مکاشفہ سے بائبل کے سوال
سوال: مکاشفہ میں بائبل کی دوسری کتابوں کےساتھ کیا مشابہتیں ہیں؟
جواب: خلاف توقع وہ بہت زیادہ تصورات نہیں ہیں، جو مکاشفہ سے انوکھے ہوں جیسے یہ 96 مشابہتیں ظاہر کرتی ہیں۔
|
باقی بائبل |
مکاشفہ |
تصور/ مثل |
|
1 یوحنا1: 2-3، 3 یوحنا 5، 12 |
مکاشفہ 1: 2 |
مسیح کے مکاشفہ کی گواہی دینا |
|
متی 13: 16 |
مکاشفہ 1: 3 |
مبارک ہیں وہ جو سنتے ہیں |
|
ذکریاہ 3: 9؛ یسعیاہ 11: 2 |
مکاشفہ 1: 4؛ 4: 5 |
سات روحیں |
|
کلسیوں 1: 15؛ عبرانیوں 2: 6، 9 |
مکاشفہ 1: 5 |
یسوع مردوں میں سے جی اٹھنے والوں میں پہلوٹھا |
|
رومیوں 5: 9؛ عبرانیوں 9: 12-14؛ 10: 19 |
مکاشفہ 1: 5 |
یسوع نے اپنے خون سے ہمیں آزاد کیا |
|
1 پطرس 2: 4، 6، 9 |
مکاشفہ 1: 5 |
ہم خدا کے بادشاہ اور کاہن ہیں |
|
متی 24: 30؛ مرقس 13: 26؛ لوقا 21: 27؛ اعمال 1: 11؛ دانی ایل 7: 13 |
مکاشفہ 1: 7 |
یسوع بادلوں پر آتا ہے، ہر آنکھ یسوع کو واپس آتا دیکھے گی |
|
متی 24: 27؛ لوقا 17: 24 |
|
ابن آدم آسمانی بجلی کی مانند ہو گا جو چمکتی ہے |
|
ذکریاہ 12: 10-14 |
مکاشفہ 1: 7 |
شریروں نے یسوع کو چھیدا اور ماتم کریں گے |
|
یسعیاہ 66: 24؛ متی 13: 24- 43، 50؛ متی 25: 41-46 |
مکاشفہ 2: 11؛ 14: 10-11؛ 19: 20؛ 20: 10-15؛ 21: 8 |
دوسری موت |
|
متی 11: 15؛ مرقس 4: 23؛ لوقا 8: 8؛ 14: 35 |
مکاشفہ 2: 29؛ 3: 6،13، 22 |
جسکے کان ہوں وہ سنے |
|
متی 24: 4، 44؛ مرقس 13: 33؛ لوقا 21: 36 |
مکاشفہ 3: 2، 3 |
ہمیں جاگتے رہنا چاہیے |
|
متی 24: 36؛ مرقس 13: 32 |
مکاشفہ 3: 3 |
ہم نہیں جانتے یسوع کب آئے گا |
|
خروج 32: 32-33؛ زبور 69: 28 |
مکاشفہ 3: 5؛ 20: 12 |
کتاب حیات سے ہرگز نہ کاٹوں گا |
|
دانی ایل 12: 1؛ لوقا 10: 20؛ خروج 2: 32-33؛ زبور 69: 28 |
مکاشفہ 3: 5؛ 13: 8؛ 17: 8؛ 20: 12، 5؛ 21: 27 |
کتاب حیات |
|
یسعیاہ 22: 22 |
مکاشفہ 3: 7 |
خدا کیا بند کرتا ہے جو کوئی کھول نہیں سکتا۔ خدا کیا کھولتا ہے جو کوئی بند نہیں کر سکتا |
|
اعمال 14: 27؛ 1 کرنتھیوں 16: 9 |
مکاشفہ 3: 11 |
دروازہ کھول رکھتا ہے |
|
1کرنتھیوں 3: 12-15؛ فلپیوں 4: 1 |
مکاشفہ 3: 11 |
ہم تاج اور انعام حاصل کریں گے |
|
1کرنتھیوں 3: 16-17؛ 1پطرس 2: 5-6 |
مکاشفہ 3: 12 |
ہم خدا کی ہیکل کا حصہ ہیں |
|
امثال 3: 11-12؛ عبرانیوں 12: 5-11 |
مکاشفہ 3: 19 |
بہتوں کو پیار کرتا ہوں اور تنبیہ کرتا ہوں |
|
یسعیاہ 6: 1-7؛ حزقی ایل 1، 10: 1-22 |
مکاشفہ 4: 1-11 |
آسمان میں تخت کا کمرہ |
|
حزقی ایل 1: 5-19؛ 10: 10-14 |
مکاشفہ 4: 6، 19: 4 |
چار جاندار |
|
حزقی ایل 1: 22 |
مکاشفہ 4: 6؛ 15: 2 |
بلور کا سمندر |
|
|
|
قدوس، قدوس، قدوس |
|
یسعیاہ 6: 3 |
مکاشفہ 4: 8 |
خداوند خدا قادرِ مطلق/ رب الافواج |
|
یوحنا 1: 29؛ 1 پطرس 1: 19 |
مکاشفہ 5: 1-8 |
یسوع خدا کا برہ ہے |
|
یوحنا 5: 22-23 |
مکاشفہ 5: 12-13؛ 7: 10 |
یسوع کی باپ کی مانند تمجید کی گئی |
|
متی 24: 6-7 |
مکاشفہ 6: 1-4 |
جنگیں اور لڑائی خاتمہ سے آتی ہے |
|
متی 24: 7 |
مکاشفہ 6: 5-6 |
کال / قحط |
|
زبور 5: 3؛ متی 24: 7 |
مکاشفہ 6: 7-8 |
عالم ارواح اور موت خدا کے حضور آتے ہیں |
|
یوایل 2: 2، 10؛ 3: 15؛ مرقس 13: 24؛ لوقا 21: 25 یسعیاہ 24: 23؛ عاموس 8: 4 |
مکاشفہ 6: 12-13 |
سورج تاریک ہوجائیگا اور چاند خون ہو جائیگا |
|
یوایل 2: 10؛ مرقس 13: 25 |
مکاشفہ 6: 13 |
ستارے آسمان سے گرتے ہیں |
|
یسعیاہ 34: 4 |
مکاشفہ 6: 13 |
آسمان طومار کی مانند سمیٹا گیا |
|
متی 24: 7؛ مرقس 13: 8؛ لوقا 21: 11؛ یرمیاہ 4: 24؛ یسعیاہ 29: 6؛ ناحوم 1: 5 |
مکاشفہ 6: 12؛ 8: 5؛ 11: 13، 19؛ 16: 18-19 |
