سکتے ہو ، لیکن وہم تم پر اثر انداز نہیں ہو سکتا ، سواۓ اسکے کہ تم ان پر یقین کرتے ہو ، وہ پودے جنھیں سورج کی رشونی کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ سایہ دار جگہوں پر مر جاتے ہیں ---

اس بات سے قطع نظر کہ ایک شخص کا کیا عقیدہ ہے

ساۓ حقیقی طور پر اپنا وجود رکھتےہیں ، لیکن روشنی کے ذریعے کے بغیر اور ان اشیاء کے بغیر جو روشنی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں ،سایوں کا اپنا کوئی آزادنہ وجود نہیں ہے ، برائی کا حقیقی وجود ہے ، لیکن برائی خداوند سے جو کوئی آزادنہ وجود نہیں رکھتی کہ روشنی ہے اور تمام اچھائیوں کا منبع ہے – اور وہ جنھیں خداوند کی اچھائی کے ساۓ کا آزاد ذریعہ حاصل ہوتا ہے –کوئی بھی ، بشمول خداوند ، برائی کو براہ راست تخلیق نہیں کر سکتا- اس طرح زمین پر بھی کوئی براہ راست سایوں کو تخلیق نہیں کر سکتا ، خداوند بلاواسطہ طور پر برائی کو تخلیق کرتا ہے جیسے زمین پر روشنی بلاواسطہ طور پر سایوں کو تخلیق کرتی ہے –

پس برائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں خداوند کو اس لحاظ سے سمجھنا چاہیے کہ وہ اچھا ہے اور وہ تمام اچھائوں کا منبع ہے

سوال: حبقوق باب 1 آیت 13 کے مطابق ، اخلاقی برائیوں کی جدید تعریفیں اتنی ناکافی کیوں ہیں؟

جواب: یہاں ان میں سے کچھ پیشکی جارہی ہیں:

جوبھی ہے میںپسند نہیں کرتا : اگر سب کچھ جو اس لحاظ سے بیان کیا جاتا ہے برا تھا ، دانت کے ڈاکٹر کی ڈریل کے بارے میں ، سرجن کے چاقو کے بارے میں ، یا اس بچے کے بارے میں جو چیخ و پکار کر رہا ہے کیا کہیں گے ، کیونکہ وہ دوائیوں کو اک برے ذائقے کے طور پر لے رہا ہے ، اس تضادی صورت حال کے بارے میں کیا کہیں گے جو تب اٹھتی ہے جب ایک والدین اپنے بچے کو سیدھے راستے پر لاتے ہیں ؟ بری چیویں اچھے مقصد کے لیے بھی ہو سکتی ہیں

ہمارے عقیدے کو تازہ دم کرنے کےلیے 1 پطرس باب 1 آیت 6 تا 7 گناہ کے خلاف مرنے کے لیے مدد کے لیے 1 پطرس باب 4 آیت 1 ہمارے ایمان آزمائش کرتی ہے اور صبر پیدا کرتی ہے یعقوب باب 1 آیت 2 تا 4

نہ صرف ہمارے بچاؤ کےلیے بلکہ دوسروں کے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کرنا کلسیوں باب آیت 24

مخالفوں کے لیے نشالن فلپیوں باب 1 آیت 28

صرف مسحیحی بننے کے لیے آنا 2 تمیتھیس باب 3 آیت 12 ؛ فلپیوں باب 1 آیت 29

بعض اوقات ہو کوئی وجہ نہیں دیکھ سکتے سواۓ اسکے کہ ہمارا صبر خداوند ک تمجید کرتا ہے ایوب باب 1 آیت 8 تا 12 ؛ باب 2 آیت 2 تا 6

جو بھی میرے لیے بہتر نہیں ہے :

اگر ایسا اے تو ان چیزوں کے بارے میں کیا کہیں گے جنکو بچہ اس لیے چنتا ہے کہ وہ میرے لیے بہتر نہیں ہے جیسے کہ سبزیاں ، ان مجرموں کے بارے میں کیا کہیں گے جنکو ان کی اپنی بہتری کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے جیل میں بھیجا جاتا ہے

تاہم اس نظریے کے ساتھ اسکو ایک ظاہری تناسب کے لحاظ سے دیکھنے میں ایک دقت ہے 1 کرنتھیوں باب 15 آیت 12 تا 19 میں پاؤل کہتا ہے کہ اگر مسیح مردوں سے نہ جی اٹا ، تو اس کے لیے تکلیفیں اٹھانا اور اس کے لیے ہماری منادی کرنا بے فاغدہ ہے تو ہم اس وقت سب آدمیوں سے ویادہ بد نصیب ہو گے ، پاؤل واضح طور پر یہ دیکھ سکتا تھا ، کہ اگر یسوع دوبارہ زندہ نہیں ہوا تھا تب اس کے لیے اور اسکے سننے والوں کے لیے ایک مختلف بات ہوئی – متی باب 10 آیت 39 اور ملاکی باب 8 آیت 35 میں یسوع کہتا ہے کہ " جو کوئی اپی جان بچاتا ہے اسے کھوئیگا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائیگا "

دوسرے لفظوں میں اسے ایسے کہا جاتا ہے کہ جو اپنی خوشی اپنی زمین کی زندگی کو کھو دے وہ اصلی ابدی زندگی حاصل کرے گا ، اور جو کوئی صرف اس زندگی کے لیے جیۓ گا وہ ساری ابدیت کھو دے کا ، پس ایک شخص کی زندگی کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس بات پر منحصر ہے کہ تم صرف اور صرف زمین کی مختصر سی زندگی کو مرکز نگاہ بناتے ہو یا لمبی ابدی زندگی پر

جو کوئی بھی ہو کوئی بھی چیز معاشرے میں ایک بہتری نہیں لا سکتا:

یوحنا باب 11 آیت 49 تا 52 میں کائفا جو کہ اس سال کا سردار کاہن تھا اس نے یسوع کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا ----" تمھارے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ ایک آدمی امت کے واسطے مرے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو" ایک عجیب و غریب غیر ارادی طریقے سے وہ بالکل درست تھا - تو حتی کہ صلیب پر  ، جس نے یسوع کے ساتھ دھوکا دہی کی وہ یسوع کی موت Judas چڑھ جانے  یسوع اچھا نہ بنا ،

 کو اجھے ہونے Judas کا ایک بہت اہم حصہ تھا جو ہماری نجات کرے گا کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ

 کی وجہ سے ہمارا ہیرو ہونا چاہیے ؟ یقینا نہیں ، اعمال باب 2 آیت 23 کہتی ہے کہ یسوع خداوند کے مقررہ کرہ انتظام اور غیر سابق کے موافق پکڑوایا گیا ، مرقس باب 14 آیت 21 کہتی ہے کہ

 کا گناہ قابل نفرت تھا ، اور خداوند نے Judas کے لیے یہ بہتر ہوتا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا - Judas

اسکے گناہ کو ایک بہت بری اور اچھی بہتری لانے کے لیے منتخب کیا

 

سوال: حبقوق باب 1 آیت 13 کے مطابق خداوند کیوں لوگوں کو کناہ کرنے دیتا ہے ؟

جواب: خداوند اس کا جواب مستقبل کے منظر کے ساتھ دو حصوں میں دیتا ہے 1 حبقوق باب 1 آیت 5 تا 11 دیکھاتی ہے کہ ان کی خوشی مختصر وقت کے لیے ہو گی اور سنگدل لوگ انھیں فتح کر لیں گے ، خداوند کا زمین پر گناہ کو برداشت کرنا عارضی ہوتا ہے ، زبور باب 39 آیت 4 تا 5 کے مطابق اگر ہم اس پر دل سے غور کر سکیں اور سوال کریں کہ اب سے لے کر ملین سال تک زمین پر زندگی کتنی لمبی ہو گی تو اس سوال کا جواب ہمارے لیےبہت واضح ہو جاۓ گا-

2 – حبقوق باب 2 آیت 1 تا 3 : 16 دنیا کی تصویر کشی کرتی ہے ، اس سوال کا پہلا حصہ حبقوق باب 2 آیت 2 تا 20 ظالموں کی اس زندگی میں گناہ اور ان کی قسمت کو تفصیل سے بیان کرتی ہے ، بہت موزوں طریقے سے حبقوق باب 2 آیت 5 کہتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات پاتال کی ماند بڑھا لیں گے ، حبقوق باب 2 آیت 13 کے مطابق نہ صرف وہ ریوان کریں گے ، بلکہ آگ کے لیے ان کی محنت بے کار ہے ، ان کی امیدوں اور مشقت کا کوئی حاصل نہیں ہو گا

حبقوق باب 3 آیت 1 تا 16 میں اس سوال کا دوسرا حصہ پیش کیا جارہا ہے ، حبقوق باب 2 آیت 3 میں ، " ایک مقررہ وقت کو ، آخرت اور عدالت پر فوکس کیا گیا ہے

ایسا لگتا ہے کہبہت سے شریر لوگ زمین پر اپنی زندگی بہت اجھے طریقے سے گزارتے ہیں ، اور اگر ہم صرف اسی زندگی کو مرکز نگاہ بناتے ہیں تو زندگی ہم سے انصاف نہیں کرتی –

زبور باب 73 میں داؤد ، دولت اور تشدید کی طرف اپنی برے احساسات کے لیے خداوند سے دعا کرتا ہے جیسے یہی زبور باب 73 آیت 17 میں داؤد متقی بنتا ہے تب وہ واضح طور پر وہی جواب دیکھتا ہے جو حبقوق اسے دیکھاتی ہے  یہ بات یقینی ہے کہ خدا وند ان کے گناہوں کے سبب انھیں سزا دے گا ، لیکن اس کا ڈسکریشن خدا پر ہے کہ وہ ان کو سزا دینے کے لیے کے وقت کا انتخاب کرتا ہے جیسے 1 تیمتھیس باب 5 آیت 24 تا 25 ظاہر کرتی ہے کہ گناہ کے کچھ نتائج تو جلدی ظاہر ہو جاتے ہیں ، اور دوسرے نتائج کو عدالت کے دن تک کے لیے ملتوی کر دیا جاتا ہے

