یسعیاہ

سوال: یسعیاہ میں کیا آیات یسوع سے تعلق رکھتی ہیں؟

جواب: مندرجہ ذیل آیات یسعیاہ کا حوالہ دیتی ہیں یا نئے عہد نامے میں یسوع کے تعلق سے ذکر کرتی ہیں۔

یسعیاہ 6: 9، 10۔                  مرقس 13: 14؛ مرقس 4: 12؛ لوقا 8: 10۔

یسعیاہ 9: 14، 15۔              متی 21: 44؛ لوقا 20: 18۔

یسعیاہ 13: 9، 10۔             متی 24: 29؛ مرقس 13: 24؛ لوقا 21: 25۔

یسعیاہ 22: 22۔                   مکاشفہ 3: 7۔

  یسعیاہ 29: 13۔               متی 14: 8، 8؛ مرقس 7: 6، 7۔

یسعیاہ 36: 5، 6۔                متی 11: 5؛ 9: 27۔

یسعیاہ39: 8۔                      مرقس 13: 31۔

یسعیاہ 42: 7۔                     لوقا 4: 18۔

یسعیاہ 53: 12a۔                      لوقا 22: 37۔

یسعیاہ 54: 13۔ خصوصاً اشارہ یوحنا 6: 45

یسعیاہ 56: 7۔  خصوصاً اشارہ متی 21: 13؛ مرقس 11: 17؛ لوقا 19: 46۔

یسعیاہ 61: 1۔   خصوصاً اشارہ لوقا 4: 18۔

یسعیاہ 66: 1؛ 66: 24۔ خصوصاً اشارہ متی 5: 34؛ 25؛ مرقس 9: 44، 46، 48 ۔

کیونکہ وہاں پر کچھ اضافی پیراگراف ہیں۔ جو یسوع کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا ذکر پرانے عہد نامے میں نہیں ہوا تھا۔

بحیرہ مردار کے طوماروں کے درمیان: عظیم یسعیاہ کا طومار بہت دلچسپ  ہے اس میں گیارہ جگہاں ہیں یہاں وہ ایک طرف سے کائیو کی لوح یونانی رسم الخط میں ظاہر ہوتا ہے۔ دراصل یونانی رسم الخظ میں اگلا پیراگراف میں کے بارے بتاتا ہے یہ ہو سکتا   ہے کیونکہ چائی یونانی کے پہلے رسم الخط کا پہلا لفظ ہے۔ مسیح کلیسیا کے لیے اگرچہ یہ مسیحیوں کے بہاو کو ظاہر نہیں کرتا کیونکہ مسیح یہودیوں میں سے تھا پہلے یویانی ترجمے میں مسیح کا ترجمہ مسح کیا ہوا ہے۔  یہ یسعیاہ کے 11 پیراگراف  ہیں ۔ 32: 1 ff؛ 42: 1 ff؛  42: 5 ff ؛ 42: 19 ff ؛ 44: 28 ؛ 49: 5-7؛ 55: 3-4  ؛ 56: 1-2؛ 56: 3 ff ؛  58: 13 ff ؛  66: 5 ff۔

سوال: یسعیاہ میں بہت سارے تصورات ہیں اور اس کو یسعیاہ میں قدیم زمانے میں تاریخی طور سے تربیت  سے منظم کیا گیا تھا؟

جواب: جب یہ ممکن ہے کہ وہ ہیں ان کو اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں خواہ یسعیاہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تھا یا کسی نے اسے موضوعات طور پر منظم کیا ہو مزید معلومات کے لیے اگلا سوال دیکھیے۔

سوال: یسعیاہ میں اس کتاب کی شہہ سرخیاں کیا ہیں؟

جواب: یسعیاہ کی کتاب کی شہہ سرخیاں جہاں ساہ اور بڑے پیمانے پر ہیں۔

1-5 خدا کے ان کے خلاف اور یہوادہ کے خلاف منصوبےَ

6- یسعیاہ کا کمیشن۔

7 -12 عمانوایئل  خدا ہمارے ساتھ ہے۔

13-23 خدا کی قوموں کے لیے عدالت۔

  24-27 چھوٹی انجیل ( خدا دنیا کی عدالت کر یگا)۔

23: 28 بے ادب لوگوں پر خدا کی آفت۔

34-35 دنیا کے مستقبل کے لیے خدا کے منصوبے۔

36-39 سنحیرب اور  حزقیاہ۔

40-44 خدا کی تسلی اور دلاسا۔

45-48 خورس اور  بابل، بابل کو چھوڑنا۔

49-55 خدا رہا کرنے والا اور اسرائیل کی خلاصی۔

56-59 انسان کی ذمہ داری اور ناکامی۔

60-66 مستقبل  کے لیے خدا کا یقینی وعدہ۔

سوال: یسعیاہ 1: 1 میں، کیا یسعیاہ کا خدا کی طرف سے ایک ہی خیال تھا یا مختلف خیالات ہیں۔

جواب: یسعیاہ  نے مختلف رویا دیکھیں۔ یہاں شروع کے ابواب میں کچھ رویا ہیں اور یہ کافی پرانے ہیں۔ سبق 1، 2، 6، 7، 13، 15، 19، 21، 22، 23، 37: 21، 38: 4، 39: 5۔

سوال: یسعیاہ 1: 1 میں، یسیعاہ کب زندہ تھا؟

جواب: یسعیاہ سبق 6 کی ابتدا میں یسعیاہ کے مستقبل کی ابتدا ہوئی ہے۔ جس سال  739 ق م میں عزیاہ بادشاہ موا۔ حزقیاہ بادشاہ عزیاہ کا جانشین بنا۔  جنھوں نے 687 ق م میں منسی کی پیروی کی، جب یسعیاہ نے سنحیرب کے مرنے کا ذکر کیا یسعیاہ ان واقعات کے دوران زندہ تھا جو  684 ق م میں ہے۔

 یہودیوں کی متون کتاب یسعیاہ کی بلندی کی کیفیت بتاتی ہےمنسی کے دوران حکومت یسعیاہ کو آری سے چیرا گیا۔ عبرانیوں 11: 37 بتاتی ہے کہ پرانے عہد نامے کے دو ایمانداروں کو آری سے چیرا گیا تھا ۔  یہ یسعیاہ کا حوالہ دیتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 1: 1 میں، کیا آموص یسعیاہ کا باپ  تھا؟

جواب:  ہم اس کے بارے میں زیاہ نہیں جانتے یہاں موسوی شریعت کی رویات ہیں کہ امصیاہ بادشاہ کا بھائی تھا۔                                                       اس لیے  یسعیاہ شاہی خاندان  کا لہو تھا، یہ یہودی روایات کے مطابق ہے  کہ آموص شاہی خاندان کے  خون کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

سوال: یسعیاہ 1: 1 میں، یسعیاہ کے وقت میں پرانا عہد نامہ کتنا لکھا گیا؟

جواب: غالباً پیدائش  سے  2 سیموئیل تک اسطرح ایوب اور زبور تک۔

سوال: یسعیاہ 1: 1  میں، بتائے گئے بادشاہوں کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یسعیاہ اُس دور میں رہتا تھا جب متقی لوگوں کا دوسرے سارے لوگ دل توڑتے تھے۔یہوادہ کے زیادہ بادشاہ بُرے تھے ۔ ان میں سے کچھ اچھے بادشاہوں کا بھی ذکر ہے ۔ عزیاہ نے کفارے کے دن کی تقریب پر اپنے آپ کو بڑا مغرور پیش کیا جب کی صرف بڑے کاہن کو ہی ایسا کرنا چاہیے تھا ۔ نتیجے کے طور پر خدا نے اس پر جذام کی لعنت کی کہ وہ مر جائے۔ ان قطع نظر خیالات میں یسعیاہنے وفاداری کے ساتھ خدا کی خدمت کی اور اسی طرح ہمیں کرنا چاہیے ۔

سوال: یسعیاہ 1: 2 میں، اس وقت خدا کے بچوں نے بغاوت کی اور خدا ایک اچھا باپ ہے کیا مسیحی ایک اچھے ماں باپ بن سکتے ہیں جبکہ ان کے بچے غلط جا رہے ہوں؟

جواب: ہاں یہ ماں باپ کی ذمہ دار ہے کہ وہ بچوں کی ٹھیک پرورش کریں اور یہ ان کا اخلاقی حق ہے۔ تاہم، آخر کار یہ بچے ہیں نہ کہ ماں باپ خواہ وہ انتخاب کر رہے ہیں یا نہیں یا بچہ خدا کی پیروی نہیں کرتا۔

سوال: یسعیاہ 1: 3 میں، اسرائیلی کیوں رب کو نہیں جانتے اگرچہ یہ واقعات کچھ بھی نہیں کیا خدا اس کی اجازت دیتا ہے؟

جواب: خدا ہمیں آزادی کے ساتھ حرکت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور خدا ان چیزوں کی بھی اجازت دیتا ہے جو اُسے افسردہ کرتی ہیں۔

سوال: یسعیاہ 1: 5 کے تحت کیا حالات اصولی طور پر کام نہیں کرتے؟

جواب: اس سوال کا جواب دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا  ہے۔

1: غلطی  سے لاگو  ہونا: فائدہ کام نہیں کرتا ۔  

1a: نرم مزاج  ہونا  اور بُرے کاموں سے باز رہنا۔

1b: ایک ہونے کی وجہ سے یہ اصول ذہن نشین نہیں ہوتا کیوں اصول سب  پر لاگو ہوتے  ہیں۔

1c:اصول  وہ جو متناقص  ہے یا وہ جو خاندان کے رویے پر انحصار کرتے ہیں ۔ اور من موجی ہونے کے ناطے اس کا مشاہدہ ہو سکتا ہے اور سزا کے لیے ناقابل فشار بھی ہو سکتا ہے۔

1d: آخر  میں قاعدہ/ اس حصے میں تیز بھی ہے کیا یہ کام کو پورا ہونے کے لیے ہو سکتا ہے اور یہ دوسروں کے لیے بھی ہو سکتا ہے اس اصول سے ناقابل خواہش اثر ہو سکتا ہے۔

2۔ صحیح طور پر  لاگو ہونا:  اصول  جو مکمل طور پر لاگو ہوتے ہیں ایک مکمل رویے کے مطابق یہ اس کی گارنٹی نہیں دیتا کہ یہ خواہش  کے اصول کو پیدا  کرتا ہے اور یہ انسان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ اصول کا ماتحت ہو نہ کہ اپنے دل کو سخت کرے۔  اصول ایک اضافی عمل ہے یہ دل کو تبدیل نہیں کر سکتا یہ صرف ایک بندے کے مقصد کی تبدیلی کو مہیا کر سکتا ہے۔

سوال:  یسعیاہ 1: 8  میں اس کا کیا مطلب ہے کہ صیوں کی بیٹی چھوڑ دی گئی جیسے کی جھونپڑی تاکستان میں اور چھپر ککڑی کے کھیت میں ؟

جواب:  یہ نرم مزاج پختہ ، عظیم، اور جلدی سے گھر کرنے والا یسعیاہ 5: 8 معاہدہ ہے۔ وہاں گھر کے ساتھ گھر ملتا ہے جیسے ایک بڑے  مکان کی طرح ہو  اس وقت خوشحال اور امیر یہودی بھی غریب ہو گئے اور اس طرح کسانوں کو بھی ان کے ساتھ اسور یہ اور بابل لے جایا گیا۔

سوال: یسعیاہ 1: 9   میں ، کیسے  رومیوں 9: 29 کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟

جواب: رومیوں 9: 29 کا حوالہ یسعیاہ 1: 9  کو ظاہر کرتا ہے یہ دونوں کی جسمانی عقل دے نال روحانی  بھی ہیں یہودی لوگ شریف ہیں جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ تھوڑے سے بچے ہوئے لوگ ہیں۔ اسیری سے پہلے اسرائیلیوں کی شرح فیصد بہت کم ہے۔

سوال: یسعیاہ 1: 11 -17  اور یرمیاہ 6: 20  میں، خدا نے کیوں قربانیوں، اکٹھے ہونے، اور یہاں تک کہ دعا کے لیے بھی تنقید کی ۔ یہاں تک کہ خدا نے توریت میں اس  کا حکم دیا تھا۔

جواب: یسعیاہ 1: 14 یہ نہیں کہتا کہ خدا کا ان پر بوجھ نہیں تھا بلکہ وہ خود بوجھ بنے ہوئے تھے ۔ اور خدا ان کی غیر اخلاقی قربانیوں سے بیزار تھا۔

سوال: یسعیاہ 1: 18 خدا کے ساتھ حجت کے لیے ہمیں کیسے وقت نکالنا چاہیے؟

جواب:  ہمیں خبردار کرنے یا خدا کو کسی چیز  کے لیے بتانے کی ضرورت نہیں۔ پر وجہ ایہہ ہے کہ خدا کے ساتھ باہمی تعلق رکھیں کہ خدا ہمیں سکھانے میں مدد کرے۔ ہمیں بڑے سوچوں کے ساتھ بھاگنا نہیں چاہیے یا مشکل سوالوں کی طرف بلکہ تحمل مزاجی کے ساتھ اس کو خدا کے پاس لانا چاہیے۔ فائدہ کا حصہ یہ ہے  کہ خدا آپ کے جوابوں میں رہنمائی کرے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہے  کہ آپ کا ذہن خدا کی چیزوں کی  طرف مائل ہو جائے گا۔ شاید سب سے اہم" فائدہ" یہ ہے کہ یہ خدا کے ساتھ وقت گزارنے کا بڑا فائدہ ہے۔

سوال:  یسعیاہ 1: 18 میں، خدا کیسے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے جبکہ یسوع ابھی  تک نہیں آیا تھا؟

جواب:  خدا بتاتا ہے کہ گناہ صرف مسیح کے ذریعے معاف ہو سکتے ہیں ۔ پر خدا ہی ہے جو وقت سے پہلے گناہوں کو مسیح کے ذریعے معاف کر سکتا ہے جب وہ چاہتا ہے۔ خدا کسی چیز کا پابند نہیں ان لوگوں کے لیے جو مسیح سے پہلے تھے ۔عبرانیوں 9 اور 10: 1-4 بتاتا ہے کہ یسوع مسیح کے مرنے سے ان کے گناہ دور ہو گئے۔ اور وہ یسوع مسیح میں معاف کیے گئے یسعیاہ 1: 8 اور دوسرے پیراگراف عام طور پر بتاتے ہیں  " کفارہ " اور " معافی" اور معافی بعد میں ہوتی ہے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اسکی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

1: پرانے عہد نامے میں، خدا صرف یسعیاہ 53 باب کا اشارہ کرتا ہے اور دوسری جگہوں پر اسکی تعلیمات  صاف ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر معافی دے  گا۔ ان کے سارے گناہ معاف کر دیے گئے جن کے لیے وی شمار کیے گئے تھے۔

2: خدا نے مختلف اوقات میں شراکت کی اور اسی طرح ہم کرتے ہیں ہم اکثر چیزاں کے بارے خیال کردے ہاں کہ مستقبل کی ذمہ داریوں میں یہ واقعات نہیں۔ یقینی طور پر خدا ان کے بارے خیال کر سکتا ہے۔ کہ جو واقعات پہلے ہو چکے ہیں۔ صرف بعد کے نقطہ میں تین زبردست تراکیب میں ویڈیو ٹیپ بھی شامل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ " زمین اور زندگی " ہے۔

سوال: یسعیاہ 1: 18میں، کیا یہ تجویز مسیح کی گناہوں کی معافی کا ایک حصہ ہے؟

جواب: نہیں ِ خاص طور پر صحیح راہ نہیں کہ خدا ان کے گناہوں  کو معاف کریگا۔ صرف خدا ہی یہ کرے گا۔ 

سوال: یسعیاہ 1: 21 میں، کیوں کچھ جگہوں پر بدکار اور قاتل  لوگ رہتے ہیں؟

جواب: جب کہ ہم یروشلیم میں کسی کے بارے میں نہیں جانتے عام طور پر ہم کم از کم پانچ وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔ کیوں بستی میں بہت سارے بدکار لوگ رہتے تھے۔

1: وہاں کوئی بھی خداداد ہدایات نہیں تھی۔

2: وہاں کوئی بھی متقی سیاستدان اور لوگوں کے لیے مذہبی رہنما نہیں جس کو لوگ عزت دیں جو دوسروں کے لیے مثال ہو سکے۔

3: انصاف نہیں ہے یا بد اخلاقی کی سزا میں انصاف کا اصول۔

4:  ایماندار اپنے لوگوں کے لیے دعا نہیں کر رہے تھے۔ ( 1 سیموئیل 12: 23)

5:  متقی لوگ بذات خود ان کو برائی کی راہ سے منع نہیں کرتے۔ ( 2 تواریخ 7: 14)

سوال: یسعیاہ 2: 4 میں، آخیر وقت میں کیوں خدا اُمتوں کے درمیان جھگڑا پیدا کرے گا؟

جواب: وہ لوگوں کے درمیاں ایک دم پیدا نہیں کرے گا کیوں کہ وہ پہلے ہی ان کے درمیان  قائم کر چکا ہو گا۔ مسیح کے بعد زمین پر اسکا دور حکومت شروع ہو جائیگا۔ وہ کسی قسم کے جھگڑے، ناراضگیاں، اور جنگوں کو قائم نہیں کریگا۔ یہ ہزار سالہ دور حکومت کا آخیر ہو گا  جب شیطان قوموں کو دھوکا دیگا۔ ( مکاشفہ 20: 7-10) ۔