خاتمہ پر زلزلہ |
|
یسعیاہ 2: 10-11؛ 19: 21؛ لوقا 21: 26 |
مکاشفہ 6: 14-17 |
لوگ خدا کے غضب سے غاروں میں چھپ گئے |
|
ذکریاہ 6: 1-8؛ ( تھوڑا) یرمیاہ 49: 36 |
مکاشفہ 7: 1 |
تباہ کرنے والے چار فرشتے |
|
حزقی ایل 9: 4 |
مکاشفہ 7: 3؛ 9: 4؛ 14: 1؛ 22: 4 |
ہمارے ماتھوں پر خدا کا نام ہو گا |
|
ذکریاہ2: 13؛ حبقوق 2: 20 |
مکاشفہ 8: 1 |
عظیم خاموشی |
|
یوایل 1: 19 |
مکاشفہ 8: 7 |
درخت اور گھاس جل گئے |
|
یرمیاہ 9: 15 |
مکاشفہ 8: 10-11 |
پانی ناگدونے میں بدل گیا |
|
یوایل 2: 3-11؛ حزقی ایل 5: 17؟ |
مکاشفہ 9: 1-12 |
دہشت ناک ٹڈیاں گھوڑوں کی مانند نظر آتی ہیں |
|
یسعیاہ 11: 15-16 |
مکاشفہ 9: 14؛ 16: 12 |
دریائے فرات |
|
دانی ایل 12: 9؛ یسیعاہ 29: 11-12 |
مکاشفہ 10: 4 |
خدا کے مکاشفے کے حصے سر بمہر |
|
حزقی ایل 2: 9-3؛ 3 |
مکاشفہ 10: 9-10 |
طومار کھانا |
|
حزقی ایل 30-43 |
مکاشفہ 11: 1-2 |
ہیکل کی پیمائش |
|
دانی ایل 9: 26-27؛ 12: 7، 11 |
مکاشفہ 11: 1-3؛ 12: 6؛ 13: 5 |
سال |
|
ذکریاہ 4: 3، 11-14 |
مکاشفہ 11: 4 |
دو زیتون کے درخت اور دو شمعدان |
|
1کرنتھیوں 15: 52 |
مکاشفہ 11: 15 |
آخری نرسنگا |
|
عبرانیوں 9: 23 |
مکاشفہ 15: 5؛ 11: 19 |
آسمان میں شہادت کے خیمے کا مقدس |
|
دانی ایل 8: 10 |
مکاشفہ 12: 4 |
اژدھا کا ستارے کے نیچے پھینکنا |
|
حزقی ایل 28: 16-17 |
مکاشفہ 12: 9 |
شیطان کا آسمان سے گرایا جانا |
|
دانی ایل 9: 26؛ ناحوم1: 8 |
مکاشفہ 12: 5 |
پانی کا سیلاب یا دریا |
|
دانی ایل 7: 4-7 |
مکاشفہ 13: 1-13؛ 17: 3 |
دس سینگوں والا حیوان |
|
یسعیاہ 63: 1-6؛ یوایل 3: 13 |
مکاشفہ 14: 17-19 |
قہر کے انگور |
|
عبدیاہ 1 (ادوم) |
مکاشفہ 16: 12-14 |
عام یا ادوم سے لڑائی کرنے کے لیے اقوام کو جمع کرنے کے لیے روحیں بھیجی گئیں |
|
یسعیاہ34، 63؛ حبقوق 3 |
مکاشفہ 16: 14-16 |
ہر مجدون کی عظیم جنگ |
|
ذکریاہ 5: 5-11؛ 1پطرس 5: 13 |
مکاشفہ 7 |
بابل کا آئندہ شریر |
|
یرمیاہ 51: 7؛ حزقی ایل 23: 31-34 |
مکاشفہ 17: 4؛ 18: 3 |
پاگل کرنے والا حرامکاری کی شراب کا پیالہ |
|
یسعیاہ 47؛ یرمیاہ 50، 51 |
مکاشفہ 14: 8؛ 16: 19؛ مکاشفہ 18؛ 19: 1-4 |
بابل کی تباہی |
|
متی 24: 42-43؛ 1تھسلنکیوں 5: 2؛ 2پطرس 3: 10 |
مکاشفہ 16: 15 |
یسوع/ خداوند کا دن رات کو ایک چور کی مانند آئیگا |
|
یوایل 3: 3 |
مکاشفہ 18: 13-14 |
آدمیوں کے بدنوں اور جانوں میں تجارت |
|
حزقی ایل 27: 32-34 |
مکاشفہ 18: 17-19 |
بابل کی طرح کونسا شہر سمندر کے درمیان تباہ ہوا؟ |
|
یسعیاہ 34: 10 ( ادوام) |
مکاشفہ 19: 3 (بابل) |
دھواں ابدلاباد اٹھتا رہے گا |
|
افسیوں 5: 32 |
مکاشفہ 19: 7؛ 21: 9 |
مسیح کی دلہن، برہ |
|
یسعیاہ 63: 1-3 |
مکاشفہ 19: 13 |
پوشاک خون میں ڈوبتی ہے |
|
متی 16: 17؛ یہوداہ 14 |
مکاشفہ 19: 14 |
یسوع کے پیچھے پیچھے فوجیں آ رہی ہیں |
|
یسعیاہ 63: 1-3 |
مکاشفہ 19: 15 ب |
خدا / یسوع کا حوض میں خدا کے غضب کی شدت روندنا |
|
متی 24: 28؛ لوقا 17: 37؛ استثنا 28: 26 |
مکاشفہ 19: 17-21 |
پرندوں کا گوشت سے خوب سیر ہونا |
|
یسعیاہ 35 |
مکاشفہ 20: 1-7 |
ایک ہزار سالہ دور |
|
دانی ایل 12: 2 |
مکاشفہ 20: 4-5 |
قیامت (دوبارہ زندگی میں آنا) |
|
2تمیتھیس 2: 12 |
مکاشفہ 20: 4، 6 |
مسیح کے ساتھ بادشاہی |
|
حزقی ایل 38-39؛ ذکریاہ 12: 7-11؛ 14: 2-8، 12؛ یسعیاہ 29: 6 |
مکاشفہ 20: 7-9 |
جوج اور ماجوج کو مار دیا؛ یہ جنگ یروشلیم سے باہر تھی |
|
متی 25: 41 |
مکاشفہ 20: 10 |
شیطان اور اسکے ساتھی آگ کی جھیل میں پھینکے گئے |
|
زبور 139: 16~ |
مکاشفہ 20: 12 |