جب کردئن بوم نازی کے اجتماعی کیمپ میں تھا کہ ، ایک یہودی فارمر وائسن پلائر کی انگلی نازی کے تشدد کی وجہ سے مڑ گئی تھی ، اس نے سوال کیا کہ کروی کا خدا کیسے ایسا ہونے دیتا ہے ، وہ عورت اس وقت مذہبی بحث کے موڈ میں نہیں تھی ، کروی نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتی ، لیکن وہ جانتی تھی کہ اسکا نجات دہندہ اس زمین پر آۓ گا ، اور اسے بھی ظالمانہ طریقے سے اذیت دی جاۓ گی ، اور وہ بھی وہی تجربہ کرے گا جیسے کہ وہ اپنی تکلیف کو برداشت کرنے کا تجربہ کر رہی ہے

 

سوال: حبقوق باب 2 ایت 4 ، رومیوں باب 1 آیت 17 اور حبقوق باب 10 آیت 38 کے مطابق اس بات کا کیا مطلب ہے کہ صادق اپنے ایمان کی وجہ سے زندہ رہے گا؟

جواب: جسکا تم حق رکھتے ہو اس پر یقین کرنا ، اپنے علم کے ذریعے اپنے متقی پن پر یقین کرنا یا خود پر بھروسہ رکھنا " ایمان سے " بالکل مختلف ہے ، ایمان سے یہ ایک چیز پر لاگو ہوتا ہے : پرانے اور نۓ عہدنامے میں خداوند ر یقین رکھنا اور نیکی یہ ہے کہ خداوند پر انحصار اور بھروسہ کرتے ہوۓ زندگی گزاری جاۓ –

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 5 کے مطابق متکبر اور مے میں کیا تعلق ہے ؟

جواب: یہ ایسے نہیں کہہ رہا کہ متکبر لوگوں کو غالبا زیادہ یا کم پینا چاہیے ، بلکہ اس کے برعکس

1 – اس آیت کا پہلا حصہ یہ بات دیکھاتا ہے کہ جب ایک شخص مے پیتا ہے تو اسکی زبان کم لڑھکراتی ہے اور دوسرے لوگ بہت واضح طور پر سن سکتے ہیں جو اس کے دل میں ہوتا ہے

2- جیسے کہ اس آیت کا دوسرا حصہ دیکھاتا ہے ، کہ غرور بعض اوقات ایک نشہ آور دوائی کی طرح کام کرتا ہے ، اور ان چیزوں کو حاصل کرنا جو متکبرین کو بڑھاتی ہیں وہ انسان کو مدہوش کردیتی ہیں ، نشہ آور چیزوں کی طرح ، متکبرین بھی لوگوں کو اسطرح کر دیتا ہے کہ وہ احمقانہ حرکتیں کر سکیں-

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 6 تا 19 میں برے لوگوں کا خلامہ یہاں کیوں دیا گیا ہے ؟

جواب: یہاں چار اہم نکات ہیں :

1 – وہ زبردستی ، ناجائز کاموں اور خون ریزی سے مال دار ہوتا ہے ( باب 2 آیت 6 ، 9 ، 12)

2 – وہ دوسروں کی توہین کر کے اپنی خوشی حاصل کرتا ہے ( باب 2 آیت 15 )

3 – تشدید ( باب 2 آیت 16 )

4 – بتوں پر اپنی تخلیق کی ہوئی چیزں پر بھروسہ کرنا ( باب 2 آیت 18 تا 19 )

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 6 تا 19 مین اس شاعری کا نمونہ کیا ہے ؟

جواب: ہر اہم خلاصے کے حصوں کے تین حصے ہیں-

1 – وہ برائی جو لوگوں نے کی ( حبقوق باب 2 آیت 6 ، 9 ، 12 ، 15 )

2 – پتہ لگانا ( حبقوق باب 2 آیت 7 ، 10 ، 13 ، 16 )

3 – عدالت ( حبقوق باب 2 آیت 8 ، 11 ، 14 ، 16 تا 17 )

آیت نمبر 18 تا 20 ان کے دلوں کے معاملات کے بارے میں ہے

1 – مادی سطح پر لوگ بتوں پر بھروسہ کرتے ہیں ، جو انہیں جھوٹ سیکھاتے تھے

2 – ایک بہت عام درجے پر لوگ اپنی تخلیق پر اور بے جان اشیاء پر بھروسہ کرتے تھے

3 – بجاۓ اس کے کہ وہ خداوند کے سامنے خاموشی اختیار کرتے وہ دوسروی چیزوں کی راہنمائی حاصل کرنے کے لیے بھروسہ کرتے تھے

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 8 کے مطابق خداوند ایسے ظالموں لوگوں کو کامیاب کیوں کرتا ہے ؟

جواب:  حزمی ایل باب 7 آیت 24 کہتی ہے کہ بابل والے بدترین مشرکوں میں سے تھے ، یہ ضروری نہیں کہ بابل والوں کا کامیاب " ہونا ان کے لیے بہت اچھا تھا ، درحقیقت کوئی اک ایسے کہہ سکتا ہے کہ بابل والوں کی آزمائش کرنے کے لیے انھیں اس قدر بلند کیاکیا ، اسکے برعکس ، آرمینس عرب ، یسعیاہ والوں نے بابل والوں تنی کامیابی حاصل نہ کی ، اور ان کو اتنا تباہ برباد نہ کیا گیا جتنا بابل والوں کو کیاگیا

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 8 کے مطابق خداوند نے کسدیوں کو اپنی رضامندی کا ہتھیار بنایا ، اور انھوں نے وہی کیا جو اس نے ان سے کرنے کو کہا تو پھر خداوند نے کسدیوں کو سزا کیوں دی ؟