سوال: یسعیاہ 2: 4 میں، کس قسم کا بھالہ تھا جو ان کے پیچھے استعمال ہوا؟

جواب: بعدمیں آنے والے کسانوں کی طرح انہوں نے بھالہ استعمال نہیں کیا بے  شک اس وقت لوہا بڑی تعداد میں موجود تھا وہ لکڑی کے بیم کے ساتھ لوہے کا ایک بھالہ استعمال کرتے تھے۔

سوال: یسعیاہ 2: 4 ا ور میکاہ 4: 3 کیا لوگ اپنی تلواروں کو ہلوں میں بدل لیں گے یا اپنے ہلوں کو تلواروں میں بدل لیں گے یوایل 3؟

جواب: امن کے ہتھیار جنگ کے دنوں میں لڑائی کے ہتھیاروں میں بدل جائیں گے جو یوایل 3 میں مسیح کی جلالی آمد سے پہلے مصیبت کے واقعات میں استعمال ہوئے جنگ کے دنوں میں ہتھیاروں میں بدل گئے۔ امن کے ہتھیار یوایل 2: 4 میں استعمال ہوئے ۔ اور میکاہ 4: 3 ہزار سالہ دور حکومت کے دوران واقعات ہیں جب یسوع مسیح آئیگا اور حکومت کریگا۔

سوال: یسعیاہ 3: 4 میں، کیوں لڑکے اور بچے ان پر حکمرانی کریں گے؟

جواب: امن اور آزادی کے دنوں میں ایک بادشاہ نے اپنے بڑھاپے تک حکومت کی اور فتح کے طور پر اسکا بیٹا ہی بادشاہ بنا تھا۔ جب وہ کسی قدر بوڑھا تھا اسکا فرق دیکھتے ہیں ۔ 2 تواریخ 36: 1-11  بتاتی ہے کہ یہوآخز  23 برس کا تھا اور اس نے 3 مہینے حکومت کی۔ یہویقم 25 برس کا تھا اور اس نے 11 برس یروشلیم پر حکومت کی یہویاکن 8 برس کا تھا اس نے 3 مہینے  10 دن یروشلیم پر حکومت کی صدقیاہ 21 برس کا تھااور اس نے 11 برس یروشلیم پر حکومت کی۔ اور سب نوجوان تھے کیونکہ ان کے بعد ہی سلطنت طاقت میں جلدی ختم ہو گئی ۔

سوال: یسعیاہ 3: 7  ان کی سلطنت کو کیوں زوال ہوا ؟

جواب: کتاب مقدس نہیں بتاتی پر ہم تین وجوہات دیکھ سکتے ہیں ۔

فائدہ نہیں: کچھ لوگ حکمران ہوتے ہوئے  ذمہ داریوں کو پورا کرنا نہیں چاہتے ہونگے جبکہ وہاں واقع ایسا کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ۔

خطا: جب ایک قوم غلط راہ پر چلتی ہے شاید کچھ رہنما اس غلطی کو ماننے کو تیار ہوں جیکر وہ رہنما نہیں تھے۔

بُرے  نتیجے: پہلی حملہ کرنے والی فوج شاید یہ ہوں اسوریہ، مصر، بابل جنہوں نے فیصلہ کیا ہو کہ پرانے حکمرانوں کو اور ان کے خاندانوں کو مار دیا جائے۔ یہ غلبہ پانے والی فوج ہو سکتی ہے۔

سوال: یسعیاہ 3: 15کیسے کوئی مسیکنوں کا سر کچل سکتا ہے؟

جواب: واضح اسلوب بیاں کو ٹھیک موزوں یہ تھے لوگ گندم کے پودوں کو کچلتے چھلکوں سے گندم علیحدہ کرتے کیا وہ کم پیسہ رکھتے تھے۔

سوال: یسعیاہ 3: 16 "میں ناز رفتاری "کیا ہے؟

جواب: اس کا جواب ہے کہ وہ مستانہ چال کے مصنوعی رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ ۔ یا شہزادیاں دا اثر رکھدے ہوئے اوہ تکبر توں باہر ہو گئے۔

سوال: یسعیاہ 3: 16- 18 میں، عورتوں نے کب اپنے پیروں میں گھنگرو باندھے؟

جواب: اسکا  جواب یسعیاہ 3: 18   میں ملتا ہے۔ عورتوں نے پازیب پہنی ہوئی تھی جو ان کا نقش و نگار تھا۔

سوال: یسعیاہ 4: 1 میں، کب سات عورتیں ایک مرد کو کہیں گی کہ ان کے ساتھ شادی کرے؟

جواب: یہ آخیر وقت میں ہو گا جب مسیح کی آمد ثانی ہو گی یسعیاہ 4: 2-6۔

سوال: یسعیاہ 4: 1  میں، کیا ہمارے لیے غیر شدی شدہ رہنا باعث شرم ہے؟

جواب: نہیں کتاب مقدس زور نہیں دیتی  کہ اکیلا بہتر ہے یہ نہیں بتاتی غیر شادی شدہ رہنا شرم ناک ہے ( یسعیاہ 54: 1-5؛ متی 19: 11-12؛ 1 کرنتھیوں 7: 25) تاہم   کچھ عورتوں کو خاص طور پر اس مستقبل میں دیکھتے ہیں کہ یہ وجوہات بے تفریح ہیں۔ ویاہ کے خیال کا مطلب ہے کہ اپنی شرم سے بچے رہنا  ان کی یہ شرمندگی اکیلے رہنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ پر جن سرگرمیوں کی وجہ سے تھا وہ غیر شادی شدہ تھا۔

سوال: یسعیاہ 4: 2 ؛ 11: 1-4 میں، کیا یہ مسیح کی شاخ ہے؟

جواب: ہاں، شاخ  لوگوں کو پاکیزہ بنانے میں شامل ہو گی۔ خدا ان کی غلاظت کو دور کریگا لفظ شاخ لفظ نصرانی کے مشابہہ ہے۔ اور یسوع ناصرف میں بڑا ہوا۔

سوال: یسعیاہ 4: 3 میں، سارا یروشلیم کب پاکیزہ ہو گا؟

جواب: یہ مستقبل میں ہو گا ہزار سلہ دور غحکومت کے دوران۔

سوال: یسعیاہ 5: 1-12  میں، تاکستان اور اسکے مالک کے بارے بے مثال بات کیا ہے؟

جواب: یسعیاہ کا گیت خدا  کی ایک تمثیل ہے ایک تاکستان کے مالک کے طور پر وہ جس نے تاکستان کو اچھا اُگایا وہ اسرائیل اور یہوادہ کا گھرانہ ہے۔ وہاں تاکستان میں کوئی پھل نہیں تھا خدا تاکستان کے مالک کے لیے نبوت کر رہا تھا کہ بیکار تاکستان زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا وہ تباہ کر دیا جاتا ہے ۔ اسرائیل اور یہوادہ تباہ کر دیئے جائیں گے۔

سوال: یسعیاہ 5: 7 میں، یہاں یہ الفاظ کیا استعمال ہوئے ہیں؟

جواب: لفظ " انصاف" اور " خونریزی" عبرانی میں مسہپٹ اور مسفہہ ہیں۔ " پاکیزگی"  اور " مصیبت" عبرانی میں صدقیاہ اور سیقا ہیں۔  دی ایکسپوزٹر بائبل کمنٹری والیم 6 صفحہ 48  بتاتی ہے کہ کچھ  لوگوں نے دونوں مطلب کا  ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور دونوں الفاظ کو استعمال کیا۔ یسعیاہ کی کتاب میں ( H.G) جی ایچ بوکس  کو مان کر ترجمہ کیا گیا دکھائی دیتا ہے۔ پر دیکھو خونریزی اور غل غپاڑے کو۔

سوال: یسعیاہ 5: 8  میں، کیا گھر کے ساتھ گھر ملانا غلط تھا کس قدر وہ بڑے مکان کا حصہ دکھائی دیتا تھا؟

جواب: کتاب مقدس یہ نہیں کہتی ،  پر اس کی دو وجوہات  ہو سکتی ہیں۔

1: جاگیر دار دولت مند ۔  جنہوں نے اس کام کا ٹھیکہ دیا ہوا تھا ۔ اور مزدوروں پر زبردتسی کر سکتے تھے۔ جس طراں یعقوب 5: 1-6  ظاہر  کرتا ہے ۔

2: اس کے بغیر بھی خدا اپنے لوگوں کے بغیر خوش نہیں تھا جنہوں نے خدا کا شکر کیے بغیر اقبالمندی حاصل کی۔

سوال: یسعیاہ 5: 12 میں، کیا ان کی محفلوں میں استعمال  کیے گئے ساز غلط تھے یہ موسیقی میں استعمال کیے گئے سارے سازوں  کی نکتہ چینی  ہے؟

جواب: نہیں ، سارے مسیحی دو نقاط پر متفق ہو سکتے ہیں۔

1: کچھ دوسرے مذہبوں میں موسیقی کو استعمال کرتے ہیں، اور سیکولر لوگ اور عامیانہ سختی کے ساتھ ایک میوزک میں یا محرک خیال کرن والیاں دھناں جن میں پاکیزگی نہیں ہے موسیقی استعمال کرتے ہیں۔ مسیحیوں کو خاص طور پر غیر پاکیزہ موسیقی سننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

2: سارے مسیحی لوگ  چرچ سے باہر  مکینیکل سازوں کو استعمال کرنے کے خلاف نہیں۔

ہمیں اُمید ہے کہ مسیح کی کلیسیا کی غلط رہنمائی نہیں کرنی چاہیے ۔والدین ہمیشہ کہتے ہیں " تم جس قدر دنیاوی موسیقی سننا چاہتے ہو سن سکتے ہو یہاں تک کہ سوالیہ دھنوں کے ساتھ بھی لیکن یہ میرے لئے نہیں ہے  کہ آپ کو  موسیقی سنتے ہوئے پکڑوں کہ خدا کو جلال ملتا ہے! اگر مسیح کی کلیسیا کے رہنما چرچ میں مکینیکل سازوں کو استعمال کر سکتے ہیں کلیسیا کو یہ استعمال  کرنے سے کیوں نہیں روکتے؟بجائے  اس کے کہ وہ اکٹھے ملیں اور خدا کی پرستش آزادی سے کریں۔ اگر تمہارے پاس اکٹھے ملنے کے لیے اتوار کی صبح کو وقت ہے تو یہ بہت اچھا ہے۔

یسعیاہ کا آخری وقفہ 5: 12 ظاہر  کرتا ہے کہ یہ زیادہ وقت سازوں کے لیے نہیں تھا ۔ اس طرح ان کے پاس یہ وقت خدا کے کاموں کے لیے نہیں تھا۔ داؤد اور دوسرے لوگوں نے موسیقی کے سازوں کے ساتھ خدا کی پرستش کی اسکا ذکر زبور کی کتاب میں کئی جگہوں پر ملتا ہے اور یہاں تک کہ آسمان پر بزرگ بھی بربط استعمال کرتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 5: 14 میں، پاتال کیسے اپنی ہوس بڑھاتا ہے؟

جواب: یہ شاعرانہ موڈ کا جواب ہے کہ اسکی آبادی بڑھی ہو گی۔

سوال: یسعیاہ 5: 16میں،کیا دوزخ میں گئے لوگ خدا کے مرتبے کو اونچا کرتے ہیں۔

جواب: دراصل جیسے کہ تسلیم کیا ہے یہ خدا کی طرف محبت اور شفقت کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ خدا  کو جج کے طور پر دونوں اطراف سے ظاہر کرتا ہے اور خدا کے غصے کا بھی بتاتا ہے ۔ ایک   نارمن گیزلرنے کہا جہنم سارے مسیحی عقائد میں عظمت رکھتا ہے کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بندہ حقیقی طور پر آزاد  ہے "دوسرے الفاظ میں انسان کو کافی ذمہ داریاں اور آزادی دی گئی ھی۔ اور خدا نے اس کو اجازت بھی دی ہو گی کہ اگر وہ ان چیزوں کو کرے گا تو وہ جہنم کا حقدار ہو گا۔

یہ بات خدا کے مرتبے کے مطابق ہے کہ یہ صرف معائنہ نہیں ہے۔ خدا کی عظمت کا یہ مطلب نہیں  ایہہ گل رب دے مرتبے دے مطابق اے کہ ایہہ صرف معائنہ نئیں اے۔ رب دی عظمت دا ارتھ اے نئیں کہ رب چِٹا اے اتے رب صرف سچائی ، مہربانی اتے پیار نوں ظاہر کردا اے  رب دی عظمت دا ارتھ اے کہ رب دی سختی اتے دونواں دی مکمل تصویر نوں دسدا اے۔  ( رومیوں 11: 22)

سوال: یسعیاہ 5: 18-19یہ کیا کہہ رہا ہے؟

جواب:مصیبت ان کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ خدا جلدی آ رہا ہے اور ابھی تک وہ بُرے کام کر رہے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ان کو محتاط ہونا  چاہیے کہ انہوں نے کیا مانگا ہے۔

سوال: یسعیاہ 5: 21 میں، کیا پنی نظر میں دانشمند اور اپنی ہی نگاہ میں صاحب امتیاز ہونا غلط ہے؟

جواب: اگرچہوہاں کوئی دوسری وجہ نہیں ہے کہ خدا نے ان کو پسند نہیں کیاصرف یہ ہی ایک اکیلی وجہ کافی ہو گی۔ تاہم، وہاں  بڑی تعداد میں اضافی وجوہات موجود ہیں تصور کریں کہ ایک طالب علم کا مقابلہ ایک گریڈ سکول  میں ہوا۔ اس نے سوچا کہ وہ سارا کچھ جانتا ہے اور وہ اس پر فخر کرتا تھا سکول کے طالب علم کا علم ایک انسان کے علم کے برابر ہے اس لیے ہمارا علم خدا کا علم ہے۔

امثال 30: 3-4 بھی بتاتی ہے کہ جب لوگ سوچتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد رکھتے ہیں وہاں کہنے کی ضرورت ہے کہ خدا کی جماعت مجھے تمہاری ضرورت ہے۔

سوال: یسعیاہ 5: 22-23 میں، اس استعارے کا کیا مطلب ہے کہ " شراب ملانے میں پہلوان" ہیں؟

جواب: وہ الکوحل ملی ہوئی مے پینے میں ماہر تھے اور وہ اپنے ماہر ہونے پر فخر کرتے تھے۔ اور دوسرے ان کی قابلیت پر تعریف کرتے تھے ۔ آپ آگے پڑھو گے کیا آپ کو فخر ہے کہ لوگ آپ کی تعریف کریں۔

سوال: یسعیاہ 5: 23 میں، وہ کیسے لوگوں کو رشوت کے لیے راست سے ناراست ٹھہراتے ہیں؟

جواب:ایک بات سوچنے کے قابل ہے کہ مافیا کے مجرموں اور وکیلوں کے تحفظ کے لیے اٹارنیوں کے تعلق سے خاص طور پر بائبل میں آیت لکھی ہے۔عدالت کے مقدمے میں فیصلے خریدے جاتے ہیں۔ جذب ہونے والی سیاست اور دوسروں کی صورت حال لوگ اس خطا کار جماعت کو آزاد کر سکتے ہیں ان کو ایسا کرنے کی آزادی کے ساتھ اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ الزام کو دوسری جماعت پر آسانی سے منتقل کریں یا ایک جماعت پر الزام لگا دیں جب کہ یہ بتایا گیا ہے۔

سوال: یسعیاہ 5: 24 میں، لوگ کیسے خدا کے کلام کو حقیر جانتے ہیں؟

جواب: وہ اس کو  مختلف ورائٹی کے طریقوں کے ساتھ حقیر  کر سکتے ہیں۔

نظر انداز کرنا: کچھ عام طور پر اس کو اہمیت نہیں دیتے کہ بائبل کیا کہتی ہے ۔ ان کے کریڈٹ کم از کم وہ بائبل کی پیروی نہ کر کے اس کے بارے ایماندار تو ہیں۔

مزاق اڑانا:  بائبل کیا کہتی ہے کہ ایک بندہ ہونے کے ناطے ظاہر ہے کہ وہ اپنے طریقے سے ان چیزوں کو کرے۔

تعریف کرنا: الفاظ کی تعریف کرنا اس طریقے سے انسان بائبل کی پیروی کرنے  کا دعویٰ کر سکتا ہے مگر ان حصون پر اور بائبل پر ایمان رکھنا نہیں چاہتے اور اس کو روائیتی یا ثقافتی طور پر کہہ سکتے ہیں یا صرف ایک وقت کے لیے۔ اگر کوئی اس طریقے کے ساتھ بتاتا ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ بائبل کی تشریح کرنے کی کوشش کر رہا ہے مکمل طور پر اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اصل لکھاری کی کیا خواہش تھے۔ 

کم کرنا:  کچھ مسیحی آزادی کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل خدا کا کلام نہیں ہے۔ پر خدا کا کلام اس کے اندر ہے اس ذریعے سے ان کا کیا مطلب ہے کہ اگر آپ بائل کے کسی حصے پر متفق ہو تو یہ حصہ آپ کے لیے خدا کا کلام بن جائیگا ۔ اگر آپ اس حصے کے ساتھ متفق نہیں تو آپ اس کی پیروی نہیں کرتے۔

اضافہ: کچھ خاص طور پر کیتھولک ارو کچھ طریق عبادت کہتے ہیں کہ بائبل ٹھیک ہے پر کافی نہیں۔ یہ کچھ اختیار والوں کا تقاضا کرتی ہے اور یہ تعلیمات بائبل کے ساتھ برابر ہوں۔