اعمال کی کتاب |
|
متی 25: 31-46 |
مکاشفہ 20: 13؛ 22: 12 |
انکے اعمال کے مطابق انصاف کیا گیا |
|
یسعیاہ 25: 7-8 |
مکاشفہ 20: 14 |
موت ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائیگی |
|
متی 25: 41 |
مکاشفہ 20: 15 |
لوگوں کا آگ کی جھیل میں جانا |
|
یسعیاہ 65: 17-25؛ 66: 22-24؛ 2پطرس 3: 13 |
مکاشفہ 21: 1 |
نیا آسمان اور نئی زمین |
|
ذکریاہ 8: 3 |
مکاشفہ 21: 2-3؛ 22: 3 |
خدا نئے یروشلیم میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہے گا |
|
یسعیاہ 60: 19-20 |
مکاشفہ 21: 3-5؛ 22: 5 |
آسمان پر سورج اور چاند کی ضرورت نہیں |
|
یسعیاہ 25: 8 |
مکاشفہ 21: 4؛ 7: 17ب |
ہر آنسو کا پونچھا جانا |
|
یسعیاہ 41: 4 |
مکاشفہ 21: 6؛ 22: 13 |
خدا ابتداو انتہا ہے |
|
گلتیوں 3: 26 |
مکاشفہ 21: 7 |
ایماندار خدا کے بیٹے ہونگے |
|
میکاہ 4: 1-2 |
مکاشفہ 21: 10 |
نیا یروشلیم ایک پہاڑ پر |
|
حزقی ایل 48: 30-35 |
مکاشفہ 21: 12-13 |
نئے یروشلیم میں ہر قبیلے کے لیے ایک دروازہ ہے |
|
افسیوں 3: 20 |
مکاشفہ 21: 14 |
نیا یروشلیم/کلیسیا 12 رسولوں کی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا |
|
حزقی ایل 47: 3-6 |
مکاشفہ 15: 21 |
فرشتے کا ایک عصا سے شہر کی پیمائش کرنا |
|
حزقی ایل 47: 1-2؛ ذکریاہ 14: 8؛ یوایل 3: 18 |
مکاشفہ 22: 1-2 |
دریا/چشمہ کا یروشلیم سے بہنا |
|
پیدائش 2: 9-10؛ حزقی ایل 47: 12 |
مکاشفہ 22: 2-3، 14، 19 |
حیات کا درخت |
|
زبور 11: 7؛ 17: 15؛ 27: 8 |
مکاشفہ 22: 4 |
ہم خدا کے چہرے کو دیکھیں گے |
|
1 کرنتھیوں 14: 32 |
مکاشفہ 22: 6 |
محاورہ: نبیوں کی روحیں |
|
کلسیوں 2: 18 |
مکاشفہ 22: 8-9 |
فرشتوں کی پرستش منع ہے |
|
دانی ایل 12: 4 |
مکاشفہ 22: 10 |
نبوت کی باتوں کو پوشیدہ نہ رکھ |
|
دانی ایل 12: 10 |
مکاشفہ 22: 11 |
بھلائی اور بڑائی دونوں بڑھتے ہیں |
|
2پطرس 1: 19 |
مکاشفہ 22: 16 |
یسوع صبح کا ستارہ |
|
1کرنتھیوں 6: 9-10 |
مکاشفہ 22: 15 |
بدکاروں کا باہر رہنا |
|
متی 6: 10؛ 2پطرس 3: 12 |
مکاشفہ 22: 17، 20 |
کہتا ہوں آ، تیری بادشاہی آئے، آگے مسیح کی واپسی پر نگاہ کرے |
یوحنا رسول کا شاگرد کون تھا، اپنے سامریہ کے خط میں، سابقہ مشہور تعلیم پڑھنے والوں کو یاد دلا رہا ہے، جس کا ہمارے پاس کہیں بھی ریکارڈ نہیں سوائے مکاشفہ کی کتاب میں۔ دیونیاسیوس آف اسکندریہ شاید پہلا سوال تھا اگر یوحنا وہی یوحنا رسول تھا لیکن وہ 150 سال بعد لکھا گیا ۔
تحریرات کا 8 حصہ پاپیاس سے تعلق رکھتا ہے، شاید 400 م کے قریب لکھی گئی، کہتی ہے " کتاب کے الہام کے لحاظ ( مکاشفہ) ہم اسے فضول سمجھتے ہیں کہ کسی دوسرے کا اضافہ کیا جائے؛ مبارک گریگری تھولاگس اور سیرل اور حتیٰ کہ مرد جو ابھی عمر رسیدہ تاریخ، پاپیاس، ایرینیس، میتھوڈیس اور ہپولائیٹس نے مکمل طور پر اسے تسلی بخشی ( اینٹی نکائن فادرز والیم 1؛ رابرٹس اینڈ ڈونلڈسن ایڈیٹر 1994)
سوال: مُکاشفہ 1:3 میں، کیا مسیحیوں کو آخری وقت کے مُتعلق مطالعہ کرنے میں وقت گزارنا چاہیے؟
جواب: ہاں کیونکہ مکاشفہ 1: 3 ایسا کہتی ہے۔ چونکہ نئے عہد نامے تعلیمی کے مواد کا تقریباً 3/2 حصہ خیال کیا جاتا ہے کہ یسوع مسیح کی دوسری آمد کے متعلق ہے آر، سی سپرول " نودیٹ اذاے گڈ کویشن" میں کہتا ہے " پس ابھی مستقبل میں خدا کی بادشاہی کے انجام پر روشنی ڈالتی ہے یہ ظاہر ہے کہ یہ ابتدائی مسیحیوں کی اہمیت کے لیے ایک پُربحث معاملہ ہے اور خود یسوع کی تعلیم کے لیے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی وقت پر ہمیں وقت سے پہلے رائے نہیں قائم کرنی۔