جواب: خداوند نے کسدیوں کو یہوداہ پر قبضہ کرنےکو نہیں کہا تھا اور انھوں نے اسکو خداوند کی خواہش اور حکم کے مطابق فتح نہیں کیا تھا ، اس کی بجاۓ جس کو اتفاق راۓ کہا جاتا ہے خداوند اپنے اچھے منصوبے کو فتح یاب کرنے کے لیے کن کی بری خواہشات کو استعمال کیا، رومیوں باب 8 آیت 28 کے مطابق سب چیزیں مل کر خداوند سے محبت رکھنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں ، افسیوں باب 1 آیت 11 اور امثال  باب 16 آیت 4 کے مطابق اپنے منصوبے خاص مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 11 کے مطابق پتھر اور لکڑی کیسے چلائنگے؟

جواب: حبقوق باب 2 تمام برائی کرنے والوں کے بارے میںبات کر رہی ہے ، اور سب سے پہلے بابل والوں کے بارے میں بات کررہی ہے ، تاہم لکڑی اور پتھروں کا چلا اٹھنا ایک شاعری جملہ ہے ، انھوں نے دانی ایل باب 5 آیت 5 تا 6 میں لفظی طور پر بابل والوں کے بارے میں بات کی ہے ، میڈس اور فارسی اور ان کے نوکر ایک رات پہلے بابل سے بھر بھر کے لے گے تھے ، بلا شز کے بادشاہ نے سونے اور چاندی کے پیالوں میں بہت بڑی ضافت دی تھی ، جو اس نے یروشلم سے لیے تھے ، انسانی ہاتھ کی انگلی ظاہر ہوئی اور دیوار پر یہ الفاظ لکھ دیۓ

 دانی ایل میں ان الفاظ کی تشریح کی گئی ہے ، جیسے کم تم خود Mene , Mene , Tekel ,Parsin

دانی ایل باب 5 آیت 25 تا 28 میں پڑھ سکتے ہو ۔

 

سوال: حبقوق باب 2 ایت 14 کے مطابق کیا خداوند کے جلال کا فرمان یسعیاہ باب 11 آیت 9 میں خداوند کے عرفان سے مختلف ہے ؟

جواب: جی ہاں ، یسعیاہ باب 11 آیت 9 صدی میں مستقبل کی زمانے کی طرف اشارہ کرتی ہے ، جب تمام زمین والے خداوند کو جان لیں گے ، بائبل نولج شرح : پرانے عہدنامے کا صفحہ 1515 کہتا ہے کہ حبقوق کا یہ جملہ یسعیاہ باب 11 آیت 9 کے جملے پر منحصر ہے ، دونوں میں یہ فرق ہے کہ یسعیاہ خداوند کی ریاست کی بلندی کو مرکز نگاہ بناتا ہے جبکہ حبقوق خداوند کی رییاست کے قائم ہونے پر سوال کرتا ہے اور جواب حاصل کرتا ہے ، دوسری طرف یہ بات قابل غور ہے کہ زبور باب 72 آیت 19 ، گنتی باب 14 آیت 21 اور یسعیاہ باب 6 آیت 3 ، خداوند کے جلال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو زمین معمور کردے گا

1001 بائبل سوال و جواب کا صفحہ نمبر 300 اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جب زیادہ سے زیادہ لوگ خاوند کے عرفان کو سنے گے ہمارا حقیقی طر پر خداوند کو جاننے کا عرفان یہ صدی منتظر رہے گی

نۓ عہدنامے میں بہت سے جگہوں پر ہمیں یسوع کے واپس آنے کے لیے دعائیں کرنی چاہیے اور اسکا آرزو مند رہنا چاہیے ، ہماری دعاوں میں اسکی ریاست کا آنا ایک بہت اہم حصہ ہونا جاہیے ، جیسے کہ خداوند کی دعا میں یسوع نے اپنے تمام شاگروں کو سکھایا ہے کہ " تمھاری ریاست آۓ گی ------"

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 19 کے مطابق حقیقی طور پر یہ بت پرستی کیا ہے ؟

جواب: یہان مختلف قسم کی بت پرستیاں ہیں ، لیکن ان سب میں ایک مشترک ہے کہ وہ خداوند کی بجاۓ کسی اور پر یقین ، بھروسہ اور یا کسی اور کی پوجا کرتے ہیں

یقین کرنا : جب تم اپنی زندگی کے لیے بہت سے مشورے چاہتے ہو تو تم کس طرف منہ کرو گے ؟ اگر حالیہ فیڈ فنسیاتی کتاب جو بائبل کہتی ہے اسکی تردید کرتی ہے تو تم غالبا کس پر یقین کرو گے

بھروسہ : جب تم اپنے مستقبل کےبارے میں بہت سوچو گے تو کیا تم بائبل اور دعاؤں کی طرف مڑو گے ، یا زائچہ کی طرف اور نجومیوں کی طرف دیکھو گے –

محبت اور لگن : جب تم فارغ ہو گے تو تمھاری سوچ کس طرف جاۓ گی ؟ خداوند کی عبادت اور تقدیس کی طرف جاے کی ؟ جبکہ دولت ، پیار اور دوسری چیزیں آجکل دے جدید لوگوں کے لیے ایک کامل یقین والے بت بن چکے ہیں ، یہ ایک بدترین صورت حال ہے جو دوسرے بتوں کی پوجا کرواتی ہے