متبادل: اور  کچھ اس کے متبادل دوعیٰ کرتے ہیں یا اضافہ کرتے ہیں کہ بائبل کیا ہے حقیقت میں خدا کی تعلیمات ان کی روایات کے متبادل ہیں ۔ یسوع مسیح نے ایک مثال دی تھی فریسی نردان کو اپنی روایات کے مطابق استعمال کرتے  تھے ( مرقس 7: 9-13)۔

سوال: یسعیاہ 5: 26 اور  زکریاہ 10: 8 میں، کیا یہ غیر موزوں  ہے کہ خدا " آواز " دیتا ہے جیسے مسلمان احمدی دعویٰ کرتے ہیں؟

جواب: حقیقی طور  پر   یسعیاہ 5: 26 سی سی کی آواز نہیں دے رہا  بلکہ " سیٹی "  کی آواز دے رہا ہے جیسے کسی کو آنے کے لیے مکار رہا ہے۔ یسعیاہ 5: 26 بتات ہے کہ ان کے لیے سیٹی بجائی جائے گی۔اسطرح زکریاہ 10: 8  بتاتا ہے  کہ میں ( خدا) ان کے لیے اشارہ کروں گا اور وہ اکٹھے ہوں گے ۔ یہ غیر موزوں نہیں ہے کہ خدا کسی کو پکارتا ہے اور اس کو آنا پڑتا ہے ، اور کیا وہ دعوت دیتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 5: 27-28  میں، کیا اس فوج کا اشارہ بابل کی طرف ہے یا مکاشفہ میں ایک فوج کی طرف؟

جواب: اس وقت یہ اشارہ ابتدائی طور پر بابل کی فوج کی طرف تھا۔

سوال: یسعیاہ 6: 1 میں، کیا یسعیاہ جسمانی طور پر موجود تھا کیا وہ رویا دیکھ رہا تھا؟

جواب: جب کہ ہو سکتا ہے کہ یسعیاہ جسمانی طور پر مختلف جگہوں پر موجود نہیں تھا ۔ یہ آیات  نہیں بتاتی وہ عام طور پر بتاتی ہیں کہ یسعیاہ نے کیا دیکھا اس لیے اس نے زیادہ تر رویا دیکھی تھی۔

سوال: یسعیاہ 6: 1 میں، نبی کے وقت میں کیا بجلی کو سرافیم کے ساتھ تشبیہ دی گئی تھی اور اور تیز طوفانوں کا دھماکہ تھا جیسے کوئی فرشتہ کھڑا  ہے جیسے ایک سکیپٹک نے دعویٰ کیا تھا؟

جواب: نہیں وہاں اس دعویٰ کی  کوئی صداقت نہیں ملتی اگر ایک سائنس دان نے سائنسی طریقے سے اس دعویٰ کا اقرار کیا ایک چھوٹے ثبوت کے ساتھ جیسے یہ رکھتا ہے وہ ملاپ پر ہنسا ہو گا۔

سوال: یسعیاہ 6: 2 میں، کیا یہاں سرافیم ایک طرح کے ہوتے ہیں جیسے حزقی ایل 1: 5-25؛ 9: 3؛ 10: 1-22؛ 41: 18 میں کروبیم اور مکاشفہ میں چار جاندار مکاشفہ 6: 9  ہیں؟

جواب: مسیحیوں کے دو نظریات ہیں۔

  نہیں: اگر وہ ایک طرح کے ہوتے تو بائبل صرف یہ الفاظ استعمال کرتی ۔ مگر بائبل دو الفاظ استعمال کرتی ہے اور اس طرح ہی ہمیں کرنا چاہیے۔

ہاں: یہ غیر معمولی ہے اور نہ ہی اس کا بیان دوسرے بیانوں  کے ساتھ نا مکمل ہیں۔  حزقی ایل 41: 18 میں کروبیم انسانی چہرے کے ساتھ ظاہر ہوتے تھے اور ایک چہرہ ببر کہ طرح تھا۔

سوال: یسعیاہ 6: 3 میں، کیا وہاں عبرانی کا  لفظ سرافہ استعمال ہوا ہے؟

جواب: فرشتوں کی نسل سرافیم کہلاتی ہے پرانے عہد نامے میں کہیں بھی اس بات کر ذکر نہیں ہوتا۔ تاہم، کچھ سوچتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ کروبیم ان کی طرح ہوں۔ جیسے پچھلے سوالوں پر بحث ہوئی ۔ یہاں عبرانی لفظ کا مطلب ہے " شعلہ" ہے اور اس کو اسم صفت کے طور پر گنتی میں "جلانے والے سانپ "استعمال کیا گیا ہے۔ گنتی 21: 6، 8  اور یہ  یسعیاہ 14: 29؛ 30: 6  میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔  

سوال: یسعیاہ 6: 3 میں، سرافیم یہ کیوں کہہ رہے تھے؟

جواب:  جب کہ کتاب مقدس نہیں بتاتی ہم یہاں تین مشاہدات کر سکتے ہیں۔

1: ہو سکتا ہے کہ سب چیزیں جو  یسعیاہ 6: 3  میں کہہ رہی ہیں۔ یہ ظاہری طور پر بہت ضروری ہیں۔

2:یہ چار جانداروں کے مشابہہ ہے ( شاید سرافیم مکاشفہ 4: 9  میں بیان ہے) فرق یہ ہے کہ سب دھرتی اس کے جلال کے ساتھ معمور ہے بمقابلہ وہ جو تھا، جو ہے اور جو آتا ہے۔

3: دونوں صورتوں میں پاکیزگی تین بار بیان کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسکا اشارہ تثلیث کی طرف ہو۔

سوال: یسعیاہ 6: 4 میں، کیا یہ سرافیم ہی کہہ رہے ہیں؟

جواب:  کتاب مقدس یہ نہیں بتاتی کہ یہ وہ سارے کہہ رہے ہیں۔ تاہم وہاں کچھ بھی یقینی طور پر اس سچائی کے بارے بے جا نہیں ہے۔

سوال: یسعیاہ 6: 7 میں، ایک کوئلہ کیسےبدکاری کو دور کر سکتا ہے؟

جواب: کوئلے نے گناہ کو دور نہیں کیا بلکہ خدا نے یہ ایک رویا تھی اور کوئلہ خدا کے واقع کا ایک نشان ہے جسکے ذریعے سے یسعیاہ کی بدکاری دور ہوئی۔ کچھ دیکھتے ہیں یسعیاہ کی بدکاری کو دور کرنا عام بات ہے دوسرے خیال کرتے ہیں کہ ہو سکتا ہے  کہ یسعیاہ کا منہ گناہوں کی وجہ  سے ناپاک ہو اور خدا نے اس طریقے سے اسکے منہ کو چھوا۔

سوال: یسعیاہ 6: 8 میں، کیا یسعیاہ کے منہ پر کوئلہ لگنے سے مکمل طور پر پاک ہو گیا تھا؟

جواب:  نہیں ، کتاب مقدس یسعیاہ کے گناہوں کے متعلق بالکل خاموش ہے  نہ ہی یہ پیراگراف اور نہ ہی دوسرے پیراگراف یسعیاہ کی بے گناہی کے دلائل دیتے ہیں۔ صرف اس لیے یہ پیراگراف کہتا ہے کہ یسعیاہ کو پاک کیا گیا تھا کیا وہ اپنی خدمت سے بیکار دکھائی دیتا تھا۔

سوال: یسعیاہ 6: 8 میں، کیوں خدا  جان بوجھ کر تمام سوال پوچھتا ہے؟

جواب: وہ ہم سے سوال کرتا ہے اور ہمیں موقع دیتا ہے کہ  ہم اسکی طرف رد عمل ظاہر کریں ۔ کچھ سالوں بعد سقراط نے ایک مشہور سوال پوچھا کیا بعد میں سقراط  کے طریقہ کی تعلیم جانی گئی تھی۔

سوال: یسعیاہ 6: 9-10 میں، خدا کیوں چاہتا  ہے کہ لوگ سنیں پر نہ سمجھیں؟

جواب:  اس سوال کو سمجھنے کے لیے چار نکات ہیں ۔

1:خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا ( حزقی ایل 18: 22-32؛ 2  پطرس 3: 9)

 2: یسعیا ہ 6: 10 اور لوقا 1: 51-53 بھی بیان کرتے ہیں کہ خدا ان کو سمجھ نہیں دینا چاہتا۔

یسوع  نے بذات خود متی 13: 14-16  میں لوگوں کو یسعیاہ کے الفاظ یاد دلائے کیوں؟ کتاب مقدس دو وجوہات دیتی ہے۔

3:  انکا فخر شرمندہ ہو ( 1 کرنتھیوں 1: 26-30) وہ جو اپنی ضرورتوں کو خدا کے لیے پورا کرنے پر فخر نہیں کرتے یا جنہوں نے اپنی ہی حکمت سے جنت میں جانے کی کوشش کی نہ کہ خدا  کی رحمت کے ساتھ ، خدا انکی حکمت کو رد کرے گا اگر وہ دیکھیں کہ انکی عقل کتنی چھوٹی ہے تو وہ خدا کی طرف پھریں گے۔

4۔ خدا کا ان پر فضل : ان کے لیے وہ جو خدا پر اعتماد کو ٹھوکر مارتے ہیں 2 پطرس 2: 21-22؛ رومیوں 4: 15؛ 5: 13۔ بیان کرتے ہیں کہ جو گناہ معصومیت میں ہوتا ہے یہ لاپرواہی ان کے خلاف شمار نہیں کی جاتی۔ ( نوٹ کریں رومیوں 1: 18-22 بیان کرتی ہے کہ وہ لوگ جو حق کو دبائے رکھتے ہیں یہ ناراستی کی خطا ہے۔

سوال: یسعیاہ 6: 11 میں، یہاں یسعیاہ واضح طور پر کیا کہہ رہا ہے؟

جواب: لوگ بے حساس ہونگے جب یہ ہولناک سزا وقوع پذیر ہو گی ۔ ایک سائیڈ کے طور پر نوٹ کریں۔ یہودیوں / اسرائیلیوں کے درمیان ایک چابی کا فرق ہے۔ اکثر اسرائیلی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور یہودی نہیں کرتے تھے ۔ یسعیاہ 5: 13 کہتی ہے کہ خدا کے لوگ اسیری میں جائینگے کیونکہ ان میں تعلیم کی کمی ہے۔

سوال: یسعیاہ 6: 12-13 میں، خدا کا یسعیاہ کو جواب دینا کا کیا  مطلب ہے؟

جواب: یسعیاہ نیں  نبوت کی تھی جب تک  اسکی موت نہ  ہوئی تھی ۔ یا عدالت کا وقوع نہیں ہوا تھا تاہم عدالت کے بعد کچھ لوگ باقی بچ جائیں گے۔

سوال: یسعیاہ 6: 13 میں، ٹربنتھ   کا درخت کیا ہے؟

جواب: ٹربنتھ دا درخت زمین سے 25 فٹ بلندی تک پھیلے ہوتے ہیں اسکا سائنسی نام پستیہ ٹربنتھ فلسطین میں مختلف قسم کی ورائٹی میں پائے جاتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 6: 13 میں، اسرائیلی اور یہودی کیسے بلوط کے درخت اور اسکے پھل کی مانند تھے؟

جواب: ایک بلوط کا درخت کٹ سکتا ہے لیکن اسکا تنا نئے سرے سے پھوٹ نکلتا ہے۔ اس کے بیج نئے سرے سے دوسرے درخت پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسطرح پودے زندہ رہ سکتے ہیں اگرچہ آبائی پودے مر جاتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 6: 13 میں، فلسطین میں بلوط کے درخت کی کتنی زیادہ قسمیں پائی جاتی ہیں؟

جواب: وہاں پر بلوط کے درخت کی تقریباً 24 قسمیں ہیں۔ جو فلسطین کرکس کہلاتی ہیں کچھ الیگز، کوکسفیہ، فططینہ، سیسلیفلورا، لنسیٹانیسہ، ایگیلوپز اور سیسرس کی قسمیں ہیں۔

سوال: یسعیاہ 7: 1 میں، یروشلیم پر چڑھائی کب ہوئی؟

جواب: مختصر اصطلاح میں خدا نے یروشلیم کو اسوریہ سے رہائی  دلائی تھی مکمل طور پر خدا نے اپنے لوگوں کی خلاصی مسیح کی پر مسح صلیب پر موت کے ذریعے سے کی تھی۔

سوال: یسعیاہ 7: 2 میں، افرائیم کون ہیں؟

جواب: یعقوب کے اس بیٹے  کا نام تھا یہ جنوب کے بڑے قبیلے کا مترادف تھا۔ جنوب کے اس بڑے قبیلے کا ذکر ہو رہا تھا وہ  جنوب کی پوری سلطنت کے مترادف تھا۔

سوال: یسعیاہ 7: 3 میں، میں شیاریاشوب کون تھا؟

جواب: یہ یسعیاہ کا بیٹا تھا اس نام کا مطلب یہ " دوبارہ آئیگا"۔

سوال: یسعیاہ 7: 5، 9 میں، کیا اسکا مطلب بادشاہ فِقح کے نام کے ذریعے سے اشارہ کرنا نہیں ہے لیکن وہ صرف اسکی طرف اشارہ کر رہا ہے رملیاہ کے بیٹے کے طور پر؟

جواب: اس کا مطلب دو وجوہات کی بیزاری ہے۔ فقح اسرائیل کا صحیح بادشاہ نہیں تھا۔ فقح نیں فقحیاہ سے فریب کیا اور خود بادشاہ بن گیا۔ ( 2 سلاطین 5: 23؛ 2 تواریخ 28: 6 میں فقح نے یہوداہ کے 120000 لوگوں کو مار دیا۔ فقح 20 سال حکومت کے نتیجے کے طور پرہوسیع نے اس کے خلاف بغاوت کی 2 سلاطین 15: 3۔

سوال: یسعیاہ 7: 8-9 میں، یہاں پر لغوی ساخت کیا ہے؟

جواب: ذیل میں اسکی ساخت بیان کی گئی ہے۔

A1:  ارام کا دارلسطنت دمشق ہے۔

B1:  اور رضین دمشق کا سردار ہے۔

C1: اور انکے ساتھ ہی۔۔۔۔۔ ٹوٹ جائیگا لوگ اس میں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔

A2: اور افرائیم کی سلطنت سامریہ ہے۔

B2:  رملیاہ کا بیٹا سامریہ کا سردار ہے۔

C2:  اگر آپ ایمان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے اسطرح تم بھی کھڑے نہیں رہ پاؤ گے۔

اسکے علاوہ آپ نے اچھی شاعری لکھنا شروع کی ہے تو یہ طریقہ ہم پر ظاہر کرے گا کہ  ذاتی لائنیں لکھی گئی تھی   یا نہیں یا اسکو ختم کیا گیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 7: 10-11 میں، آخز کو کیوں بتایا گیا کہ وہ یہاں پر کوئی نشان طلب کرے؟

جواب: خدا آخز کو دعوت دیتا ہے  کہ وہ خدا سے کوئی نشان یا معجزہ طلب کرے، آخز نے ایسا کرنے کا انتخاب نہیں کرنا ہے۔ اور آخز نے اسکو دیکھنے کے لیے کوئی موثر نشان نہیں دیا تھا۔ بجائے خدا نے اس نبوت کو دہری معموری دی۔  لفظ  عورت یہاں پر اس کا ترجمہ " جوان دوشیزہ" یا کنواری کے طور پر ہو سکتا ہے۔ یسعیاہ کی بیوی کے بیٹا ہوا اس نے جلد ہی اس نبوت کر پورا کیا۔ خاص طور پر اسکی پیدائش کے متعلق کوئی معجزہ دیکھنے کو نہیں ملتا  ایک صدی بعد یسوع ایک کنواری دے پیدا ہو گا۔

یہ ان لفظوں کی تفصیل کا  ثبوت دے سکتا ہے جیسے کنواری " ایک مسیحی کو ایجاد " نہیں کرتی ہے۔ یونانی سپٹوجنت ترجمہ مسیح سے ایک صدی پہلے لکھا گیا اس لفظ کا ترجمہ پارتھینس یا کنواری ہوا ہے۔

سوال: یسعیاہ 7: 10-12 میں، کیا آخز خدا پر ایمان رکھتا تھا یا نہیں؟

جوا: شعوری طور پر آخز خدا پر ایمان رکھتا تھا۔ تاہم اس نقطے کے مطابق وہ خدا پر اعتماد نہیں کرتا تھا کہ وہ اسے نجات دینے والا ہے۔ یسوع مسیح کی تمثیل میں چار قسم کی  مٹی کا ذکر کیا  ہے۔ مسیح نے بیان کیا ہے کہ وہ جنہوں نے ایمان رکھا لیکن مشکل وقت ایذا رسانی کے دوران بھاگ گئے۔

سوال: یسعیاہ 7: 12 میں، کیوں آخز مانگنا نہیں چاہتا تھا؟

جواب: اس پر یہ  ظاہر ہوتا ہے کہ آخز خدا کو آزما کر گناہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تاہم آخز خدا کی پیروی نہیں کر رہا تھا ۔ جب خدا یسعیاہ کے ذریعے سے مانگنے کی ہدایت کرتا ہے۔ آخز اپنے دل کو جانتا تھا شاید اس کے پاس ایمان اور اعتماد نہیں تھا کہ خدا اس صورت حال میں کام کرے گا، اور وہ اس صورت حال میں پر سکون نہیں تھا وہاں پر ایمان کی ضرورت  تھی۔