سوال: مُکاشفہ 1: 4 میں ، اور 4: 5 میں روح القدس ایک ہے یا سات ہیں؟
جواب: کلام پاک ہمیں بتانا ہےکہ پاک روح صرف ایک ہے مکاشفہ 1: 4 ظاہر کرتی ہے کہ روح القدس کے سات امتیازی حصّے ہیں انسائیکلوپیڈیا آف بائبل ڈفکلٹیز صفحہ 431۔ 432 اور جب نقاد پوچھیں صفہ 557 کہتے ہیں انکے یسعیاہ 11: 2 میں نام دیتے گئے ہیں بطور خداوند کی روح ، حکمت، فہم ، صلاح، مضبوطی ، علم اور خدا کا خوف زکریاہ 3: 9 کہتی ہے کہ اس پتھر کو جو میں نے یشوُع کے سامنے رکھا ہے جو سردار کاہن ہے جو ایک پتھر اور اُس پر سات آنکھیں ہیں زکریاہ 4: 10 بھی خداوند کی سات آنکھوں کا ذکر کرتی ہے۔
سوال: مُکاشفہ 1: 4، 8، 11، 17 میں کیا یہ باپ ہے یا بیٹا، الفا اور اومیگا کون ہے جو تھا جو آنیوالا ہے کون ہے اول اور آخر کون ہے ؟
جواب: یہ دو عہدے اور اسکے ساتھ ساتھ کئی دوسرے جن کو باپ اور بیٹے نے حصّے دار بنایا ایک دوسری مثال جو حصّے دار بنانے کی مثال ہے یوحنا 8: 58 دیکھیں ملان کا امبروز ( 378م ) نے اپنے کام میں آف دی ہولی سپرٹ کتاب 1 سبق 13 میں آسمانی ناموں میں حصّے دار بنانے پر مزید لکھا۔
ایک یہواہ کے گواہ بننا مُشکل ہے جب باپ اور بیٹا کافی عُہدوں کو حصّے دار بناتے ہیں دی جے ڈبلیو ( یہواہ کے گواہ) اویک میگزین 1978/8/22 کہتا ہے الفا اور اومیگا یہاں یہواہ خدا کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کہ واچ ٹاور میگزین صفحہ 15 ۔1978/10/1 0 کہتا ہے یہ یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سوال: مُکاشفہ 1: 5 میں ، یسوع مسیح کیسے مُردوں میں سے پہلوٹھا ہے؟
جواب: کلسیوں 1: 15 اور عبرانیوں 2: 6 پر مباحثہ دیکھیں۔
سوال: مُکاشفہ 1: 7 میں، جب یسوع بادلوں پر واپس آیئگا، کیا یہ گرو مہاراج جی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جو انڈیا سے ایک جہاز میں امریکہ سے اڑ کر آیئگا جیسے ڈیوائن لائٹ مشن نے سکھایا؟
جواب نہیں کم از کم چار وجوہات کی بنا پر
1۔ اعمال 1: 11 کہتی ہے کہ یہ ویسے ہی آئیگا جیسے آسمان پر اُٹھایا گیا۔
2۔ اعمال 1: 11 کہتی ہے کہ یہ وہی یسوع ہوگا۔
3: مُکاشفہ 1: 7 کہتی ہے کہ ہر آنکھ اُسے دیکھے گی۔
4۔ مکاشفہ 1: 7 اور اعمال 1: 11 دونوں ایک معجزانہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے لوگ بطور ایک نظارہ دیکھیں گے کوئی بھی گرو مہاراج جی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے کہ وہ انڈیا سے جہاز میں اُڑے گا عبرانیوں 12: 1 پر مباحثہ بھی دیکھیں ۔
سوال: مُکاشفہ 1: 7 اور 1: 11 میں کیا یہ "ناقابل فہم" ہے یسوع بادلوں میں ظاہراً واپس آئے گا جس طرح ریورنڈ مون، دعویٰ کرتا ہے؟
جواب: نہیں یہاں یہ ہے جو ایک بدعتی رہنما ریورنڈ مون نے لکھا ہے " اس لیے سب کا اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ نقطہ نظر جس سے کوئی بائبل کی تفیسر کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ یہ بالکل کسی جدید ذہین آدمی کے لیے ناقابل فہم ہے کہ خداوند بادلوں پر آئیگا تویہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ بائبل کو دوسری دفعہ تفصیل میں بائبل کو سمجھیں ۔۔۔۔ ڈیوائن پرنسپل صفحہ 500۔ کوئی مزید ناقابل فہم کوئی نہیں بہ نسبت یہ کہ یسوع اعمال 1: 11 میں روانہ ہوتا ہے شاید بنیادی مسائل جو بہت سوں کے ہیں یونیفکیشن چرچ میں خدا کے طریقوں میں ایمان ہے اور کسی کے طریقوں کی پیروی کرنا ایک سادہ لوحی ہے اگلا سوال بھی دیکھیں۔
سوال: مُکاشفہ 1: 7 میں کیسے " ہر آنکھ" یسوع کو بادلوں پر واپس آتا دیکھ سکتی ہے؟