 

سوال: حبقوق باب 2 آیت 20 کے مطابق اگر ساری زمین خداوند کے حضور خاموش ہے تو مسیحی خداوند کے لیے کیوں گاتے ہیں ؟

جواب:  ہر اس زمانے میں مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کا مکاشفہ باب 8 آیت 1 میں مختصر سی خاموشی بیان ی گئی ہے ، یہاں خاموشی کے لیے پانچ مختلف عبرانی الفاظ ہیں ان میں سے ایک یہاں استعمال کیا گیا ہے جسکا مطلب خاموشی ہے

 

سوال: حبقوق باب 3 کے بارے میں کیا اس نظریے کے کوئی شواہد ملتے ہیں کہ اسے پہلے دو ابواب کے بعد مصنف نے لکھا تھا ؟

جواب: نہیں سواۓ مردہ سمند کے طوماروں پر کی گئی تشریح کے مطابق اس طرف حبقوق کا باب نمبر 1 اور 2 تھا ، تاہم اسکی بری طریقے سے نقل کی گئی ہے پس اسکو اسطرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اس میں اسکا کچھ حصہ موجود نہیں ہے ، باقی تمام جانی مانی حبقوق کی نقول میں باب نمبر 3 موجود ہے

 

سوال: حبقوق باب 3 میں یہ شیگا یونوت کیا ہے ؟

جواب:  یہ ایک موسیقی کا آلہ یا ممکن ہے کہ یہ موسیقی کی کوئی طرز ہو ، ہمارے پاس آج اس موسیقی کے آلات کی کوئی تفصیل نہیں ہے جیسے کہ زبور باب 7 میں اسکا ذکر ملتا ہے اور یہ شیگا پون کا واحد

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 2 کے مطابق قہر اور رحم آپس میں کسطرح تعلق رکھتی ہیں؟

جواب: تاہم یہ ایک قابل تضاد بات لگتی ہے ، کوئی بھی خداوند کے رحم کو اسے قہر کے بغیر نہیں سمجھ سکتا ، ہر ایک کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خداوند اس قدر مقدس ہے کہ اسکی موجودگی میں گناہ تباہ وبرباد ہو جاتا ہے ، خداوند پر ناراض ہوتا ہے تاہم اسکی ناراضگی اسکے حساب و کتاب کو دھندلا نہیں کر سکتی، حتی کہ اس کے درمیان سے بدکار اور گناہ گار انسان کی دور دیکھے تو اسکی محبت تب بھی ہمیں تباہ و برباد کردے گی ، حزقی ایل باب 18 آیت 23 ، 32 اور 2 پطرس باب 3 آیت 9 خداوند کی خواہش ہے کہ کوئی بھی تباہ نہ ہو اور خداوند رحم پھیلا کر خوش ہوتا ہے

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 3 کے مطابق پر جگہ موجود رہنے والا خداوند کیسے تیمان سے آسکتا ہے ؟

جواب: تاہم خداوند پر جگہ موجود ہے ، اور خداوند کی موجودگی کی ایک مقامی جگہ بھی ہو سکتی ہے ، تاحال یسوع بھی ایک وقت میں ایک جگہ پر تھا ، خداوند جلتی ہوئی جھاڑی میں موسی پر طاہر ہوا اس وقت خداوند کی جگہ پر کون تھا ، خداوند کا تیمان سے آنا یسوع کی دوسری دفعہ زمین پر آنے کی طرف اشارہ ہے

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 3 کے مطابق تیمان کیا ہے ؟

جواب: دوم میں ، مردے سمندر سے پار اور یہوداہ کے تھوڑے سے جنوب کی طرف ، حزقی ایل باب 25 آیت 13 ، عاموس باب 1 آیت 12 اور عبدیاہ باب 8 آیت 9 تیمان کو ادوم کا ایک حصہ بتاتی ہیں ، یرمیاہ باب 49 آیت 7 ، 20 شاعرانہ طور پر تیمان کو ادوم کے مترادف کے طور پر استعمال کرتی ہے ، تیمان کا نام ادوم ے سردار اور عیسو کے پوتے کے نام پر رکھا گیا جسکا نام تیمان تھا ( پیدائش  نامی شخص Eliphaz باب 36 آیت 11 ، 15 ، 42 اور 1 تواریخ باب 1 آیت 36 ، 54) ایوب میں

تیمانی تھا ، اور 1 تواریخ باب 1 آیت 45 کہتی ہے کہتی ہے کہ تیمانی عیسو کی نسل میں سے تھے – اگلا سوال بھی دیکھو

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 3 کیا یہ محمد ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کے بارے میں پیشن گوئی ہو سکتی ہے ، جیسے کہ کچھ مسلمان اسکا دعوی کرتے ہیں؟

جواب: صرف گلت کے مسلمان ایسا سوچتے ہیں ، تاہم یہ آیت "خداوند " کے بارے میں بات کرتی ہے نہ کہ " محمد " کے بارے میں ، کچھ گلت مسلمانوں کے فرقے کے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محمد خدا ہے تاہم اگر یہ عقیدہ ہمیشہ مسلمانوں کے سننے کے لحاظ سے کلیسائی عقائد کے خلاف ہے-