اگر ہم اس صورت حال میں ہیں یاد رکھیں کہ یہ خداوند ہے جو کام کر رہا ہے نہ کہ ہم۔

سوال: یسعیاہ 7: 13 میں آخز کیسے خدا کو بیزار کر رہا تھا اور آخر کیسے لوگ خدا کو بیزار کر سکتے ہیں؟

جواب: نہ کہ صرف آخز خدا کو بیزار کر رہا تھا لیکن داؤد کا گھرانہ جو یہوداہ کا  بادشاہ ہے خدا کو بیزار کر رہا تھا۔ وہ خدا کی پیروی کرنے کا بہانہ کرتے تھے لیکن وہ اپنے دلوں سے اسکے تابعدار نہیں تھے۔

 آج خدا لوگوں سے بیزار ہو سکتا ہے کیونکہ یہ امت ہونٹوں سے تو خدا کی عزت کرتی ہے لیکن ان کے دل خدا سے دور ہیں۔ ( متی 15: 8-9؛ یسعیاہ 29: 13)

سوال: یسعیاہ 7: 14 میں اور یسعیاہ 8: 8 عمانوائیل کا مطلب خدا ہمارے ساتھ ہے کیا اسکا اشارہ یسوع مسیح کی طرف ہے؟

جواب: ہاں متی 1: 23 آیت کے مطابق ویسے توں ال خصوصاً نام میں عام پایا جاتا ہے۔ عمانوائیل بائبل میں انجان نام کی طرح ہے یا تھیم جو یہاں استعمال ہوا ہے طرطولین ان اینگیسٹ مارکون بک 3 سبق 12 ( 207 م) میں بھی یہ بیان ملتا ہے۔ تاریخی طور پر ایک ابتدائی مسیحی ان پیراگراف کو عام  طور پر استعمال کرتا ہے۔ ائرینیس میں اینگیسٹ ہیرسز میں استعمال ہوا تھا صفحہ نمبر 452 ( تقریباً 182-188 م میں لکھا گیا)  اوریجن ( 225-254 م) یہ مسیح کے عقیدے کے طور  پر اوریجن اینگیسٹ سیلوسس بک 1 سبق 36 صفحہ 411 میں بھی ذکر کیا گیا ہے ۔

سوال: یسعیاہ 7: 14 اسوقت مسیح عمانوائیل کہلائے گا تو لوقا 1: 31 میں یسوع کیوں کہلاتا تھا؟

جواب: ایک چینی مسیح کو اس سے بہت دقت پیش آئی اور جہاں پر اسکو اسکا جواب دیا گیا تھا۔  جب  تم پیدا ہوئے تو تمہیں کیا نام دیا گیا تھا ؟ یہ آپ کا چینی نام تھا ، ٹھیک ہے؟ اب امریکہ میں کام کرنے والی عورتیں کس نام سے پکارتی ہیں؟ یہ آپکا انگریزی نام ہے اسی طریقے سے صحیح طور پر مسیح کا پیدائشی نام " یسوع" ہے تاہم، یسوع خدا ہے اور وہ عمانوائیل کہلاتا ہے جسکا ترجمہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔

سوال: یسعیاہ 7: 14-16 میں، کیا یہ اشارہ اسور کے بادشاہ کی طرف ہے یا یسوع کی طرف؟

جواب: دُگنی معموری کے ساتھ یہ ایک نبوت کی مثال ہے ۔ سب سے پہلے عراقی لفظ تم کے لیے استعمال ہوتا ہے یہں پر وہ جمع ہے اسطرح یہ نبوت کسی ایک کی طرف اشارہ کرتی ہے غالباً یسعیاہ کے بیٹے کی طرف ، اسی طرح کنواری سے  یسوع مسیح کی پیدائش یہاں پر کنواری لفظ بہت دلچسپ ہے ۔ وہاں پر دو عبرانی لفظ کنواری کے لیے  استعمال ہوئے ہیں ایک عبرانی لفظ ( بتیولہ) کا مطلب ہے کبھی مرد کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کیے لیکن یہ لفظ یہاں پر استعمال نہیں ہوا۔ جو لفظ استعمال ہوا تھا ( آلمہ)  اسکے دو مطلب ہیں کبھی کسی مرد کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں کیے تھے اور عام لفظوں میں نوجوان دو شیزہ بھی تھا۔ ثبوت کے طور پر لفظ کنواری کے لیے سمجھا جاتا تھا  پرانے عہد نامے کے یونانی ترجمے میں جو سپٹوجنٹ کہلاتا ہے اسمیں پارتھینس استعمال ہوا  تھا۔ جسکا مطلب صرف کنواری ہے۔ انسیکلوپیڈیا آف بائبل ڈفیکلٹیز صفحہ 267-268 کو بھی اٹھایا گیا ہے جو بائبل میں سات المہ لفظوں کو استعمال کرتا ہے۔ ہر ایک  وقت میں یہ نوجوان  دو شیزہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے کبھی بھی جنسی تعلقات نہیں کیے تھے۔

طرطولین کی پانچ کتابیں ایگنیسٹ مارکون بک 3 سبق 13 ( 207 م) اسکے خلاف جواب دیا گیا تھا۔ وہ کہتا ہے تاہم، انہوں نے اس سوچ کے ذریعے سے اسکی تردید کی یہ قدرتی نشان نہیں ہے۔ جسکا ممکن طور پر کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا ہے ، حمل اور ایک نوجوا ن عورت کا ایک بچے کو برداشت کرنا کیا یہ واقعات روزانہ وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ایک کنواری خدا کے نشان کو پورا کرتا ہے۔

سوال:  یسعیاہ 7: 14-16 میں، اس وقت عبرانی الفاظ  ہا المہ کا مطلب ہو سکتا ہے " نوجوان دو شیزہ اسطرح کنواری متی 1: 23 میں کیوں بیان کرتا ہے کہ یسعیاہ 7: 14-16 بیان کرتا ہے کہ ایک کنواری کے بیٹا ہو گا؟ یہ یسعیاہ کے وقت میں پورا نہیں ہوا تھا؟

جواب: بہت ساری نبوتوں کی دوسری تکمیل ہوئی ہے خاص طور پر یسعیاہ 7: 14-16 میں استعمال ہوتا ہے ایک عبرانی لفظ المہ جو " دو شیزہ" یا  " کنواری"  اس طرح کے الفاظ مریم کے بچے کے لیے استعمال ہوئے  تھے۔ خروج 2: 8 میں وہ دونوں تھے  وہاں پر ایک عبرانی لفظ " کنواری" کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بتیولہ لیکن یہاں استعمال نہیں ہوا تھا۔ نبوت 735 ق م میں بیان کی گئی تھی اسور 732 ق م میں تباہ ہو گیا تھا اور 12  یا 13 سالوں کے بعد اسور کی تباہی اور اسرائیل کی اسیری  کی اس دوہری  نبوت کی تکمیل ہوئی تھی۔

بیتولہ ایک وجہ سے یہ نہیں استعمال ہو سکتا تھا پرانے طریقہ استعمال میں اس کا مطلب کنواری نہیں تھا مثال کے طور پر بیتولہ کا مطلب عورت ہے جسکی یوایل 1: 8 میں شادی ہوئی اور یرمیاہ 25 میں کئی دفعہ۔

اسکا اشاری کنواری کی پیدائش کی طرف بھی ہے ثبوت کے طور پر یہ سمجھا گیا تھا اس طریقے سے سپٹوجنٹ یسوع مسیح کی آمد ثانی پر سینکڑوں سال پہلے ترجمہ ہوا لفظ پارتھینس کا ترجمہ جسکا مطلب صرف کنواری ہے اس لیے جبکہ سپٹوجنٹ ترجمہ دونوں لفظوں کا ترجمہ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہودی ترجمہ کرنے والے مکمل طور پر قبول ہی کرتے تھے کہ اسکا مطلب " کنواری " ہے۔ ہارڈ سینگ آف دی بائبل صفحہ 300-302 تین نقاط بیان کر رہی ہے۔

A:  " تم" جمع کا صیغہ ہے  اِس کا مطلب اُس کا داؤد کے گھرانے کی طرف  اشارہ ہے نہ کہ صرف آخز کی طرف ۔

B:  لفظ آلمہ خواہ کنواری یا دو شیزہ کی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے لیکن وہاں پر اکیلی مثال نہیں ہے وہاں پر اسکا مطلب ہے شادی شدہ خاتون ۔

C:  صحیح آرٹیکل میں آلمہ سے اسکا ترجمہ " کنواری یا دو شیزہ" کے طور پر ہونا چاہیے تھا۔

سوال: یسعیاہ 7: 14-16 میں، کیا آخز کے بیٹے حزقیاہ کی پیدائش کی نبوت جلد پوری ہو سکتی  تھی؟

جواب: نہیں۔ کیونکہ اس نبوت کے وقت حزقیاہ تقریباً  دس سال بڑا ہو گا۔

سوال: یسعیاہ 7: 14 میں، وہ کون عورت تھی جو اسوقت اِس سفر میں مبتلا تھی؟

جواب: اس نبوت کی دہری تکمیل ہے آخری تکمیل یسوع مسیح کی ماں مریم ہے کچھ تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ یہ یسعیاہ کی بیوی نہیں ہو سکتی کیونکہ یسعیاہ کی بیوی کے پہلے ہی بیٹا پیدا ہوا تھا اور اس لیے وہ کنواری نہیں تھی   اور  یسعیاہ کے بیٹے کا نام عمانوائیل نہیں تھا۔ ۔ ایک اور تبصرہ نگار شمار کرتا ہے کہ اسکا اشارہ اس عورت کی طرف ہو سکتا ہے جو یسعیاہ کی دوسری بیوی کے طور پر منگیتر  تھی۔  کیونکہ اسکی پہلی بیوی مر گئی تھی  مختصر طور پر شیار یاشوب کی پیدائش کے بعد۔

ایک ہاتھ پر تبصرہ نگار تجویز کرتا ہے کہ عام طور پر ایک ماں کی تکمیل جلدی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی حزقیاہ لیکن ایک ہی وقت میں  یسعیاہ کا شاہی خاندان سے ہونا یہ اسطرح بیان کرتا ہے کہ یسعیاہ کی بیوی یسعیاہ 8: 3 میں نبیہ کہلائے گی یہاں پر ابھی یہ نا قابل شناخت ہے ۔ اس سوچ کے خلاف ہے یہ یسعیاہ کی بیوی / مریم کے دوشیزہ / کنواری کے ساتھ اس دوہری تکمیل کا عشریہ ہے۔

نتیجہ:  آج ہم نہیں بتا سکتے کہ وہ کون  عورت تھی جس کے لیے یہ تکمیل ہوئی تھی ۔ سوائے اسکے کہ وہ حزقیاہ کا بیٹا نہیں تھا تاہم آخری تکمیل یسوع اور مریم  کے ساتھ ہوتی ہے متی کے طور پر : ۔ -

: سوال: یسعیاہ  میں، یہ عمر کے قابل فہم کا تصور مدد گار ہوتا ہے؟

جواب: اسکی حمایت کرتا ہے لیکن اسکو ثابت نہیں کرتا یہ ایک عمر ہے جو مختلف بچوں کے لیے مختلف ہو سکتی ہے  جب وہ اچھائی برائی کو جانتے ہیں رومیوں:   بیان کرتا ہے کہ گناہ ایسے ہی موجود رہتا ہے لیکن قانونی طور  پر اسکو شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ جب ایک آدمی کو قابل شناخت نہیں سمجھا جاتا تھا تو یہ غلط تھا۔ بہت سارے مسیحی بچے اور جوان سوچتے ہیں وہ جو مر جاتے ہیں اسوقت انہو ن نے کوئی بھی بین الاقوامی گناہ نہیں کیا ہوتا۔ وہ یسوع مسیح کے ذریعے جنت میں جائیں گے یسوع کو انہیں نجات دینے انکو وراثتی اور انکے غیر بین الاقوامی گناہوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہے ۔ متبادل خیال یہ ہے کہ جلد ہی موت کے بعد کو لوگ یسوع مسیح کی تعلیمات کو قبول کیے بغیر مر جاتے ہیں یا اس کو رد کر دیتے ہیں یسوع انکو ایسا فیصلہ کرنے  کا موقع دیگا اگر وہ زندہ ہیں تو وہ یہ فیصلہ کریں گے حمایت ۔ اسکے لیے  چندہ ہے 2 پطرس 3: 19-20 اور 2 پطرس 4: 5-6 تیسرا خیال یہ ہے  کہ اسوقت دونوں جو قانونی ہے یا غیر قانونی ہزار سالہ  دور حکومت کے دوران زندہ کیے جائنگے وہ جنہیں پہلے موقع نہیں ملا تھا تب وہ موقع حاصل کریں گے آپ ہزار سالہ دور حکومت کے متعلق مکاشفہ 20: 2-11 پڑھ سکتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 7: 20  خدا کا استرے کے ساتھ بچانے کا کیا مطلب ہے۔

جواب: دو نقاط کا سامنا ہوتا ہے۔

1: استرے سے قریب تر شیو ہوتی ہے اور اسور کی چھری انکی جلد کو کاٹنے  کے لیے تیار ہے اور قریب ہے کہ وہ انکے ساتھ پکارے جائینگے۔

2: اس ثقافت میں یہ ایک آدمی کی شیو کی بد عزتی تھی کہ کوئی اسکی مرضی کے خلاف اسکی داڑھی مونڈے 2 سیموئیل 10: 4 اشارہ کرتا ہے کہ اسوریہ کے ذریعے سے یہ قوم  کی عزت نفس کو صدمہ پہنچائے گی۔

سوال: یسعیاہ 7: 20 میں، یہ نامناسب موزوں ہے کہ خدا حجام کہلائے جس طرح مسلما ن احمدی دعویٰ کرتے ہیں؟

جواب: یسعیاہ 7: 20 بیان نہیں کرتا کہ خدا حجام ہے لیکن استعارے کے طور پر استعمالہوا ہے کہ خدا غیر متقی اسرائیلیوں کی داڑھی مونڈھے گا۔ ایک مرد کی اسکی مرضی کے خلاف داڑھی مونڈھنا یہ اسکی عزت نفس کو صدمہ پہنچائے گا۔

سوال: یسعیاہ 7: 21-25 میں، کیا یہاں پر صحیح  پیشن گوئی ہوئی ہے؟

جواب: اس دعوے کا اشاری درجہ بدرجہ اسرائیل میں  تبدیل ہوتا ہے ۔ اسرائیلی آج آبیاری کے بغیر زیادہ بنجر ہونگے یہ مسیح سے پہلے کا وقت تھا۔

سوال: یسعیاہ 8: 1 کیا یہ دنیا " طومار" یا " لوح " ترجمہ کی جانی چاہیے؟

جواب: عبرانی لفظ بیان پر گیلے اون ہے اس کا سادہ سا مطلب ہے ایک بڑی چپٹی کی طرح کی لکھائی۔ اس لیے یہ مختلف قسم کے طریقے سے ترجمہ ہو سکتی تھی۔

سوال: یسعیاہ 8: 3 میں، کون نبیہ ہے؟ کیا اس نے بھی کوئی نبوت کی تھی؟

جواب: یہ یسعیاہ کی بیوی ہے ہو سکتا ہے اس نے بھی کوئی پیشن گوئی کی ہو اسطرح یہ ہے کہ وہ نبیہ کہلاتی تھی کیونکہ وہ نبی کی بیوی تھی۔

سوال: یسعیاہ 8: 6 میں شیلوخ کا پانی کیا ہے؟

جواب: بہار کا شلوم بھی کہلاتا ہے یہ خفیہ تھا آہستگی سے بہار میں زیر زمین بہتا تھا۔ جو یروشلیم کو پانی مہیا کرتا تھا۔ زندگی دریائے فرات کے سخت سیلاب کے ساتھ چشمے کے فرق کو تقویت دے رہی ہے۔

سوال: یسعیاہ 8: 8 کیسے لفظ عمانوائیل یسوع کے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟

جواب: جہاں عمانوائیل کا مطلب ہے " خدا ہمارے ساتھ۔ اس عبارت کی ایک صورت حال ہے کہ خدا ہماری مدد کرتا ہے ۔ جبکہ یہ آیات یسوع مسیح کے بارے میں کچھ خاص بیان نہیں کرتی اس لفظ کی صورت حال مسیح کی نبوت ہے یسعیاہ 7: 14 ہمیں بتاتا ہے۔ خدا کے وعدوں پر ہم کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں افرات کا طاقتور پانی اسور کی قوم کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ممکن ہے بابل  کی طرف بھی۔ کہ جو یہوادہ کو زیادہ تر اسکی گردن تک ڈبوئے گا۔

لفظ عمانوائیل پر  سننے والے کو بھروسہ ہے کہ خدا لوگوں کے ساتھ اپنے وعدوں کو نہیں بھولا تھا۔ اور وہ انکے ساتھ ہو گا۔

دراصل لفظ عمانوائیل یسعیاہ 8: 1-10 میں لازمی لفظ ہے، یسعیاہ 8: 1-8 کا مطالعہ اور آیت 8 کا درمیان اسے  روک دیں ایک تو اس آیت کا اثر حاصل کر  سکتے ہیں کہ آدمی کا " سیلاب " اس طرح کام کرے گا کہ یہوادہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیگا۔ تب عمانوائیل خدا کا وعدہ ہے جو وہ پورا کرے گا یہ گرانٹی  دے رہا ہے کہ یہوادہ زندہ رہے گا۔