جواب: اُنیسویں اور بیسویں صدیوں کے شروع میں سکیپٹکس بائبل کو غلط ظاہر کرنے کے لیے استمال کیا کرتے تھے کیونکہ ہر ایک آنکھ کے لیے ناممکن ہے کہ یسوع کو دیکھ سکے جیسے کہا گیا ہے دنیا گول ہے یہ ٹی وی کی ایجاد سے پہلےتھا۔
یقیناً حتیٰ کہ ٹی وی کے بغیر اگر یسوع ایک دائری راستہ میں زمین پر آیا یا اگر یسوع سید ھے راستے میں آیا اور 24 گنھٹوںسے زیادہ وقت لیا تو ہر آنکھ یسوع تک نگاہ کر سکتی ہے۔
سوال: مُکاشفہ 1: 7 میں ، کیسے وہ یسوع کو دیکھ سکیں گے جنھوںنے اُسے چھیدا، کیونکہ وہ تو بہت پہلے مر چکے تھے؟
جواب: سب سے پہلے یہ کہ بدعتی رہنما ریورنڈ مون ڈیوائن پرنسپل میں کیا کہتا ہے ( پانچواں ایڈیشن 1977) ، اور پھر جواب دیا جائے۔ ریورنڈ مُون کہتا ہے کہ رومی سپاہی جنھوں نے یسوع کو مصلوب کیا تھا، اُسے نہیں دیکھ سکیں گے ، چونکہ روُمی سپاہی ابھی دوبارہ زندہ نہیں ہوئے تھے چونکہ " وہ جس نے اُسے چھیدا تھا" حقیقت میں وہ بھی نہیں دیکھے گا، ہم اس آیت کی بطور تمثیل تفسیر کر سکتےہیں چونکہ وہ جس نے اُسے چھیدا تھا صرف تشبیہاً ہے، مسیح کا بادلوں پر واپس آنا بھی تشبیہاً ہے ( ڈیوائن پرنسپل صفحہ 513)۔ بادل حقیقت میں لوگوں کے گروہوں کو ظاہر کرتے ہیں اور مسیح حقیقتاً کوریا سے ریورنڈ مون ہے یہاں دو مختلف طریقے ہیں جنھوں نے اُسے چھیدا یسوع کو واپس آتے دیکھ سکیں۔
1: خدا جو قادرمطلق ہے لوگوں کو جہنم میں جانے سے روک سکا، کہ یسوع کو زمین پر آتے دیکھیں سکیں؟ چونکہ یوحنا 5: 28- 29 کہتی ہے جتنے قبروں میں ہیں اُسکی آواز سُن کر نکلیں گے جب یسوع آگے آئے گا تو پھر کسی کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے کہ حتیٰ کہ مُردے بھی یسوع کو دیکھیں۔
2: یسوع نہیں مرا تھا جیسے اس وقت کے رومی سپاہی اور یہودی کہتے تھے وہ ہم سب کے لیے مرگیا اور اس فہم میں، ہم سب نے بھی اُسے چھیدا۔
سوال: مُکاشفہ 1: 7 میں ، کیا یسوع کی واپسی غیر مرئی ہوگئی جیسے یہواہ کے گواہ تعلیم دیتے ہیں؟
جواب: مُکاشفہ 1: 7 کوئی مزید آسان نہیں ہو سکی:" ہر آنکھ اُسے دیکھے گئی" مزید برآں ، اعمال 1: 10 ، 12 کہتی کہ یسوع ویسےہی واپس آئیگا جیسے وہ آسمان پر اُٹھایا گیا۔ انہوں نے ظاہری طور پر یسوع کو آسمان پر جاتے دیکھا۔
سوال: مُکاشفہ 1: 8 میں، کیا یسوع الفا اور اومیگا ہے؟
جواب: ہاں، اس کے برعکس جو یہواہ کے گواہ کہتے ہیں یہواہ کے گواہ کی تھیالوجی کے مطابق صرف، خدا باپ ہی قادر مطلق ہے اور یسوع طاقتور دیوتا ہے"، اور " یہاں قادر مطلق" ذکر ہوا ہے، تا ہم ، یہاں اُنکی تھیالوجی سے ایک مسئلہ ہے ، کیونکہ یسوع تین وجوہات کی بنا پر واضح ہے۔
1: یہ یسوع تھا، نہ کہ خدا باپ جسے چھیدا گیا۔
2: یہ یسوع ہے جو مُکاشفہ 1: 8 میں آرہا ہے
3: شخص جو مُکاشفہ 22: 12۔ 13 میں بات کررہا ہے الفا اور اومیگا ہے اور وہ شخص مُکاشفہ 22: 20 میں یسوع ہے۔
الفا اور اومیگا کا مطلب بھی وہی ہے کہ ابتداء اور انتہا ، جو مُکاشفہ 1: 17۔ 18 اور 2: 8 میں یسوع کا خطاب ہے۔
سوال: مُکاشفہ 1: 10 میں، کیا خداوند کا دن" یہاں ہفتہ ہے یا اتوار ؟
جواب: یہ تقریباً اتوار تھا، کیونکہ" خداوند کا دن " وہ دن ہو گا جس دن یسوع مردوں میں سے جی اُٹھا جیسے ایک مُبلغ نے کہا، ہو سکتا ہے یوحنا نے حوصلہ شکنی محسوس کی ہو پس خدا اُسے کلیسیا میں لے آیا کچھ مسیحی اس سے مُتفق نہیں ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ سبت ( ہفتہ) تھا کسی غیر مسیحی کے پیش نظر، آسمووز گائیڈ ٹو دی بائبل ( صفحہ 1194) دونوں پر بحث کرتا ہے ، لیکن وہ دعویٰ کرتا ہے غالباً یہ ہفتہ ہے، کیونکہ چوتھی صدی کے ابتدائی عشروں تک" اتوار کو خاص نہیں سمجھا گیا تاہم ، آسموو نمایاں طور پر حقیقت کو سمجھنے میں ناکام ہے کہ پولس نے کرنتھیوں کو خدا کے لوگوں کے لیے باقاعدہ چندہ اکٹھا کرنے کی ہدایت کی کہ ہفتے کے پہلے دن لیا جائے 1 کرنتھیوں 16: 2۔ اس نے کیوں ہدایت کی کہ پہلے ہی ایک خاص جماعت ہفتے کے پہلے دن کریں پولس نے کبھی بھی اُنکو چندہ اکٹھا کرنے کے لیے نہیں کہا تھا، قیاساً کیونکہ وہ پہلے ہی ہفتہ کے پہلے دن اکٹھا کر لیا کرتے تھے ۔