تاہم اگر سنی مسلمان بھی اس سوال کو سنجیدگی سے لے تو وہ بھی اس بات پر یقین کرے گا کہ محمد خدا بھی ہیں تاہم " خدا تیمان سے آیا ہے "

دوسری وجوہات کے سبب بھی یہ محمد کی طرف اشارہ نہیں کرتی ، وہ یہ ہے  کہ " اسکی حمد " محمد کی طرف اشارہ نہیں کرتی البتہ یہ خدا کی حمد ہے " فاران کی چوٹی جس پر اسرائیلیوں کے کمیپ ہیں مہ مکہ سے کافی دور ہے ، وین کلئسٹ آسک کا صفحہ نمبر 89 بھی ضروری طور پر ہی جواب دیتا ہے ، مزید معلومات کے لیے اگلا سوال دیکھیۓ –

آخرکار کچھ مسلمان ظاہری طور پر محمد اور بائبل کے درمیان تسلسلکو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں ، بالکل ایسے ہی جیسے یسوع اور پرانے عہدنامے میں مسیح کے بارے میں جسکا وعدہ کیا گیا تھا کہ درمیان تسلسل ہے ، کچھ مسلمان اسے ناپسندیدہ جگہوں کے طور پر دیکھتے ہیں حبقوق باب 3 آیت 3 تاہم وہ اس میں کچھ حقیقی تلسلس تلاش نہ کر سکے –

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 3 اور استثناء باب 1 آیت 1 کے مطابق کیا اران کی چوٹی حقیقت میں مکہ ہے ، جیسے کہ کچھ مسلمان اس بات کا دعوی کرتے ہیں ؟

جواب: نہیں ، فاران کوہ سینا کے مشرق میں واقع ہے ، پیدائش باب 21 آیت 21 کے مطابق ابتدائی طور پر اسرائیل فاران کےبیابان میں رہھتے تھے لیکن جب اسرائیلی وہاں آۓ تو ظاہری طور پر ان کی نسل وہاں موجود نہ تھی استثناء باب 1 آیت 1 تا 2 کہتی ہے – اسرائیلی فاران کے قریب میدان میں دیرے لگاۓ- یہ ان کے لیۓ خورب کی پہاڑی سے گیارہ دن کا سفر تھا ، جیسے کہ گنتی باب10 آیت 12 ، باب 12 آیت 16 ؛ باب 13 آیت 3 اور استثنا باب 33 آیت 2 دیکھاتی ہے کہ انھوں نے فاران میں بہت زیادہ وقت گزارا ، گنتی باب 13 آیت 26 دیکھاتی ہے کہ کوش فاران کے بیابان میں اسرایئل سے دور پار جنوب میں واقع ہے ، 1 سموئیل باب 25 آیت 1 میں داؤد فاران میں گیا ، 1 سلاطین باب 11 آیت 18 کے مطابق ادومیوں ، ہدد ، فاران کے راستے سے ادوم سے مصر گۓ-

حاصل کلام : فاران کا سفر حورب کی چوٹی سے گیارہ دن کا تھا ، کدش فاران میں تھا ، فاران ہی وہ جگہ تھی جہاں اسرائیلیوں نے ڈیرے لگاۓ اور وہاں سے سپائیز کو کنعان بھیجا

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 3 تا 15 کے مطابق یہ کس زمانے کے بارے میں بات کی جارہی ہے ؟

جواب: بہت سے اسکی تشریح میں اسکا حوالہ مکاشفہ باب 19 آیت 11 تا 21 میں یسوع کی واپسی کے لحاظ سے فتح مناتے کی طرف اشارہ کرتی ہیں یا غالبا مکاشفہ باب 20 آیت 7 تا 9

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 5 کے مطابق پیار کرنے والے خداوند کے سامنے سے " آتشی تیر " کیسے نکلیں گۓ ؟

جواب: خداوند پیار کے ساتھ ساتھ غضب بھی ہے چھوت کی بیماری کا مطلب وباء ہے استثناء باب 32 آیت 24 کہتی ہے کہ یہ ایک بیماری ہو سکتی ہے " آفتیں " ہو سکتی ہیں جیسے کہ خروج باب 7 تا 11 میں مصر میں آفتیں تھیں

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 6 کے مطابق چوٹی اور پہاڑ کیسے ازلی ہو سکتے ہیں ؟

 

جواب: عبرانی لفظ ای اےڈی کا مطلب قدیم یا پرانا اور اسکے ساتھ ساتھ ازلی بھی ہو سکتا ہے

سوال: حبقوق باب 3 آیت 8 میں حبقوق دریاؤں کا حوالہ کیوں دےرہا ہے ؟

جواب: عبرانی اس بارے میں اتنے پر یقین نہیں ہیں ، لیکن اسکا مطلب سمندری ندیاں ہو سکتا ہے نہ کہ تازہ پانی کے دریا

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 16 تا 19 کے مطابق اس بات کو جانتے ہوۓ کہ تباہی واقع ہو گئی وہ اس پر خوش کیوں تھا ؟

 