یسعیاہ 8: 8b-10 ان آیات کے بیان میں گہرا فرق ہے، حملہ آور قومیں ختم ہو جائیں گے۔

حیرت انگیز طور پر کہ یہوادہ کی فتح پر کوئی وعدہ نہیں ہے۔ صرف خدا کے دشمنوں کا خاتمہ ہے اور وہ زبانی بات ہے وہ جو ختم کرنے جا رہے تھے یسعیاہ 10: 10b بیان کرتا ہے " خدا ہمارے ساتھ ہے " ۔

سوال: یسعیاہ 8: 14 میں، خدا کیسے متبرک ہے؟

جواب: جبکہ پاکیزگی ایک مقدس مقام ہے۔  جو کہ ایک ابتدائی نقطہ نہیں ہے بلکہ خدا ایک پناہ ایسے ہی کہ جب کوئی خدا میں پناہ تلاش کرتا ہے ایسے ہی اس کے لیے متبرک ہے ۔ خدا انکی پناہ ہو گی۔

سوال: یسعیاہ 8: 18 میں، یہ نبوت کب پوری ہوئی تھی؟

جواب: نبوت دونوں کی براہ راست معموری ہے  یسعیاہ کی زندگی کے وقت جب اسور نے دمشق اور سامریہ پر قبضہ کیا اور یہ مستقبل  کی تکمیل ہے۔

سوال: یسعیاہ 8: 19-20 میں، کیا غلط کیا صحیح ہے نجومیوں  اور جنات سے نصیحت لینا اور پوچھنا؟

جواب: خدا نے کہا کہ ایسا مت کرنا ہم دو وجوہات دیکھ سکتے ہیں خدا ایسا کیوں کہے گا۔

1: خدا کی رہنمائی اور مہیا کرنے  پر اعتماد کی کمی۔ ہم خدا پر اعتماد کر کے اس سے کہہ سکتے ہیں اور وہ ہماری ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتا ہے اور وہ جانتا ہے اگرچہ تمام چیزیں ہمیشہ پوری نہیں ہو سکتی جیسے ہم جاننا چاہتے ہیں۔

2: نجومیوں پر اعتماد یا ارواح ہماری زندگیوں کو خدا پر اعتماد نہیں کرنے دیتیں درمیانی پر اور ارواح پر اعتماد ہم پر جادو کی ابلیسی دنیا کو کھولتا ہے۔ یرمیاہ 2: 13 جادوگری کی عبارت میں بیان کرتا ہے " کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں انہوں نے مجھ آب حیات کے چشمے کو ترک کر دیا اور اپنے لیے حوض کھودے ہیں شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔

سوال: یسعیاہ 8: 19-20 میں، کیا یہ مورمنزم سے مطابقت  کرتا ہے؟

جواب: نہ صرف یہ مورمنزم سے بلکہ ان تمام سے جو بدروحوں سے جادو  سے نصیحت تلاش کرتے ہیں مطابقت رکھات ہے تاہم یہ مورمنزم سے تین طریقوں سے مطابقت رکھتا  ہے۔

شیشے میں دیکھنا: یہ ایک جادو کی مشق ہے جو انیسویں صدی میں تھی ۔ جب ایک آدمی نے دعویٰ کیا ہو گا کہ وہ شیشے میں دیکھنے سے زمین میں دفن خزانے کو ڈھونڈ لیتا ہے۔ یہ بہت عام تھا نیویارک میں اسکے خلاف ایک آرڈینیس تھا ۔ جوزف سمتھ جے آر   پلمےرا کی ایک گاؤں میں رہتے تھا ۔ نیو یارک شیشہ دیکھنے کی خطا کا مجرم تھا۔  جو تسلیم ہوئے ہیں کورٹ نے اسکا ریکارڈ بنایا ہے۔

پیپ سٹون: جوزف سمتھ شیشے میں دیکھنے والے سے ملا اور دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے مورمنزم  کی کتاب ٹوپی میں پتھر کو دیکھنا ترجمہ کی ہے۔

مورمن کی کتاب ابرہام:  کچھ قدیمی مصری پپاری دعویٰ کرتے تھے کہ یہ کتاب بھی اسی طریقے سے ترجمہ کی گئی تھی۔ ہمارے پاس یہ پپاری آج بھی موجود ہیں اور کہنے کو بے فضول ہے۔ جوزف کا ترجمہ ایک دھوکا تھا جوزف نے مصر کی حروفِ تہجی ارو گرامر لکھی تھی۔ وہاں پر اس نے ظاہری طور سکھانے کی کوشش کی تھی اور دوسرے ترجمے میں اس نے " مصریوں کی اصطلاح" کی تھی۔

سوال: کیا یسعیاہ 9: 1 اور یسعیاہ  9: 2 میں، اکٹھے تعلق رکھنے ہیں یا کیا متی 4: 14-16 ان کے تعلق کو غلط ثابت کرنا ہے؟

جواب: ان کا تعلق اکٹھا ہے کیونکہ یسعیاہ 9: 1 کا دونوں حصوں کے ساتھ ترجمہ ہوا ہے۔

یسعیاہ 9: 1 حقیقی طور پر یسعیاہ 8: 23 یہودیوں کی  ماڈرن  بائبل اور نیا یروشلیم کہلاتی ہے۔ یا اتفاقاً  یسعیاہ 8: 22 اور یسعیاہ  9: 1 مطابقت رکھتے ہیں۔ کیونکہ  یسعیاہ  8: 22 تاریکی میں لوگوں کو کہتا ہے اور یسعیاہ 9: 1 کہتا ہے تاریکی زیادہ دیر نہیں ٹھہرے گی۔

تاہم یسعیاہ 8: 22 لوگوں کو کہتا ہےوہ لوگ تاریخی میں گر جائینگے ۔ یسعیاہ 9: 1 بیان کرتا ہے کہ زبولون اور نفتالی  کے لیے تاریکی نہ ٹھہرے گی  اور یسعیاہ 9: 2-7 بیان کرتا ہے کیسے  وہ لوگ جو تاریکی میں چلتے تھے۔ بڑی روشنی کو دیکھیں گے۔

سوال: یسعیاہ 9: 1-2 میں، یہ کیسے مکمل ہوا تھا کہ گلیل کے بت پرست مالک ہوں گے؟

جواب: یسوع نے اس سر زمین پر بہت عرصہ گزارا تھا۔ جو گلیل کی جھیل کے مشرق کی جانب تھا، متی 4: 15-16 کے مطابق اسکی وضح تکمیل تھی۔

سوال: کیا یسعیاہ 9: 1، 6، 7 میں، اسکا اشارہ بہا اللہ عرف باہو کی طرف  ہے۔ اسوقت یسوع کے کندھوں پر حکومت نہیں تھی ( بہا اللہ اور نیو اِرا صفحہ 261-262)؟

 جواب: نہیں، بادشاہت یسوع کے کندھوں پر ہو گی یسوع مسیح جب دوبارہ آئیگا  ۔ یہ بہا اللہ کی طرف اشارہ نہیں کر سکتا کیونکہ ۔

A: بہا اللہ قادر مطلق خدا نہیں کہلاتا تھا ( یسعیاہ 9: 6)۔

B:  بہااللہ نے کوئی جوُا نہیں توڑا تھا مدیانیوں کی شکست کے دن سے گلیلی لوگوں سے بوجھ کو ختم نہیں کیا تھا ( یسعیاہ 9: 4)۔

C:  بہااللہ نے کوئی بھی حکومت نہیں کی تھی اور باہو دعویٰ نہیں کرتا کہ بہا اللہ دوبارہ واپس آئیگا۔

D: جبکہ  بہا اللہ کی ہو سکتا ہے دنیا پر حکومت کرنے کی خواہش ہو۔ انکا بین الاقوامی انصاف کا گھر بے تعلق ہے جسطرح سیاست اور حکومت 20 اور 21 صدی دور تسلیم کی جاتی ہے۔

سوال: یسعیاہ 9: 6-8 میں، کیا یہ مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے؟

جواب: ہاں یونانی میں مسیحا کے لیے مسیح استعمال  ہوا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ یہ مسیحی عقیدے کی نبوت ہے ، جو مسیح پوری کرے گا۔

A: حکمران لوگ ( یسعیاہ 9: 6، 7)

B:  داؤد کا تخت اور اسکی مملکت پر  ( یسعیاہ 9: 7)

C: آج سے ابد تک حکمرانی  کرے گا ( یسعیاہ 9: 7)

سوال: یسعیاہ 9: 6 میں، یسوع کب امن لایا تھا جبکہ آج دنیا پر سکون نہیں ہے؟

جواب: یسوع کی پہلی آمد میں ہمارے دلوں کو اسنے امن دیا ہے۔ یہ اسوقت تک ممکن نہیں جب تک اسکی دوسری آمد نہ ہو ئی کہ یسوع اس لڑائی کو روکے گا اور اس دنیا کے لیے امن لائیگا کیوں نہیں وہاں جنت میں امن ہو گا۔

سوال: یسعیاہ 9: 6 میں یسوع کیسے " ہمیشہ رہنے والا باپ" کہلا سکتا ہے اور تثلیث سچی ہو سکتی ہے؟

جواب: مظاہر پرست اور ایک پینتکاسٹل اس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ وہ نجات کا باپ ہے اور باپ یسوع میں ہے ، لیکن وہ قابل شناخت ہے۔ عبرانی لفظ " ابی اد" "ہمیشہ رہنے ولا باپ " کے طور پر ترجمہ ہوا ہے یا " ابدی باپ" کے طور پر ترجمہ ہوا ہے۔ بلا لحاظ یسعیاہ 9: 6 بیٹے کی طرف اشارہ کر رہا ہے یہ وہ بچہ ہے کو پیدا ہوا ہے۔  بیشک باپ اور بیٹا دونوں میں  ہی ہوں۔ بیٹا بغیر اپنے باپ کے ہماری ابدی زندگی کا باپ ہو سکتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 9: 6 میں ، یسوع قادر مطلق خدا ہے ، کیا یہ قادر مطلق خدا سے مختلف ہے؟

جواب: نہیں یہواہ کے گواہ  کہتے ہیں کہ صحیفے میں اسکا جواز ہے۔ 1989 صفحہ 413-414 ( 1985 کے ترجمے میں ایسا ہی صفحہ ) کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کیونکہ یسوع نبی کے طور پر  قادر مطلق  خدا کہلاتا ہے ۔ یسعیاہ 9: 6 ضرور ہے کہ یسوع یہواہ ہے؟ دوبارہ اس عبارت کا جواب نہیں ہے! اور نہ ہی بت پرست قوموں نے دیوتا کو یہواہ سے پہلے بنایا۔ کیونکہ کوئی بھی یہواہ سے پہلے وجود میں نہیں آیا تھا۔

 لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہواہ کسی اور کو وجود میں لانے کا سبب نہیں بنا جس نے بظاہری طور پر اشارہ دیوتا کی طرف کیا تھا۔ ( زبور 82: 1-6؛ یوحنا 1: 1 این ، ڈبلیو) یسعیاہ 10: 21 یہواہ خدائے قادر کی طرف اشارہ کیا ہے جیسے یسعیاہ 9: 6 میں یسوع لیکن یہواہ  ہی اسطرح قادر مطلق خدا کہلاتا ہے۔ پیدائش 17: 1۔ اس لیے یہواہ کے گواہ بذات خود غلط کہہ رہے ہیں کہ یسوع یہواہ ہے۔ یا قادر مطلق خدا ان کی تعلیم یہ ہے کہ یسوع کو واضح طور پر دیوتا کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

یہواہ کے یہ گواہ یہ کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک عنصر کو قبول نہیں کرتے : کہ ہمارے لیے خدا صرف ایک ہے جسکی ہم پیروی کرتے ہیں۔  صرف ایک ہی خداوند ہے اسکی ہم تابعداری کرتے ہیں۔ وہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یسوع کی قدرت دوسرے نمبر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عبارت میں یا خدا کی دعا میں یسوع ایک خدا نہیں ہے لیکن صرف ایک تھیم ہے۔ [اور وہ ایک خالی موضوع ہے] لوگ اپنی عبادت کی جگہ پر صرف ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں یا بہت سارے دیوتاوں کی۔ خدا کے گھر میں ہم صرف خدا کو ہی جلال دیتے ہیں۔ خدا باپ، خدا بیٹا ااور خدا روح القدس قابل شناخت چیزیں ہیں لیکن وہ علیحدہ ہونے والے خدا نہیں ہیں۔

سوال: یسعیاہ 9: 6 میں، کیا اس صداقت کو یہودی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ نبوت مسیح کے لیے ہے؟

جواب: ہاں، یمنیت مِدراش 349-350 اور پریک شیلوم صفحہ 101۔ بیان کرتے ہیں کہ  کچھ یہودیوں نے تسلیم کیا کہ یہ مسیح  ہی ہے۔

سوال: یسعیاہ 9: 19میں، لوگ کیوں آگ کے لیے ایندھن کی مانند ہیں؟

جواب: لوگ خدا کی پیروی کو رد کرتے ہیں۔ اور وہ خدا کے غضب کے فرزند ہیں۔ ( افسیوں 2: 3) شاید لوگوں نے بذات خود مایوسی کی صلیب اٹھائی ہو۔ ( فرانسس سچافر کی اصطلاح) اور انہوں نے بذات خود محسوس کیا ہو گا کہ اسور اور بعد میں بابل کے لوگ آتے اور آگ کے لیے ایندھن وہ تمام لوگ تھے۔ ہم تمام خدا کی شبیہ پر پیدا کیے گئے ہیں اور خدا کی نظر میں قابل قدر ہیں، تاہم ان کے لیے جو خدا کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ صرف آگ کے لیے ایندھن ہیں۔

سائیڈ نوٹ کریں۔ ہندووں کا غلط مذہب تعلیمات دیتا  ہے کہ دیوتا کی آگ اگنی ہے موت  کے بعد لوگ پکائے جاتے ہیں ( رگ ویڈا 10۔16، 1-2 صفحہ 49)

 ہندو کائناتی شعلے کو متحد کرنے کی خواہش کرتے ہیں وہاں وہ تمام انفرادی  طور پر تباہ ہوتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 9: 20 میں، کیا یہ آدم خوری کی طرف اشارہ کرتا ہے؟

جواب: نہیں، یہ اشارہ آدم خوری کی طرف نہیں ہے لیکن اسکا ذاتی صرف دو طریقوں سے ہوتا ہے۔

ملٹری : یسعیاہ کے وقت اسرائیلی اکثر جنوبی سلطنت میں یہوادہ کے لوگوں کے خلاف لڑے تھے جیسے یسعیاہ 9: 21 بیان کرتی ہے۔

روحانی طور پر:  دونوں نے ذاتی طور پر اور لوگ اکٹھے ان کو بیزار کر رہے تھے اور انکے بچے ان کے ذریعے سے گناہ کو جاری رکھے ہوئے تھے۔

سوال: یسعیاہ 10: 1-3 میں، لوگ کیسے نا انصافی کے فیصلے کرتے ہیں؟

جواب: یہاں پر ایک طاقتور حکومتی رہنما نے کیا کہا ہے ۔ " امیر اور طاقتور یہ دونوں رنجیدہ ہیں اکثر وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے گورنمنٹ کے کاموں کے تابع ہوتے ہیں"۔ یہ ریاست ہائے متحدہ کے انڈریو جیکسن نے  حوالہ دیا تھا ( 1767-1845) ( یہ ایک عظیم معقولہ سے حوالہ دیا گیا تھا صفحہ 355)

حوالے کا یہ طریقہ دلچسپ ہے۔ انڈریو جیکسن ان میں سے ایک ہے جنہوں نے امریکہ پر حکومت کی تھی۔ امریکہ کی آرمی نے امریکہ کے قبیلے کو ان کی سر زمین میں ختم کر دیا کیا وہ بعد میں " آنسوؤں کی آزمائش" کے طور پر جانے گئے تھے۔ بعد میں ان کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ امریکہ کی حکومت اس سر زمین پر حکومت کرے۔ جب یہ دھمکی ان کے خلاف سپریم کورٹ میں انصاف کے لیے آئی تھی جیکسن نے اس انصاف پر مذاق اڑایا ( امثال 19: 28) ۔ وہ کون سی آرمی رکھتے ہیں بہت سی صورت حال میں رہنما خبردار نہیں ہوتے کہ وہ نا انصافی کر رہے ہیں یا بظاہری طور پر انصاف کو بھول چکے ہیں کہ اگرچہ یہ انکے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔

سوال: یسعیاہ 10: 1-3 میں، اگر ایک قانون پاس ہوا ہے جو بائبل کی تردید نہیں کرتا۔ کیا یہ قانوں ضروری ہے ؟ ٹحیک ہے؟

جواب: نہیں، قانون ایک لیٹر کی تابعداری ہو سکتی ہے لیکن یہ قانون ایک جبر کی روح ہے ایک آدمی خاص طور پر پرانے عہد نامے کے کسی قانون پر بھی جبراً عمل نہیں کر سکا۔ لیکن وہ اسکی پیروی کرنے میں ناکام ہوتا  ہے ۔ کہ بائبل دوسروں پر دباؤ نہ ڈالنے کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

سوال: یسعیاہ 10: 5میں، خدا اسور کو کیسے استعمال کر سکتا تھا جبکہ اسور اسوقت بدکار اور ظالم تھا؟