سوال: مکاشفہ 1: 15، 2: 12 میں، یسوع کے منہ سے دودھاری تیز تلوار کیسے نکل سکتی ہے؟
جواب: یوحنا بیان کر رہا ہے کہ اس نے کیا دیکھا اور اسکے اثرات۔ آیا کہ یوحنا نے روشنی کی شعاعیں دیکھیں، یا کچھ اور یہ مرکزی نقطہ نہیں۔ چونکہ خدا نے اپنے کلام سے کائنات تخلیق کی ہے ( زبور 33: 6، 9) خدا کا کلام بہت ہر طرف زبردست ہتھیار ہے۔
میں نے قدرے ایک گستاخ مضمون سنا جو ایک یسوع اور ایک سُپر مین کے درمیان فرضی جنگ کے متعلق پوچھ رہا تھا۔ یہ کہا گیا کہ یسوع سادگی سے جیت گیا، کیونکہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ واقع نہ ہوا، اس لیے یسوع ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ مضمون بھول گیا کہ خدا کے ادا کیے گئے الفاظ میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ اور یہ بھی بھول گیا کہ قادر مطلق کی طاقت کا غضب کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ کرپٹونائٹ کی ضرورت نہیں۔
سوال: مکاشفہ 1: 17 میں، یوحنا یسوع کے قدموں میں گر کر مردہ سا کیوں ہو گیا؟ کیا یوحنا واقعی مر گیا؟
جواب: یہ لوگوں پر خدا کی پاکیزگی کا اثر ہے، حتیٰ کہ ایماندار، اس سے پہلے کہ وہ آسمان پر تبدیل ہوں۔ یوحنا ہو سکتا ہے کہ یہ نہ جانتا ہو کہ وہ مر گیا یا نہیں۔ آیا کہ یوحنا یسوع کے سامنے مر گیا یا یوحنا بے ہوش ہو گیا جیسے مردہ ہے۔ اکثر لوگ موخرالذکر کے متعلق خیال کرتے ہیں۔
سوال: مکاشفہ 1: 20، مکاشفہ 2 اور مکاشفہ 3 میں، ساتوں کلیسیاؤں کے سات فرشتے کون ہیں؟
جواب: یونانی لفظ انجیلوس کا معنی پیغام رساں کے ساتھ ساتھ فرشتہ بھی ہو سکتا ہے۔ مسیح آسمان پر فرشتوں کی حوصلہ افزائی یا ملامت نہیں کر رہا، قدرے یسوع نے حوصلہ افزائی اور ملامت کرنے کے الفاظ ساتھ کلیسیاؤں کے لیے کہے ہیں، اور فرشتوں کے ذریعے پیغام دیا گیا۔ اس کے برعکس، آیا کہ یہ ساتوں فرشتے ہیں یا انسانی پیغام رساں ہیں جو یوحنا سے ملے ہیں، ان کا کام سات کلیسیاؤں کو پیغام دینا ہے۔
سوال: مکاشفہ 2: 1-3، 22 میں، عام طور پر ہم سات کلیسیاؤں کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: یہ کلیسیائیں ایشیا کوچک ( موجودہ ترکی) میں ایک دائرہ بناتی ہیں، اور یوحنا نے غالباً اس علاقے میں خدمت کی۔ یہاں کلیسیاؤں کے ساتھ کئی دوسرے شہر بھی تھے جو لکھے جا سکتے تھے، لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر ان سات کلیسیاؤں میں سے ہر ایک کے لیے ایک خاص پیغام تھا۔ یہ غالباً یہ سات بیان کی گئیں کلیسیائیں، کلیسیاؤں کی سات اقسام ہیں۔ اس وقت کی اور موجودہ دونوں۔
سوال: مکاشفہ 2: 1-7 میں، ہم افسس شہر کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: بعد میں قسطنطین اوپل کے تعمیر ہونے تک، افسس کرنتھیس اور انطاکیہ کے درمیان نمایاں شہر تھا۔ اسکی اہمیت کا ایک خیال دینے کے لیے، دی نیو بائبل ڈکشنری ( 1978) کہتی ہے کہ اس بندرگاہ شہر کی سڑک کی چوڑائی 70 فٹ تھی، اور اسکی آبادی ایک ملین کا ایک تہائی تھی۔ دی وکلف بائبل ڈکشنری صفحہ 534 بھی اسکی آبادی کا اندازہ لگاتا ہے یہ 000،300 تھی، افسس بارھویں صدی ق م سے پہلے آباد تھا، اور 133 ق م میں رومی حکومت میں پر امن طور پر بڑھ گیا۔ تھیٹر پولس میں 25000 سے 50000 لوگ بیٹھ سکتے تھے۔ اسکی تصاویر وکلف بائبل ڈکشنری میں صفحہ 535 پر ہیں اور دی نیو انڑنیشنل ڈکشنری آف دی بائبل صفحہ 316 پر ہیں۔ اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ ملتے ایک رہنما تجارتی بندرگاہ تھا، لکین جب یہ بندرگاہ ( پولس کے زمانے سے پہلے) مٹی سے بھر گئی تو افسس نے اسے ہٹا دیا۔ جب بندرگاہ افسس میں بعد میں مٹی بھر گئی، تو سمرنہ، افسس کی جگہ بندرگاہ مشہور ہو گئی۔ افسس میں نمایاں اثر ارتمس دیوی کا مندر تھا، شکار کی دیوی۔ شہر میں بہت سے یہودی تاجر تھے۔ تیمتھیس بھی افسس میں ٹھہرا 1 تیمتھیس 1: 3۔
سوال: مکاشفہ 2: 4 میں، اس کا کیا مطلب ہے کہ ایمانداروں نے پہلی سی محبت چھوڑ دی؟
جواب: حتیٰ کہ اصلی محبت، اگر قائم نہ رہے اور پرورش نہ پائے تو دھیمی ہو سکتی ہے۔ مسیحیوں کا فرض ہے کہ میسح کے ساتھ لگے رہیں اور اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ بد قسمتی سے، وہ اپنی محبت ٹھنڈی کر سکتے ہیں اور صرف کبھی کبھی مسیح کے قریب آنا چاہتے ہیں۔
سوال: مکاشفہ 2 3 میں، کیا یہ پیغامات (a) موجودہ صورتحال (b) کوئی نبوتیں ہیں جو مختصر وقفے کے بعد پوری ہوئیں یا (c) کلیسیا کی تاریخ کی نبوتیں ہیں جو مختلف زمانوں میں تھیں؟
جواب: سارے متفق ہیں یہ بیان کرتی ہے کہ سات مقامی کلیسیائیں جو مکاشفہ کے وقت تھیں اور تھوڑی دیر اسکے بعد تھیں اس سے بڑھ یہاں دو بڑے خیال ہیں۔
کلیسیائی عرصہ کا نطریہ: یہ خیال کہتا ہے یہ سات کلیسیاؤں کے زمانوں کو بیان کرتا ہے اس نظریہ کی کو تاہی بتانے والی یہ ہےدلائل دینے والے زمانوں سے مُتفق نہیں ہیں سوائے اسکے کہ افس ایک ابتدائی کلیسیائی تھی اور موجودہ زمانہ لودیکیہ کے عرصے کا ہے میں نے ایک دفعہ ایک سنڈے سکول میں تعلیم دی کہ میں نے کہاں کارڈزپر سات عرصوں میں کلیسیائی تاریخ کو تقسیم کیا میں کوئی تاریخ نہ لکھی تین چار لوگوں پر ہر ایک گروپ کو مکاشفہ کے زمانے میں کلیسیائی کے کارڈز پر بیان کے ساتھ ملانے کی کوشش کرنا تھی گروپ ملانے پر مُتفق نہ ہوئے اور کسی گروپ کا ملانا تاریخی ترتیب کی پیروی نہ کر سکا۔
جے ڈوائٹ پینتی کاسٹ اس نظریہ کا ایک استاد تھا جو پولس کے خطوط اور مکاشفہ کی جماعت کو پڑھاتا تھا اس کے جماعتی نوٹس کے مطابق 33۔ 100م افُس تھا ۔
100۔ 316م سمرنہ کی کلیسیا کی ایذارسانی تھی۔
316۔ 615 پرگمن کاچرچ تھا۔
615۔ 1547م تھواترہ رومن کھتولک کی کلیسیا (آرتھوڈاکس مسیحیوں کے بارے کیا ہے)
1517۔ 1750م سردیس۔ اصلاحی کلیسیا
1750۔ 1850م فلدلفیہ ایماندار کلیسیا۔ 1850۔ لودیکیہ۔ آزاد خیال کلیسیا، اس نطریہ پر مزیدمعلومات کے لیے اگلا سوال دیکھیں۔
کلیسیا کی طرح کا نطریہ: آج مثال کے طور پر چین میں کلیسیا کو ایمان میں رہنا مُشکل ہے اسی طرح انڈونیشیا اور شمالی امریکہ میں بھی یہی مُشکلات بھروسہ اور کمی کی کمزوریاں ہیں مکاشفہ میں سات کلیسیائیں کلیسیاؤں کی سات اقسام بیان کرتی ہیں ہر قسم میں جس میں زیادہ یا کم کلیسیائی تاریخ میں موجود رہیں ۔
سوال: مکاشفہ 2: 6 ، نیکلیوں کون تھے؟
جواب: اُنھوں نے سکھایا کہ کسی مسیحی کے لیے بدفعل زندگی بسر کرنا مکمل طور پر درست ہے یوسبیس زاسکلسیاٹیکل ہسٹری ( 3: 29 صفحہ 161 ) نیکلیوں جو مکاشفہ میں ذکر ہوا نکولوس سے آئے تھے ایرنین کے اگینست ہیرسیز ( سبق 26 ) انکو بطور آوارہ بے دین ہی بیان کرتا ہے یا روحانی اور جسمانی دونوں کی کوشش کرنا آوارہ بے دینوں کی ایک خاصیت یہ ہے وہ اکثر اخلاقی واجب الوجود کو رد کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ تقریباً کوسیاہ وسقید نہیں۔
سوال: مکاشفہ 2: 7 اور 22 : 2 میں ، کیا یہ وہی درخت ہے جو باغ عدن میں تھا؟