جواب:  مکاشفہ باب 19 آیت 1 تا 8 کے مطابق وہ جو جنت میں ہیں وہ بابل والوں کی تباہی پر خوش ہوں گے ،حبقوق خود کی بربادی پر خوش نہیں تھا ،۔بلکہ وہ خداوند کی آخری ریاست کی علامت کی لحاظ سے خوش تھا اور اسلیے کہ زمین پر برے لوگوں کی حکومت ریزہ ریزہ ہو جاۓ گی-

 

سوال: حبقوق باب 3 آیت 19 کے مطابق ہرنی کے لیے پاؤں کیا ہیں ؟

جواب: ہنیڈ ایک نر ہرن ہے اور یہ نر ہرن بہت تیز بھاگ سکتا ہے اور اونچی چھلانگ لگا سکتا ہے اور پہاڑوں پر اطمینان سے صحیح قدم اٹھا سکتا ہے

 

سوال: حبقوق میں ، وہ کون سی ابتدائی قلمی کتابیں ہیں جو آج بھی موجود ہیں ؟

جواب: قردہ سمندر کے طومار 4کیو238 اور غالبا 4کیو82

4کیو82 حبقوق باب 2 آیت 4 ؟

4کیو238 میں حبقوق باب 3 ہے

قردہ سمندر کے طوماروں کی پہلی صدی سے حبقوق پر تشریح جیسے 1 کیوپی ایچ اے بی کہتے ہیں  ، آج کے مردہ سمندر طورمار صفحہ pxxxvii( مردہ سمندر کے طوماروں کا انگلش چوتھا جریدہ
نمبر 46 تا 50 ) یہ ابن فشکا کے غار میں پاۓ جاتے ہیں ، تاہم اسکے برعکس یہ ایک بہت بری تشریح ہے جس میں پورا حبقوق باب 1 آیت 2 ، باب2 کے آخر تک موجود ہے ، ظاہری طور پر باب 3 اس میں گم ہو گیا ، مصنف نے حبقوق کی تمام پیشن گوئیوں کو اس دن سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ، تم اسکے ایک حصے کی تصویر پر نئی بین الاقوامی بائبل کی لغات کے صفحہ نمبر 261 اور ویکلف بائبل کی لغاوت کے صفحہ نمبر 440 میں دیکھ سکتے ہو ۔ یہ موسوی نفس مضمون سے 160 رکھتا ہے جن میں سے کچھ قوائد ، ہجے اور آرمینک کے اظہارات ہیں- مربات وادی کے چھوٹے نبیوں کے طومار (مر88 ) جو 132 اے ڈی سے ہیں ، اس میں حبقوق باب 1 آیت 3 تا باب 2 آیت 11 اور باب 2 آيت 18 تا باب 3 آيت 19 موجود تھی ، وادی مربات میں 132 اے ڈی میں ، کوکہب کی خود سے کی گئی تصانیف بھی موجود تھیں – چھوٹے نبیوں پر نبہیل ہیور کے طومار

(Hevxiigr8 ) میں حبقوق باب 1 آیت 5 تا 11 ؛ باب 1 آیت 14 تا باب 2 آیت 13 تا 20 ' باب 3 آیت 9 تا 15 موجود تھیں، جب بار کوکہب نے رومی کے خلاف بغاوت کی تب اسے چھپا لیا گیا ، یہ یونانی توریت کی تھی جسے جیڈیا میں بنایا گیا ہے اور یہ موسوی نفس مضمون کے مشابہ تھی – 350 اے ڈی میں مسیحی قلمی بائبل میں پرانے عہدنامے کے ساتھ حبقوق بھی موجود تھی ، ان میں سے دو ویئکنس (250 تا 325 اے ڈی ) اور الیگزینڈریا ( 450 اے ڈی ) جہاں یسیاہ سے پہلے چھوٹے نبیوں کی بارہ کتابیں رکھی گئی تھیں ، الیگزینڈریا اور وئیکنس دونوں میں حبقوق مکمل تھی

سیناء ( 340 تا 350 اے ڈی ) میں پوری کتاب موجود تھی ، حبقوق باب 3 کا بربیرانیس کے یونانی اندازے ترجمہ میں آٹھویں صدی سے تیرھویں صدی تک کی چھ درمیانی زمانے کے قلمی کتابیں تھیں اس میں بہت سے ایسے جملے تھے جو کوپٹک اندازے ترجمہ سے ملتے جلتے تھے

 

سوال: وہ کون ابتدائی لکھاری ہیں جنھوں نے حبقوق کا حوالہ دیا ؟

جواب: وہ نئیسن سے پہلے لکھاری جو حبقوق کی آیتوں کا حوالہ پیش کرتے ہیں وہ یہ ہیں

رومی کا کلیمنٹ (97/98 اے ڈی )

ملیئو / سارس کا ملئیو (170 تا 177 / 180 اے ڈی )

اینئوچ کا تھیوفیلئس ( 168 تا 181 /188 اے ڈی )

لائسونس کا آرینس ( 182 تا 188 اے ڈی ) ان آگینسٹ ہیرسس صفحہ نمبر 442 ( 182 – 188 میں لکھی گئی ) جو حبقوق باب 3 آیت 2 کاحوالہ حبقوق سے دیتا ہے

ٹرٹیولین ( 200 تا 240 اے ڈی )

الیگزینڈریا کا کلیمنٹ ( 193 تا 217 تا 220 اے ڈی )

اوریجن ( 225 تا 254 اے ڈی )