جواب: نہ صرف خدا بدکار اسور کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا تھا بلکہ خدا شیطان کو اور اسکی ابلیسی ارواح کو استعمال کر سکتا ہے۔ خدا خالص اور پاکیزہ ہے جیسا کہ وہ بائبل میں بیان ہوا ہے اور کوئی بھی اسکو اس کے کاموں سے اور ان تمام چیزوں کو جو اسکے منصوبے کے حصے میں ہے نہیں  پابند کرتا ( افسیوں 1: 11) ۔

سوال: یسعیاہ 10: 12 میں، خدا نے کیسے اسور کے ببر کو سزا دی؟

جواب: کم سے کم تین طریقوں سے جواب۔

1:  اسور کے لوگوں کو شکست ہوئی تھی اس لیے وہ دوبارہ کبھی نہیں اٹھے۔  اگرچہ ان تمام کو مارا نہیں گیا تھا ٹائین مسیحی لکھاری اور مسیحیوں کا ایک بدعتی فرقہ اسور سے تھا۔

2:  اسور کی فوض ختم کر دی گئی تھی۔

3: اسور کا بادشاہ مر گیا تھا۔

دوسرے درجے کے نوٹ پر غور کرتے ہیں کہ ببر اسور کی سلطنت کی علامت تھے۔ ایران کے لوگ شیروں کے شکار سے محبت کرتے تھے۔ ایران طاقت میں آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں شیر معدوم ہو گئے تھے۔

سوال: یسعیاہ 10: 13-14 میں، ان آیات کے سٹائل کے متعلق غیر معمولی بات کیا تھی؟

جواب: یہ آیات اسور کی فتح کے سٹائل میں سوچ و وچار کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔

سوال: یسعیاہ 10: 15 میں، کیا کلہاڑا اسکے روبرو کاٹتا ہے کلہاڑا استعمال کرنے والے جیسے اسور نے بذات خود خدا سے بغاوت کی؟

جواب: یہ صرف معمولی ہے  احاسن فراموش، اور یہ ان آیات کے لیے مضحکہ خیز ہے جس طرح کلہاڑا بے جان چیز ہے یہ اسکے خلاف اٹھاتا ہے جو اسے استعمال کرتا ہے اسور کے لوگ خدا کے مخالف ہونے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ اسور کے سورماؤں نے اپنے آپ کو بکتر بند زرہ سے ڈھانپ رکھا تھا تاکہ انکے خلاف بیکٹریا کی آفت کھڑی نہ رہ سکے یسعیاہ 20: 16 میں بیان کرتا ہے کہ خدا نے تباہ کرنے والی بیماری اسور کے جنگجو پر بھیجی۔

سوال: یسعیاہ 10: 20-22 میں، بنی اسرائیل  کے " دس قبیلوں کی تباہی" پر کیا واقعات پیش آئے تھے؟

جواب: جس طرح خالص نمک کا مزہ جاتا  ہے جب یہ کیچڑ میں مل جاتا ہے اسطرح اسرائیل کے قبیلوں کے لوگ دوسرے مشرق وسطیٰ کے لوگوں میں شامل ہو گئے تھے خاص طور پر بہت سارے اسرائیلی جو اسرائیل میں باقی بچے تھے۔ انہوں نے دوسری لائی ہوئی عورتوں  کے ساتھ شادیاں کی۔اور سامری بن گئے جب یہودی بابل سے واپس  آئے اور واپس آنے والوں کے درمیان دس قبیلوں کے لوگ بھی شامل تھے۔

اس عبرانی لفظ " سار" کا مطلب ہے " بچے ہوئے لوگ" یا " زندہ رہنے والا" کیسے اسیری سے واپس آنے والے یہودی ان کے بارے میں سوچتے تھے جسطرح دنیا کی ابتری میں ایک ایماندار سوچتا ہے۔ ہم اپنے بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ ہم بھی بچے ہوئے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 10: 24 میں، صیون کو  اسور سے کیوں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اسوقت اسور نے یروشلیم پر سخت محاصرہ کیا؟

جواب: تین نکات جواب کےلیے تسلیم کیے جاتے ہیں۔

یروشلیم: یروشلیم اسور کی گرفت میں یا اسور سے تباہ نہیں ہوا تھا۔

بھی:  ہو سکتا ہے کہ یہ ناکام محاصرہ کے بعد لکھا گیا ہو۔

بے اعزاز:  اس وقت کے بعد یہ نبوت ہمیشہ کے لیے سچی ہو گئی۔

سوال: یسعیاہ 11: 1-3 میں، کیا یہ اشارہ مسیح کے مستقبل کی طرف ہوتا ہے ؟

جواب: ہاں نہ صرف مسیحی یہ کہتے ہیں ، بلکہ یسعیاہ پر بحیرہ مردار کی کمنٹری 4Q161 بھی بیان کرتی ہے کمنڑی کہتی ہے کہ [ اس شاخ کی ترجمانی کی گئی ہے] داؤد کی شاخ کی جو آخری وقت میں ابھرے گی۔ [قدرت کی روح اسے دی جائے گی] خدا اسے جلال کا تخت اور [ پاکیزگی ] کا تخت اور پاکیزگی کے بہت سارے رنگوں کی پوشاک دے گا۔ [ وہ اسے عصائے شاہی پر قائم کریگا] اسکے ہاتھ میں بادشاہی کا عصا ہو گا اور وہ تمام قوموں کر حکمرانی کریگا اور ماجوج۔۔۔۔۔ اور اسکی تلوار تمام قوموں کا انصاف کریگی۔ یہ تارگم یسعیاہ اور بابل تالمد کے مطابق بھی مسیح کے عقائد ہیں۔

سوال: کیا یسعیاہ11: 1-10 میں، کیا بہا اللہ عرف باہو کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ ابھی اس حصے کی تکمیل نہیں ہوئی ہے؟ مثال کے طور پر بدکار تباہ ہو جائنگے شیر اور پلا ہوا بیل اکٹھے رہیں گے وغیرہ ( کچھ سوالوں کے جواب صفحہ 62-66 پر دئیے گئے ہیں اور بہا اللہ اور بنوارا صفحہ 266-261) ؟

جواب: نہیں، کچھ اس میں سے مسیح نے اپنی پہلی آمد میں پوری کی ہیں اور کچھ اسکی دوسری آمد میں پوری ہوں گی۔ باہو اس پیراگراف کو موڑنے کا سبب بن رہا ہے۔ اور یہ بہا اللہ کی طرف اشارہ نہیں کرتا یہ مسیح کی طرف اشارہ ہے نہ ہی بہا اللہ مسیح کی نسل میں سے تھا( یسعیاہ 11: 1، 10) اور نہ ہی یسوع بہا اللہ تھا۔ کہ وہ اپنے لبوں کے دم سے شریر کو فنا کرے گا، ماضی میں بہت سارے باہو بہا اللہ کے مخالف وقوع پذیر ہوئے تھے۔ یہ بہا اللہ نہیں تھا۔ جو بدکاروں کو تباہ کر رہا تھا۔

شیر اور بیل اور دوسرے جانور اکٹھے نہیں تھے جب بہا اللہ آیا تھا ( یسعیاہ 11: 6-8)

یسوع کی انجیل پوری ہونی ہے اور اسکی زمین خداوند کے عرفان سے معمور  ہو گی ( یسعیاہ 11: 9) اسطرح آج دنیا کے بہت سارے لوگوں کو کوئی تصور نہیں ہے کہ بہا اللہ کون تھا جس نے دعویٰ کیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 11: 4 یسوع کیسے مسکینوں کا انصاف کریگا اور اپنے عصا کے شور سے زمین پر کیسے حکمرانی کریگا؟

جواب: یسوع دوبارہ آئیگا اور لڑائی کریگا اسکے غضب کی طاقت یروشلیم کو حفاظت مہیا کریگی۔

سوال: یسعیاہ 11: 5 میں، کیسے راستبازی کی شاخ کا کمر پٹکا ہے؟

جواب: شاک یسوع کے اور اسکی رستبازی اس میں ہمارا نجات دہندہ ہونے کے ناطے اہم اصول تھا۔ صرف ایک آدمی مخلوق کی نمائندگی کا نگہبان ہو صرف ایک ہی گناہ سے پاک انسان ہی پوری دنیا کے گناہوں کے لیے قربانی کا کفارہ اور قیمت دے سکتا  تھا ( یوحنا 2: 1-2)

سوال: یسعیاہ 11: 6-8 میں، کب یہ جانور اکٹھے ہونگے؟

جواب: یہ واقعات ہزار سالہ دور حکومت کے دور میں ہونگے جو مکاشفہ 20: 1-6 میں مسیح کی 1000 سالہ دور حکومت بیان کی گئی ہے۔ انہیں کسی بھی قسم کے خوف اور ایک دوسرے سے خطرہ نہیں ہو گا۔ خدا کے پاس اپنی مرضی سے جانوروں کی خوراک تبدیل کرنے کی طاقت ہے۔

سوال: یسعیاہ 11: 11 میں، خدا کب دوسری مرتبہ بچے ہوئے لوگوں کو اعزاز دیگا؟

جواب: اسور اور بابل دونوں یہوداہ کی کمی کے بعد، خدا یہودیوں  کی اسیری کے بعد بحال کریگا۔

سوال: یسعیاہ 11: 12 میں، بائبل کیوں زمین کی چاروں طرف سے فراہمی کے بارے میں بولتی ہے؟

جواب: یہ صرف ایک تفریح کے جیسے آج ہم کمپاس کو ان نکات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سوال: یسعیاہ 11: 13-14 میں، کب اسرائیلی دوبارہ اکٹھے ہوں گے اور فلستیہ کی سرزمین پر موآب، ادوم، اور عمون کی رعایا پر ہاتھ ڈالیں گے؟

جواب: جہاں پر یہ فعل فوج کی فتح کے دلائل دیتے ہیں  وہاں پر کم سے کم دو امکانات ہیں۔

مسیح کی دوسری دور حکومت: ان سر زمینوں پر یہودیوں کو فتح  ہو گی فلستیہ میں غزہ کی موجودہ سر زمین  بھی شامل ہے  ادوم اور موآب اُردن کے ملک میں آتے ہیں۔ جو اب اردن اور سوریہ کی سر زمین جانی جاتی ہے اس میں عمون آتا تھا۔

مسیح کی دور حکومت آنے کی بعد:یہ نتائج وقوع پذیر ہوں گے ہو سکتا ہے یہ واقعات ہزار سالہ دور حکومت کے آخر میں ہوجب شیطان قوموں کو اسرائیل کے خلاف کھڑا کرے گا۔

سوال: یسعیاہ 11: 15 میں مصر کا سمندر کیا ہے؟

جواب: یہ میڈیٹرنین کا سمندر نہیں ہے بلکہ یہ لال سمندر ہے۔

سوال: یسعیاہ 11: 16 میں، خدا کے بچے ہوئے لوگوں  کے لیے کیوں وہاں پر شاہراہ ہو گی؟

جواب: یہ نہیں بیان کرتا کہ لوگ خدا کے لوگوں کے لیے یہ بنائیں گے بلکہ خدا نے اسے شاہراہ  کے طور پر اپنے لوگوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ رومی حکومت کے دوران مسیحت کی تیزی سے پھیلنے کی ایک وجہ تھی روم کی ایک شاندار سڑک تھی۔ یہ سٹرک وسیع و عریض اور تیز سفر کے لیے ممکن تھی۔ یاد رکھیں کہ یسعیاہ کے وقت میں اسطرح کی  سڑکوں کا وجود بہت کم تھا ۔ سیریس ایران کی بابل پر فتح کے بعد اس نے بابل سے مصر تک ایک سڑک  تعمیر کی تھی۔ صرف دو دوسری سڑکیں سردیس اور دوسرے ایشیا کے چھوٹے شہر بابل تک سیوسہ اور ایران کے دوسرے شہر اس  کے ساتھ منسلک تھے۔

ایک متبادل خیال یہ ہے کہ اس طرح کی شاہراہ جو یسعیاہ 35: 8-10 میں ذکر کی گئی تھی۔ جس کی قیمت دی گئی ہے غالباً 100 سالہ دور حکومت کے دوران جو مکاشفہ 20: 1-7 میں ذکر کیا گیا ہے۔

سوال: یسعیاہ 12: 3 میں، کیسے خوش ہو کے نجات کے چشمے سے پانی بھریں گے؟

جواب: خدا نے نہ صرف ہمیں بچایا تھا  بلکہ اس نے ہماری روح کو بھی سہارا دیا۔ ہم اسکے پاس آرام، محبت، اور روحوں کی بڑھائی یا کمزوری کے لیے جا سکتے ہیں یسوع نے کہا کہ وہ زندگی کا پانی دیتا ہے یوحنا 4: 10-14۔

سوال: کیا یسعیاہ 12: 3 میں، یسعیاہ فضل کی بحالی کے لیے کیتھولک کے تصور کی حمایت کرتا ہے؟

جواب: نہیں جس طرح خدا نے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے دور ان سہارا دیا تھا اپنی لا محدودیت سے اسکا ہمیں سہارا دینا ہی کافی ہے۔ نجات کے خشک چشمے نہیں چل رہے ہیں۔ کم گہرائی مت ٹھہرائیں لامتناہی چشموں کی پاکیزگی قابل سوال ہے۔ انکے ذریعے جو خدا میں ہوتے ہیں۔ یسعیاہ 12: 2 بیان کرتا ہے کہ خدا ہماری نجات ہے ۔ نہ کہ مریم یا کوئی اور ہم ایمانداروں کی عزت نہیں کرتے ہیں جو ہم سے پہلے ہو چکے ہیں لیکن وہ ہم سے نہیں چاہیں گے کہ ہم ان چیزوں کو انکی پرستش میں شامل کریں۔

سوال: یسعیاہ 13: 1، 20، 22 میں، مسیح کی عہدے کی معموری میں کیا یہ بابل کی تباہی مکمل طور پر ہوئی تھی یا اسکی تکمیل مستقبل میں ہو گی؟

جواب: ماضی میں تکمیل:  بابل پر ایران یا مدیانیوں کا قبضہ تھا اگرچہ یہ اسوقت تباہ نہیں ہوا تھا۔ بابل ایران کی سلطنت کا دارلخلافہ بن گیا تھا بعد میں بابل کے لوگوں نے بغاوت کی تھی اور تباہ ہو گیا تھا اور اسکی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی۔

مستقبل میں معموری: اگرچہ بابل اب موجود نہیں ہے لیکن ابھی تک نبوت پوری نہیں ہوئی ہے بابل دوبارہ تعمیر ہو گا۔ اور تب مکاشفہ 18 اور 19 کے مطابق آخر وقت میں تباہ ہو گا۔

دوہری تکمیل:  یہ نبوت پہلے ہی پوری ہو چکی ہے بابل شہر پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ اوردوبارہ وجود میں نہیں آئے گا۔ مکاشفہ میں بابل شہر غلط مذہب کی نمائندگی کرتا ہے ۔ سات پہاڑوں کے مرکزی شہر کے طور پر یہ آخری وقت میں  تباہ ہو گا۔

سوال: یسعیاہ 13: 9 میں، کیا خدا غضب ناک ہے؟

جواب؛ غلطی مت کریں خدا کا دن غضب ناک ہے خدا کا قہر شدید ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ابھی تک ٹھہرا ہوا ہے۔

سوال: یسعیاہ 13: 17 میں، یہ کیوں کہتا ہے کہ مادی سونے اور چاندی کو خاطر میں نہیں لاتے؟

جواب: ستھیا کے لوگ مادیوں سے مطابقت رکھتے تھے یہ سونے کو جمع کرنے کا بہت بڑا گروہ تھا۔ ان میں فرق یہ ہے کہ مودیوں اور ایرانیوں نے تورانیوں کے مال کو لوٹنے کے لیے دھاوا نہیں بولا تھا۔ مادیوں اور ایرانیوں نے بابل کی سلطنت لیدین سے شکست نہیں کھائی تھی اور جعلی سکے کو اپنی سلطنت میں چلنے نہیں دیا۔ بجائے کہ دولت کی تمام لوٹ مار انکے لوگوں سے کی جائے جیسے اسور نے کی ۔ مادیوں اور ایرانیوں نے وفادار رعایا پیدا کی اگرچہ وہ انہیں ٹیکس دیتے تھے۔

سوال: یسعیاہ 14: 1-17 میں، کیا یعقوب کے متعلق نبوت پہلے ہی پوری ہو چکی ہے؟

جواب:  یہودیوں نے انکی قید میں خدمت نہیں کی جس سطح پر یسعیاہ بولتا یہ مکاشفہ 20: 1-7 میں بیان ملتا ہے کہ اسطرح ہزار سالہ دور حکومت میں وقوع پذیر ہونگے۔

سوال: یسعیاہ 14: 3 میں، "جنوب کی سمت " اس فقرے کا کیا مطلب ہے؟

جواب: عبرانی لفظ " نارتھ" اور " زفحان" ایک جیسے ہی تھے زفحان کا پہاڑ سوریہ میں بعل کا مقدس پہاڑ تھا پجاری ایمان رکھتے تھے کہ ان کا دیوتا زفحان کے پہاڑ پر رہتا تھا جس طرح یونانی ایمان رکھتے ہیں کہ ان کا دیوتا اولمپس پہاڑ پر رہتا تھا۔ جبکہ یسعیاہ 14: 3 اسکا مطلب صرف جنوب  تھا ہو سکتا ہے کہ کامل یقین رکھنے والے کہہ رہے ہوں کہ یہ زفحان کے پہاڑوں پر رہنے والے دیوتاؤں سے سچا خدا عظیم ہے۔