نوائسن ( 250 / 254 تا 256 اے ڈی )

کرتھیج کا سائپرن ( 246 تا 258 اے ڈی ) جو ٹرٹیس 12 تیسری کتاب 42 میں "حبقوق" حبقوق باب 2 آیت 4 کا حوالہ دیتا ہے

 

سوال: حبقوق میں ، عبرانی اور یونانی توریت میں حبقوق کے ترجمے میں کس قسم کا فرق پایا جاتا ہے ؟

جواب: حبقوق کی کتاب میں 56 آیتیں اور 638 الفاظ ہیں ، یونانی توریت کے ترجمے میں حبقوق کی کتاب 1082 یونانی الفاظ پاۓ جاتے ہیں- حبقوق کا یونانی ترجمہ اتنے اعلی پاۓ کہ نہیں ہے جتنا کہ توریت کا یونانی ترجمہ – یہاں ترجمے میں مختلف قسم کے فرق پیش کیے جا رہے ہیں

پہلا جملہ عبرانی اور دوسرا یونانی ہے

حبقوق باب 1 آیت 3 " مجھے برائی دیکھاؤ اور تم پر دیکھو " از " مجھے اوپر دیکھنے کے لیے تکلیفیں اور رنج  وغم دیکھاؤ"

حبقوق باب 1 آیت 4 " انصاف مطلق جاری نہیں ہوتا " از " انصاف پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا "

حبقوق باب 1 آیت 5 " قوموں پر نظر کرو اور دیکھو اور منتخب ہو  مستعجب ہو " از " اپنی تفارت کو پکڑے رکھو ، اور دیکھو اور شاندار طریقے سے گھوم پھیرو اور ختم ہو جاؤ"

حبقوق باب 1 آیت 8 " شام (موسوی توریت ) از " عربیہ "

(یونانی توریت ، موپسیٹیا کے تھیوڈور کی حبقوق پر شرح باب نمبر 1 صفحہ نمبر 270

حبقوق باب 1 آیت 17 " مچھلی پکڑنے والا جال " (موسوی توریت ) از " تلوار " ایک لفظ کا فرق مردہ سمندر کے طومار اور پرانے عہدنامے کا جدید متراجم کا صفحہ نمبر 136 کہتا ہے کہ " جال کو خالی کرنا " کی نسبت " نیام سے تلوار نکالنا " کا لفظ زیادہ موزوں ہے اور بہت سے مفکر اس بات پر متفق ہیں کہ تلوار ہی اصلی لفظ ہے

حبقوق باب 2 آیت 1 " دیدگاہ پر " (موسوی توریت ) از " اپنی دیدگاہ پر " ایک حرف کا فرق حبقوق باب 1 آیت 1 " وہ (خداوند ) کہے گا "(موسوی توریت )از وہ جواب دے گا " (شامی توریت )

حبقوق باب 2 آیت 5 " مے دغاباز ہے " (موسوی توریت میں "  hayyayin ہے ) از " دولت مندhwn) یا (hawwan)1کیوphab

حبقوق باب 2 آیت 11 پلستر یا مسالہ (موسوی توریت ) از "بھونرا " (یونانی توریت موپسیئا کے تھیوڈور کی حبقوق پر شرح کا باب نمبر 2 صفحہ 277 تا 278 از " کھونٹی " (شامی توریت )

حبقوق باب 2 آیت 15 " ان کی بے پرگی " (موسوی توریت ) از ان کی مقررہ تقدیریں

حبقوق باب 2 آیت 16 "ظاہر کرنا / طریقہ (موسوی توریت )از " لڑکھڑانا " (مردہ سمندر کے طومار ۔ یونانی توریت

پیشتر اکیولا (126 اے ڈی ) اور شامی توریت ) مردہ سمنر طومار اور پرانے عہدنامے کے جدید متراجم کے صفحہ نمبر 137 کے مطابق عبرانی میں دو ہم آہنگ الفاظ کی جگہ تبدیلی کا فرق ہے جو یہ ہے(arel' he) از (el 'hera) تاہم مردہ سمندر پیشتر کی تشریح اسے شراب خوری کے طور پر بیان کرتی ہے

حبقوق باب 3 آیت " (کسی ایک کی غلطی سے تعلق رکھنا " شکا پونوت پر ( جو غالبا ایک موسیقی کی اصطلاح ہے اور یونانی توریت میں " ایک گانا ہے "

" اسکے پاؤں میدان میں بڑھیں گے " ( پرانے ایئلک ، آرینس ہیرسس کے خلاف کتاب نمبر 3 باب نمبر 20 صفحہ نمبر 450 یہ موسوی یا یونانی توریت میں نہیں ہے )

ان سوالات کے لیے علم الکتاب عبرانی ترجمہ جے پی گرین لیئرل متراجم سے ہے اور یونانی رینڈرینگ سرینسو لوڑ ، یونانی توریت کا سی ایل برنئوتس کا متراجم ،یونانی اور انگریزی ، دی ایکسپوزئیرس بائبل کی شرح اور این اےایس بی کے زیریں حاشیے ، این آئی وی ، این کےجےوی،اور این آرایس وی بائبل کے ساتھ ساتھ اینٹی نئیسن فادرز جلد نمبر 1 الیگزینڈریا روبرٹ اور جیمز ڈونلڈسن بھی استعمال کیے گے تھے