سوال: یسعیاہ 14: 3 میں، کیا اسے سونے کا شہر کہنا چاہیے؟

جواب: اس عبرانی لفظ کا ترجمہ کرنا مشکل ہے اور کچھ کو سونے کے شہر میں لایا گیا کیونکہ یہ ارامی الفاظ کے لیے سونا ہے۔  تاہم بحیرہ مردار کے طومار 1Q  یسعیاہ بیان کرتا ہے کہ ترجمہ کرنے والے غالباً D اور R  کے متعلق پریشان تھے اور اس لیے کہ سپٹوجنٹ اور سیرک نے اسے سونے کے شہر کے طور پر پڑھا ہے اسے حقیقت میں گستاخی کو ترک کرنا چاہیے تھا۔

سوال: یسعیاہ 14: 14 میں، بابل کا بادشاہ کون تھا؟

جواب: کچھ عام طور پر بابل کے موجودہ یا مستقبل کے بادشاہ کے بارے میں سوچتےے ہیں دوسرے کہتے ہیں یہ اسور کا بادشاہ تھا ۔ اس وقت ایک موضوع یہ تھا کہ وہ بابل کا بادشاہ تھا۔

سوال: یسعیاہ 14: 9-11 میں موت کے بارے میں یہ کیا کہہ رہا ہے؟

جواب:  یہ استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ غیر متقی مردہ لو مکمل طور پر بابل میں شامل ہونے کے  لیے انتظار کر رہے تھے۔

سوال: یسعیاہ 14: 12-16 میں، لوسیفر کا ذکر یہاں کیوں آ رہا ہے؟

جواب: عبرانی اصطلاح میں یہاں ایک " چمکتا ہوا ستارہ" اور  لوسیفر نام کا مطلب ہے " ایک چمکتا ہوا ستارہ" ولگیٹ ترجمے میں اسطرح جروم ہے ، لوسیفر  نام کو یہاں پر رکھیں سپٹوجنٹ کہتے ہیں کہ " صبح لانے والا"  اور سیرک پیشٹیا کہتے ہیں کہ یہ نام " ایلل " ہے۔

سوال:یسعیاہ 14: 12-16 میں، کیا یہ شیطان کی طرف اشارہ کرتا ہے یا ایک بابل کے زمینی بادشاہ کی طرف؟

جواب: یہ زیادہ تر یقینی طور پر شیطان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو لوسیفر  بھی کہلاتا ہے تکبر اور ظلم یہاں پر یسعیاہ کے وقت سے متواتر بابل کے بادشاہ پر فٹ نہیں ہوتا یہاں پر بابل کا بادشاہ تھا۔

نیواپل اسور 627-605 ق م۔

نبوکدنضر دوم دوم 605Aug / 562 ق م۔ وہ بہت طاقتور بادشاہ تھا۔  اسکا موازنہ اسور کے بادشاہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

ای ول مردول ( امل۔ مردوک) 562-560 ق م نبوکدنضر کا بیٹا۔

( نرگل۔ شہارزر) 560-556 ق م نبوکدنضر کا پوتا۔

لباشی ۔ مردوک ( دو مہینے)  556 ق م۔

اس وقت سے مادیوں اور ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے بابل کے لوگوں کو چھوڑ دینے کی دھمکی دی تھی۔

نبونیدس 556-539 ق م۔

بیلشضر 553-539/10 ق م۔ ( بادشاہ کا قائم مقام)

ایرانیوں نے بابل پر قبضہ کیا 539 ق م۔

گبرو ایک ایران کا جنرل ، بابل کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ گبرہ حقیقت میں بابل کا پرانہ گورنر تھا جس نے ایران کو دھوکا دیا تھا۔

آخر میں:  لوقا 10: 18 میں یسوع نے یسعیاہ 10: 18 کا ذکر کیا ہے۔ بجائے روشنی کت صجح کی روشنی لانے والا اس لیے یسوع نے اس کی تصدیق کی کہ یہ لوسیفر ہی ہے۔

جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ یسعیاہ 14 کا اشارہ صرف بابل کے بادشاہ کی طرف ہے نہ کہ شیطان کی طرف۔  اس لیے یسوع نے واضح طور پر یسعیاہ 14 کا لوقا 10: 18 اشارہ کیا ہے کہ اسکا مطلب ہے جیسے بابل کا بادشاہ۔

سوال: یسعیاہ 14: 21 میں، باپ کے گناہوں میں بچے کیوں مرتے ہیں اس لیے حزقی ایل 18: 2، 19-20 بیان کرتا ہے کہ انہیں نہیں کرنا چاہیے؟

جواب: اس جواب  کے لیے چار نکات تسلیم کیے جاتے ہیں۔

1: اس میں یہ نہیں بیان کیا کہ بچے باپ کی غلطی میں شامل تھے اگرچہ وہ اپنے گناہوں میں شامل تھے ۔ تو انکی بھی اس طرح کی خطا ہو گی۔

2:  خدا نے انکو زبح نہیں کیا تھا اس زندگی میں اکثر بدکار لوگ ایک دوسرے بدکاروں سے قتل ہو جاتے ہیں اور انکے بچے بھی۔

3: حزقی ایل 18 کہ خدا بیٹے  کو نہیں مار  رہا تھا باپ کے گناہ کی خطا میں۔

4: اس زندگی میں بہت وقتوں میں لوگ غیر منصفانہ طریقے سے مارے جاتے ہیں کیونکہ گناہ کے دوسرے کاموں کی وجہ سے جیسے حزقی ایل 13: 29 بیان کرتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 14: 28 میں، یہاں پر دنیا کے بوجھ کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ نبوت کی ایک اصطلاح تھی ایک انسان کسی کے لیے بوجھ لے سکتا  ہے ایک نبی خدا کے پیغام کا بھاری بوجھ اٹھا رہا تھا۔  جیسا وہ اسے کرنے کے لیے بولتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 14: 29-32 میں، یہاں پر فلستیوں کا کیوں ذکر ہوا ہے؟

جواب:  یہ ہو سکتا ہے کیونکہ فلستیوں نے 715 ق م میں اسور کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اسور کے لوگ آئے اور انہوں نے جلد فلستیوں پر دوبارہ  فتح حاصل کی۔

سوال: یسعیاہ 16: 2 میں، ارنون کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ دریائے یردن کی نیچی جگہ تھی  وہاں پر ایک تو اسرائیل اور موآب پر دریائے یردن کو عبور کر سکتے تھے ۔

سوال: یسعیاہ 16: 14 میں، کب موآب اپنی شان و شوکت سمیت تین سال کے عرصہ میں حقیر ہوا تھا؟

جواب: یہ جلد ہی نبوت کے بعد وقوع پذیر ہوا تھا جب اسور کے لوگ یہوداہ  میں آئے تھے۔ جبکہ ہم یہوادہ کے موآب کے ساتھ تعلقات کو نہیں جانتے ہیں ہم یہوادہ کے حزقیاہ بادشاہ کو جانتے ہیں  وی فلستیوں کو شکست دینے کے لیے کافی مضبوط تھا۔ اور اس نے فلستین  کے بادشاہ عفرون کے پادی کو قید کر لیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 17: 1-3 میں، ارام اور دمشق کے حقیقی واقعات کیا ہیں؟

جواب:   یسعیاہ نے ایک لمبی عمر گزاری تھی اور ہو سکتا ہے کہ 733 ق م میں لکھا گیا ہو یا پھر دوسرے 720 ق م میں لکھا گیا ہو یہاں پر اس وقت کی کچھ تاریخ ہے۔  شالمینز اسور نے ارام پر حملہ کیا لیکن وہ دمشق پر فتح پانے کے قابل نہیں  ہوا تھا۔

806-807 ق م  جبکہ اسور ارامیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف تھا دمشق نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا 2 سلاطین 10: 32۔

802-805 ق م اسور کے ادار نے نیراری سوئم دمشق قجؓہ کیا تھا۔

796 ق م اسور نے دمشق پر قبضہ کیا اور دمشق کو بھاری ہدیے دے کر چھوڑ دیا۔

735C دمشق، تائرد اور اسرائیل نے اکٹھے فوج کو اکٹھے کیا اور اسور کے خلاف حملہ کیا فوج کی اس کوشش میں یہوادہ بھی اس کے ساتھ شامل ہوا۔

733-732 ق م ٹگلاتھ پلیرز سوئم ارام کے تمام قبضوں کو تباہ کرتا ہے اور دمشق پر قبضہ کرتا ہے اور اسکے بادشاہ رے دان کو مارتا ہے۔ اسور کے واقعات کے مطابق یہ 591 قبضے تھے۔

720 ق م دمشق اور کچھ دوسرے شہر ماماتھ کے ساتھ شامل ہوئے جیسے اسور کے ذریعے بغاوت میں فتح نہیں ملی تھی سارگون دوم قر قر کی روگردانی پر اسے کچلتا ہے۔

711 ق م جس طرح سرگون دوسرے لوگوں کی طرح اسرائیل میں مقیم تھا سرگون نے پاپاوئل لوکانہ کے شیروں اور دمشق میں دوسرے جگہوں کو اسیر بنایا۔

سوال: یسعیاہ 17: 10 میں، اپنے نجات دہندہ کو بھولنے کی لوگوں کی کیا وجوہات ہیں؟

جواب: لوگ بعض اوقات کم یاداشت رکھتے ہیں اور جب یہ شکرگزاری کرتے ہیں وہ اپنے نجات دہندہ کو کم سے کم پانچ طریقوں سے بھول سکتے ہیں۔

تکبر:  تکبر سے لوگ بھول سکتے ہیں اس سے انہیں بچانا چاہیے۔

وقت:  خدا کے لیے ایک وقت کو مقرر کرنا بہت اہم ہے۔

پریشانیاں:  اس دنیا کی پریشانیاں لوگوں کو خدا کی عبارت سے دور لے جاتی ہیں۔

گناہ: بعض اوقات خدا کی خوشنودی سے لطف اندوز ہونے کے لیے گناہ کرتے ہیں۔

خوف: ایذا رسانی کو خوف یا نوکری کا نقصان یا نیک نامی 17: 10-11 بیان کرتا ہے کہ اسوقت وہ خدا اپنے نجات دہندہ کو بھول جاتے ہیں خدا ان کو برکات دینا یاد رکھے گا۔ حجی 1: 2-11 یہ بھی بیان کرتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو کیسے تعمیر کرتے ہیں اور خدا کے گھر کی تعمیر کو بھول جاتے ہیں اور خدا یاداشت کے ساتھ ان کی مدد کرتا ہے اور خدا خوشحالی کو ان سے لے لیتا ہے ۔

سوال: یسعیاہ 19: 2-3 میں، مصریوں کے درمیان کب سول جنگ وقوع پذیر ہوئی تھی؟

جواب: لیبیا کے 22 شاہی گھرانے ( 945-712 ق م) نیو بینز/ ایتھوپیا کے 25 شاہی گھرانے دونوں کے خلاف ( 770-712 ق م) ایسی ہی مختلف قسم کی حکومتیں کیا ہم انہیں 23 شاہی گھرانے کہتے ہیں۔ ( C 828-712 ق م)

سوال: یسعیاہ 19: 4-10 نیل اور دوسرے دریا کب سوکھیں گے؟

جواب: زندہ رہنے کے لیے مصر نیل پر انحصار  کرتا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ مصر کی زندگی کا خون سوکھ جائے گا۔ یہ کم سے کم تین طریقوں سے ٹھیک ہے۔

ہر سال:  اس عظیم دریائے نیل کا بہاؤ مشرقی افریقہ کے  مرکز میں بارش  کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ( وکٹوریہ فیڈیک) جھیل ہے۔ مشرقی افریقہ کی مرکزیت میںبارش کا کم ہونا اسکا مطلب ہپے ایک سال مصر کے لیے قحط ہو گا۔

لمبی اصطلاح:  مصر  کی سر زمین اور صحارا کا  دشت اور زیادہ بنجر بن چکا ہے۔

استعارے کے طور پر:  مصر کی سیاسی طاقت بڑی کوتاہی کا شکار ہو گی۔

سوال: یسعیاہ 19: 17 میں کب اور کیسے یہوادہ کی سر زمین مصر کے لیے دہشت ناک ہو گی؟

جواب: بابل کے لوگ، ایران کے لوگ، یونان کا الیگزینڈر سیلوسائڈز، مسلمان اور ترکی کے لوگ فلستیوں کے ذریعے تمام مصر پر فتح حاصل کریں گے۔ اسور اور مصر کی قوم نے بھی مصر سے جنگ کی اگرچہ انہیں فتح حاصل نہیں ہوئی۔

سوال: یسعیاہ 19: 18 میں، مصر میں کب پانچ شہروں نے کنعانی زبان بولی تھی؟

جواب: پہلے یہ بیان نہیں ہوتا ہے کہ وہ کنعانی ہی بولیں گے بلکہ وہ زبان جو کنعان میں بولی جاتی ہے۔

یروشلیم کے گرنے کے بعد بہت سارے یہودی رہائش پذیر ہوئے تھے۔ حقیقت میں ایران کے تحت جنوبی مصر میں ہاتھیوں کا اہم قعلہ یہودیوں کے زیر بنوایا گیا تھا۔

ابتدائی کلیسیا کے وقت کے دوران روایت بیان کرتی ہے کہ مرقس اکیلا ہی تھا جس نے مصر میں پہلے خوشخبری سنائی۔ وہ اور دوسرے مسیحی وہاں پر بہت کامیاب ہوئے تھے۔ مصر میں الیگزینڈریہ چار میں سے ایک اہم مسیحی مرکز بن گیا تھا یہ یروشلیم کی طرح اہمیت کے طور پر تھا ۔

سوال: یسعیاہ 19: 19 میں، کونسا شہر تباہی کا شہر کہلاتا تھا؟

جواب: کچھ صحیفے کہتے ہیں کہ " آفتاب کا شہر" کیونکہ عبرانی  کا لفظ " تباہی " کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہ لفظ سورج کے طور پر زیادہ تر مطابقت رکھتا ہے۔ ہیلی اوپلس یا " آفتاب کا شہر" اور اسی طرح زیادہ تر اس شہر کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 19: 19 میں، کب مصر کے قحط میں خداوند کا مذبح تھا؟

جواب: اس آیت کی پیشن گوئی   ایک اور ذیل میں دئیے گئےدنوں کی طرف ہے۔

یسوع کا دور حکومت: بہت سارے یہودی مصر کی طرف حرکت کر گئے تھے اور وہاں پر پیشن گوئی یہودیت کی طرف تھی۔ جس میں کچھ یہودی شامل تھے جنہوں نے بائبل کا ترجمہ یونانی زبان میں کیا تھا۔

یسوع کے جی اٹھنے کے بعد:  مصر ، یروشلیم، اور  ارام میں اینٹی اوچ میں مسیحت کے تین اہم مرکز کچھ وقت کے لیے تھے۔

سوال: یسعیاہ 19: 20 میں، کیسے ایک بڑے نجات دہندہ نے مصر کو بچایا تھا؟

جواب: اس کو دو طریقوں سے لیا جا سکتا ہے۔

روحانی طور پر:  مسیح کے وقت کے بعد مصر  مسیحت کا ایک مرکز تھا۔

سیاسی طور پر:  مصریوں نے خوشی سے یونان کے سکندر کا خیر مقدم کیا۔ ان کا اسکے بارے میں خیال تھا کہ وہ مصریوں کو ایران کے حکمرانوں سے دوستی کے ناطے آزادی دلانے والا تھا۔

سوال: یسعیاہ 19: 20 میں، کب خدا مصریوں کو مارے گا اور کب ان کو شفا بخشے گا؟

جواب: پرانے مصر پر بیرونی لوگوں نے حکمرانی کی تھی ( ائے کوسس، لیبان نیوینس وغیرہ نے) جبکہ مصر ہمیشہ سے انحصار کرنے والا ملک تھا نہ وہ ایک قوم تھی۔ جب نبوکدنضر نے مصر پر  قبضہ کیا تب مصر میں تبدیلی آئی ایران کے لوگوں نے بھی مصر پر قبضہ کیا اگرچہ مصریوں نے جب وہ ایران کے قبضے میں تھے کافی دفعہ بغاوت کی ہو گی۔

سوال: یسعیاہ 19: 23 میں، کب مصر اور اسور کی تعمیر کے درمیان شاہراہ تھی؟

جواب: یسعیاہ کے وقت یہ دیکھنے کے قابل ہو گی کہ مصر کے لوگ جب چاہیں امن کے ساتھ اور بغیر کسی تکلیف کے اسور تک سفر کریں مصر اور اسور دونوں ایران کی سلطنت کے قبضہ میں تھے اگرچہ اکثر اوقات مصریوں نے ایران کے خلاف بغاوت کی تھی وہ دونوں یونان کے سکندر کے قبضے میں اکٹھے تھے اور روم کے وقت وہاں پر بہت اچھی سڑک قدیمی وسط کے ساتھ ملتی تھی۔

سوال: یسعیاہ 20: 2-3 میں، خدا نے کیوں یسعیاہ کو حکم  دیا کہ وہ کیوں کپڑوں کے بغیر پھرے ( مسلمان احمدی یہ لائے تھے)؟

جواب: سب سے پہلے یسعیاہ اپنے ذاتی کلچرل میں رہتا تھا نہ کہ ہمارے دوسری بات یہاں پر عبرانی لفظ اکثر استعمال ہوا تھا کہ لوگ اپنی اندرونی کھال میں ملبوس تھے۔

سوال: یسعیاہ 21: 5 میں، اسکے پیچھے سپر پر تیل کیوں ملیں؟

جواب: سپر پر تیل ملنے کا اشارہ اس پر زنگ آلودہ ہونے سے بعض رکھتا ہے اور یہ سپر کو واضح اور بہتر کرے گا اور تیل اسے چمکدار بنائے گا ۔

سوال: یسعیاہ 21: 7 میں، کیا یسوع گدھے پر سوار ہوا اور محمد اونٹوں پر سوار ہوا اسی طرح کچھ مسلمان دعویٰ کرتے ہیں؟

جواب: نہیں اس جواب کے لیے تین نکات اہم سمجھے جاتے ہیں۔

1:  یہ پیغمبر تھے جو اس وقت کی رپورٹ پیش کر رہے تھے  کہ بابل گر چکا ہے صرف اسکا خاص مطلب یہ ہے کہ غالباً اونٹوں پر  سوار ہو سکتا ہے کہ وہ مخبر ہوں اور گدھے پر سوار ہو سکتا ہے کہ وہ عام آدمی ہوں اور رتھ پر سوار ہو سکتا ہے کہ وہ فوج کے آدمی ہوں۔

2:  بدکار مدیانی بھی اونٹوں پر سوار تھے لیکن یہاں پر محمد کے بارے بات کرنا بے ربط ہے۔

3: آخر میں وہ اونٹوں پر سواری کرنے والے تھے کہ ایک اونٹ سوار دوسرے اونٹ سوار کے بعد آ رہا ہو گا۔ کسی شے کو حقیر جاننے کے لیے یہاں پر کوئی اہم نکتہ نہیں ہے اور ایک اونٹ کا نکلنا اس آیت کو استعمال کرنے کی اور اسلام کے ساتھ استحکام کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے بائبل میں کہیں اسلام کا شمار نہیں ہے جیسے خدا باپ کی تثلیث ، فضل ، روح القدس وغیرہ کے ذریعے سے بچاتی ہے۔

سوال: یسعیاہ 21: 13 میں، کیا یہ فقرہ عرب پر بوجھ پیدا کرتا ہے مطلب یہ کہ خدا نے اسے عرب پر عائد کر دیا ہے  کہ اس پر فرض ہے کہ وہ پیغام کو " مخلوق " تک پہنچائے جسطرح احمدی مسلمان دعویٰ کرتے ہیں؟

جواب: یہ ایسے سنائی دیتا ہےکہ جیسے احمدی کہہ رہے ہوں کہ بائبل کہتی ہے  کہ یہ بوجھ صرف عرب پر ہے نہ کہ دوسروں پر۔

آئیں دیکھتے ہیں کہ یسعیاہ کیا ذکر کرتا ہے۔

" بائبل پر بوجھ" یسعیاہ 13: 1۔

" موآب پر بوجھ" یسعیاہ 15: 1۔

" دمشق پر بوجھ" یسعیاہ 17: 1۔

" مصر پر بوجھ"  یسعیاہ 19: 1۔

"دشت دریا پر بوجھ" یسعیاہ 21: 2۔

" رومہ پر بوجھ" یسعیاہ 21: 11۔

" عرب پر بوجھ" یسعیاہ 21: 13۔

"روبا کی وادی پر بوجھ" یسعیاہ 22: 1۔

" صور پر بوجھ" یسعیاہ 23: 1۔

" عبرانی لفظ بوجھ نبوت کے لفظ کے مترادف  تھا۔ جب یسعیاہ نے ان جگہوں کے متعلق نبوت کی تھی اسکو بہتر طریقے سے لینا " غیر معمولی دکھائی دیتا تھا" احمدی فرقے نے یسعیاہ 21: 13 کے بارے میں  پعائنٹ اٹھایا ہو گا اور تمام دوسری آیات بھی واضح نہیں کرتی۔

سوال: کیا یسعیاہ 21: 13-17 اور یسعیاہ 42: 10-11 جنگ بدر کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ وہاں پر تھوڑی مسلمان فوج نے معجزاتی طور پر مکہ کے قبیلے قریش کے طاقتور لوگوں کو شکست دی تھی؟

جواب: یہ بائبل کے متعلق قابل خواہش سوچ ہے جنگ بدر 624 م ( 3 ہجری) میں ہوئی تھی 300 یا 328 لوگ تھے۔ مسلمانوں نے 70 مکے کے لوگوں کو مارا اور 70 کو گرفتار کیا اور انکی اپنوں کی 14 جانیں گئی تھیں۔  یہ ایک فتح تھی لیکن یسوع کے حکم پر ایک معجزہ نہیں تھا یا موسیٰ کا رڈ سی میں حصہ ۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں سے اس نے مدینہ کے اونٹ سواروں کا تصور  لیا تھا۔ دیکھتے ہیں شیعہ مسلمان والیم 3 نمبر 4394 صفحہ 975-976) شیعہ مسلمان والیم 3 نمبر 4341 صفحہ 951 والیم 3 نمبر 460 صفحہ 960-961 ( 17 رمضان 2 ہجری) بخاری والیم 1-5 کتاب 59 نمبر 1462 صفحہ 323؛ بخاری والیم 4: 324 صفحہ 206؛ بخاری والیم 1-5 کتاب 59 نمبر 292 صفحہ 201۔

اب دوباری یسعیاہ 21: 16، 147 کو دیکھتے ہیں دوبارہ یہ بیان کرتا ہے کہ ایک سال میں کہ بچانے والے تیر انداز قیدار کے جنگجو بہت کم ہونگے ۔ اور اسکے ایک سال بعد مکہ ابھی فتح نہیں ہوا تھا بہت کم ختم ہوئے تھے، بلکہ یہ اسور کی طرف اشارہ کرتا ہے یسعیاہکے وقت جنوبی عرب کے قبیلوں نے 715 ق م میں حملہ کیا تھا۔ 

سوال: یسعیاہ 21: 16-17 میں، قیدار کے بارے میں یہ نبوت کب پوری ہونی تھی؟

جواب: قیدار جنوبی عرب مکہ میں کافی مشہور  قبیلہ تھا۔ اسور اور بابل نے عرب پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہو گی سارگون دوم نے جنوم عرب کے قبیلے کے خلاف 715 ق م میں ایک مہم چلائی تھی۔

سوال: یسعیاہ 22: 2 میں، کس شہر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟

جواب: یہ یروشلیم ہے جو یسعیاہ 22: 9 میں داؤد کا شہر کہلاتا ہے ۔

سوال: یسعیاہ 22: 13 میں، اس متن میں یہ عبارت کیا ہے " آؤ کھائیں اور پیئیں کل تو ہم مرینگے"؟

جواب:  اسکا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ختم ہو جانے کی قطار پو پاس کیا تھا۔ ایک تو انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ انہوں نے یقیناً تباہ ہو نا  تھا تو اگرچہ وہ زندہ ہیں خیر اسوقت وہ جلدی مر جائینگے۔

سوال: یسعیاہ 22: 16 میں شبناہ کے ساتھ کیا غلط ہوا تھا جو اپنے لیے قبر کھود رہا تھا؟

جواب: اس نے بڑی غلطی کی تھی کہ اس نے اسوقت بہت سارا پیسہ عدرمر کے خزانے میں استعمال کیا تھا؟

سوال: یسعیاہ 22: 25 میں، کیا اشارہ کرتا ہے؟

جواب: کھونٹی الیاقیم کا بیٹا خلقیاہ یسعیاہ 22: 20 کے مطابق ہےکھونٹی اپنے باپ کے گھرانے کے لیے جلالی تخت ہو گا ۔ ابھی یسعیاہ 22: 25 نبوت کر تا ہے کہ اس وقت یہ کھونٹی گرائی جائیگی اور اسکا بوجھ اس پر گھر جائیگا الیاقیم کو خویش نوازی کے ساتھ ہلایا گیا یا سہارے کے طور پر اسکی جگہ کو استعمال کیا گیا تھا۔ ترجیحاً اسکے خاندان کے لیے دوستوں کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 23: 1، 6، 10، 14 میں، ترسیس کیسے طائر سے مطابقت رکھتا ہے؟

جواب: خویشیا کے رہنے والوں نے ترسیس کو سپین سے کچھ دوری پر گرلڑ کے مغرب میں نویں یا دسویں صدی قبل از مسیح میں دریافت کیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 23: 2، 4 میں، صیدانی کا ذکر کیوں صور کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟

جواب: صور کے شہر  اور صیدانی تقریباً صرف 25 میل کے فاصلے پر تھے اور صیدانی کے شہریوں نے صور کے شہر کو دریافت کیا تھا۔

سوال: یسعیاہ 23: 15-17 میں، یہ صور کی 70 برس کی قید کب ہوئی تھی؟

جواب: شہر صور کی تجارت میں وسعت تھی اسور نے شہر صور کو کسی بھی کاروبار کی سرگرمی میں شامل ہو اور اس تقریباً  701 ق م میں اجازت نہیں دی تھی۔ یہ تقریباً 630 ق م میں ختم ہوا جب صور کے قبضے کی زرپوشی اختتام کو پہنچی تھی۔

کارتھج 814/815 ق م میں دریافت ہوا تھا اور صور کے لوگ آسانی سے وہاں جا سکیں صیدانی یا فویشیا کے دوسرے شہروں میں تجارت کے لیے ۔

سوال: یسعیاہ24: 1-4 میں، زمین کب خالی ہو جائے گی؟

جواب: یسعیاہ 24: 27 میں یہ چھوٹا الہام کہلاتا ہے کیونکہ یہ تین اسباق آکری وقت کو بیان کرتے ہیں آخری وقت میں خدا زمین کی ساری سطح پر اپنی تباہی لائے گا۔

سوال: یسعیاہ 25: 5 میں اس وقت لوگوں نے شریعت کا عدول کیا کیا اسکا مطلب ہے کہ پرانا عہد نامہ غلط ہے ؟

جواب: نہیں خداوند کا کلام آسمان پر ابد تک قائم ہے۔( زبور 119، 89، 91، 144، ؛ 1 پطرس 1: 25) اور زمین پر خداوند لوگوں کے نہ سے اپنے کلام کا انحراف نہیں کرےا گا۔ ( یسعیاہ 59: 21) اور خداوند کا کلام بے تاثیر اسکے پاس واپس نہیں لوٹے گا اب یشوع 1: 8 میں خداوند نے یسوع کو حکم دیا کہ خدا کی یہ شریعت اسکے منہ سے نہ ہٹے  اس لیے خدا گرانٹی دیتا ہے کہ اسکے یہ الفاظ ہر کسی کے منہ سے نہیں ہٹیں گے۔ یشوع کی یہ ذمہ داری ہے  کہ خدا کے کلام کو اپنے منہ سے نہ ہٹائے۔ خدا یقین دلائے گا کہ اسکا کلام زمین پر ہے۔ تاہم کچھ لوگ خدا کی شریعت کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور خدا کے ساتھ اپنے قوانین کی عکس بندی کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک نیا قانون بناتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پرانا قانون منسوب ہو جاتا ہے۔

سوال: یسعیاہ 24: 10 میں، کونسا شہر ویران ہے؟

جواب: یہ ویران شہر، شہر کا نام نہیں ہے۔ لیکن ایک شہر کا بیان ہے۔

یہ شہر کون سا ہے؟ یہ شہر مکاشفہ 18 کے متوازی  ہے حقیقت یہ ہے کہ دونوں پیراگراف آخری وقت کے بارے میں بتا رہے ہیں شاید یہ مکاشفہ میں بابل کا شہر ہے۔

سوال: یسعیاہ 24: 21-22 میں اونچی سطح کے مالک لوگ کب بڑی سزا میں مبتلا ہونگے؟

جواب: یہ آخری وقت کی طرف اشارہ  کرتا ہے اور تاکہ اسکا اشارہ مکاشفہ 12: 7-21 میں اس پیراگراف کے متوازی ہو سکے۔ہو سکتا ہے  کہ یہ مصیبت کا اختتام ہو یا ہزار سالہ دور حکومت کا شروع  یسعیاہ کے اس حصے کی مطابقت ہزار سالہ دور حکومت کے ساتھ ہے جسکا ذکر مکاشفہ 20: 1-7 میں ہوا ہے۔

سوال: یسعیاہ 24: 23 میں، چاند اور سورج کیسے شرمندہ ہو نگے؟

جواب: اس تمثیلی زبان کا مطلب ہے کہ وہ مدھم ہو جائنگے جس طرح کہ انہیں شرم آتی  تھی یہ واقعات تکلیف کے دوران ہونگے جب لوگ اس سبب میں مبتلا ہونگے تو انکے سر شرم سے جھکے ہونگے خدا کے ہاتھ کو پنہچانے کے لیے اور زیادہ براہ راست کے ذریعے سے اور تب ہمیشہ خدا کے سامنے اور اب بھی وہ خدا کو رد کرتے تھے۔

سوال: یسعیاہ 25: 1-2 میں یہ تباہی کیسی ہے عجیب کام کیا ہیں؟

جواب: ایک چیز کا تباہ ہو جانا یہ سچ ہے کہ تباہی کبھی بھی عجیب دکھائی نہیں دیتی پھانسی کیا ہوتی ہے اس کے متعلق کسی مجرم سے پوچھیے۔ اگر ایک دشمن آپ کو مارنے والا ہے تو وہ رک جاتا ہےتو یہ آپ کے لیے عجیب کام ہے یہ تباہی دو طریقوں سے ہوتی ہے۔

یہوادہ کے دشمنوں کی تباہی:  یہوادہ کے دشمنوں کی تباہی یہوادہ کے لیے ایک عجیب کام ہے اس صورت حال میں وہ پر امن ہو سکتی ہے جب وہ جو اس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تباہ ہو جائیں گے۔

انصاف کی سزا عجیب چیز ہے:  کہ اگر وہ تمام جو بڑے غیر منصفانہ طریقے سے  فیصلے کرتے ہیں صحیح ہو جائیں تو زمین آخر کار صحیح ہو جائے گی۔

سوال: یسعیاہ 25: 11 اور یسعیاہ 25: 5 خدا کیوں غرور کو پست کرنے کی خواہش  کرتا ہے؟

جواب: کتاب مقدس بیان نہیں کرتی لیکن یہاں کم سے کم  مکمل کرنے والی تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔

خدا کا جلال:  خدا خواہش کرتا ہےکہ تمام جلال اسے ملے ۔ اور بیمار آدمی خدا کو  جلال دینے کی بجائے اپنے آپ کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

ان کے لیے:  بعض اوقات ایک انسان کو تحمل مزاج بننے کی ضرورت ہے اور وہ اپنے پیچھے کی غلطیوں کو ٹھیک کرے کیونکہ وہ لوگ سب سے پہلے اُسے دیکھیں گے۔

دوسروں کے لیے:  بعض اوقات جب ایک انسنا تحمل مزاج  اور با اصول ہوتا ہے دوسے اس کو دیکھیں گے اور اس انسان کی سزا سے دیکھیں گے۔

سوال: یسعیاہ 26: 3 میں، خدا لوگوں کو مکمل عمل میں کیسے رکھتا ہےجب ان کا ذہن قائم ہوتا ہے؟

جواب: خدا ہماری مشکلات کو نظر انداز نہیں کرتا  لیکن وہ ہمیں آرام مضبوطی دیتا ہے اور ان مشکلات میں گزرنے کے لیے مدد کرتا ہے۔ یہ فلپیوں 4: 6-7 کے مشابہہ سنائی دیتا ہے وہاں پر ہم کسی چیز کے متعلق تشویشناک نہیں ہوتے۔ اگر ہم خدا کو جاننے کی درخواست کرتے ہیں تب خدا کا امن ملتا ہے جو ہمیں خدا کی سمجھ عطا کرتا ہے جو ہمارے ذہنوں دلوں کی حفاظت کرے گا۔

سوال: یسعیاہ 26: 7-8 میں، کیسے سچائی کی سطح اور رستہ ہموار ہوتا ہے؟

جواب: ان آیات کو سمجھنے کا اور اس رستے پر قائم رہنے کا ایک رستہ ہے اچھا راستہ ہموار ہوتا ہے کہ لوگ اس سے ٹھوکر نہیں کھائیں گے دائرے میں مت چلو یا غلط راستے کی رہنمائی مت لو۔

ان آیات کو سمجھنے کا  ایک اور رستہ ہے وہ یہ کہ لوگوں پر نظر کرنا وہ جو سفر کرنے کے لیے رستہ تلاش کرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور وہیں سے رستہ بنتا ہےخدا کے رستے پر چلناہم سے چھپا ہوا نہیں ہے یا ہم اس شرم میں رہتے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں یا وہ ہم نہیں کرتے۔

سوال: یسعیاہ 26: 8-9 میں، ہم خدا کے  لیے ایک سال کا رویہ کیسے بوتے ہیں؟

جواب: یہاں اپنے کو خدا کے لیے گہرا کرنے کے کچھ طریقے ہیں۔

دعا میں وقت گزارنا: خدا کی روشنی میں خدا کی پرستش کرنا فرض کے عمل سے بالا تر ہو کر اسکی پرستش کرنا اور ذاتی اصول کو بہتر کرنا لیکن دعا کرنا کیونکہ لطف اندوز ہونا بہتر ہے۔

سیکھنے کا انتظار کرنا:  سیکھنے کے لیے خدا کی رہنمائی کا انتظار کرنا بلکہ اپنے آپ کی رہنمائی کرنا اور اُمید رکھنا کہ خدا آپ کی رہنمائی کریگا۔

خدا کو جلال:  اپنی زندگی کے ذریعے زمین پر خدا کے نام کو جلال دینا ہماری تابعداری اور ہماری خدامت دونوں کے ذریعے سے۔