جواب: خدا آخر کے لیے چیزیں بنا سکتا ہے پس یہ وہی درخت ہو سکتا ہے تاہم اسے مختلف درخت ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ، یا اس درخت سے جو پیدائش 2: 9 میں اُگایا گیا۔
سوال: مکاشفہ 2: 8۔ 11 میں ہم سمرنہ شہر کے بارے کیا جانتے ہیں؟
جواب: سُمرنہ ایک بہت پُرانی بندرگاہ تھی انسائیکلو پیڈیا برٹن ینکا کے مطابق پہلے باشندے، ممکن ہے غیریونانی لیلیجین ہوں جو دسویں صدی ق م میں ٹورجنزکے ساتھی ہوں ( الائیڈ x، 429، xx۔ 96) دی انکر بائبل ڈکشنری والیم 6 صفحہ 73-75 کہتی ہے کہ ہیروڈوکس، آئیونین یونانیوں نے ڈکشنری والیم 6 صفحہ 73۔ 75 کہتی ہے کہ ہیروڈوکس آئیونین یونانیوں نے شہر کو آئیولئین یونانیوں سے چھین لیا، جو شہر سے باہر 688 ق م سے پہلے ڈیونیس کے لیے ایک تہوار منا رہے تھے طاقتور بادشاہ گیا گس ( 687۔ 652 ق م ) نے لدّیہ کی مخالفت کی اور سُمرنہ کو 627 ق م میں تباہ کر دیا لدُی جوالائیتی 111 کے ماتحت تھے ( 609۔ 560 ق م ) سمرنہ گاؤؤں کا صرف ایک چھوٹا گروپ تھا جب تک 288 ق م کے قریب مکدونیہ کے جنرل لائسی میکس نے اسے دوبارہ تعمیرنہ کر دیا سمرنہ سیلیوسائیڈ کے خلاف روم کا اتحادی تھا اور 195 ق م میں دیوی رومہ کا ایک مندر تعمیر کیا پارتھیوں نے 41۔ 39 ق م سے سمرنہ پر قبضہ کر لیا رومی حکومت کی وہاں پرستش مضبوط تھی کیونکہ 26 م میں انہوں نے شہنشاہ تبریاس سے رومی شہنشاہ کا ایک مندر تعمیر کرنے کی اجازت مانگی سمرنہ میں بہت زیادہ تعداد میں یہودی آبادی بھی تھی۔ سب سے اونچا مقام 525 فٹ کوہ پیگوس/ پیگروس، عمارات کا ایک کرّہ رکھتا تھا جو ایک خاص فاصلے سے ایک تاج کی طرح نظر آتا ہے پہاڑ کے اردگرد خمدار مشرق اور مغرب میں ایک سڑک تھی جو " سونے کی گلی" کہلاتی تھی۔ یہاں سڑک کے آخر پر شاید ایک مندر تھا دی وکلف بائبل ڈکشزی صفحہ 1601۔ 1602 اور دی وکلف ڈکشزی آف ببلیکل آرکیالوجی صفحہ 542۔ 543 بھی اضافہ کرتے اس وقت کی آبادی تقریباً 200000 تھی دی انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا ( 1949) کہتی ہے کہ 1940 میں جدید شہر ازمیر، اُسی جگہ، اسکی 184000 آبادی تھی طبعی طور پر سمرنہ ایک ایسے نقطے پر ہے جہاں ہرمُس دریا بہتا ہے جو خلیج میں گرتا ہے یہ ایک بہت محفظوظ بندر گاہ رکھتا ہے اور دی نیو انٹرنیشنل ڈکشزی آف دی بائبل صفحہ 950 کہتا ہے کہ یہ ہرمس کی وادی میں سے تجارت کا آخری مقام تھا مسیحی زمانے میں اگناسیس ( 98۔ 116 م ) یوحنا کے ایک شاگرد نے اہل سمُرنہ کو ایک خط لکھا۔ پولی کارپ سمُرنہ کا ایک بشب تھا جو 155 م میں شہید ہو گیا پونیس 250 م میں ایک شہید تھا،
سوال : مکاشفہ 2: 9 میں یہودی کیسے شیطان کا ایک عبادت خانہ بنا سکتے تھے ؟
جواب: بائبل یہ نہیں کہتی کہ وہ صاف صاف اُسے شیطان کا عبادت خانہ کہتے صرف یہ کہ وہ بطور شیطان کا عبادت کی خدمت کرتے تھے اگر کوئی عبادت خانہ یا کوئی مذہبی جماعت انجیل کی مخالفت کرتی ہے تو شیطان اسےاستعمال کرتا ہے ۔
سوال: مکاشفہ 2: 12۔ 17 میں ہم پرگمن کے شہر کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: پرگمن پرامن طریقے سے رومی حکومت میں 133 ق م میں شامل ہو گیا پرگمن میں دو اہم ترین اثرات میں سے ایک شہنشاہ کی مضبوط پرستش تھی دوسرا بڑا اثر جادو اور علم نجوم تھا جو بابل سے آیا تھا۔
سوال: مکاشفہ 2: 13 میں ،" پرگمن میں شطان ایک تخت کیسے رکھتا تھا؟
جواب: اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں شطان رہتا ہے بلکہ قدرے یہ شیطانی سرگرمیوں کا ایک مرکز تھا ( اس تخت پر) رومی شہنشاہ کی پرستش پر توجہ دینا تھا پر گمن میں آسمانی اوگستس اور دیوی روما ایک مندر تھا اس میں سانپ دیوتا اسلکپیئس کا بھی ایک مندر تھا جس سے جدید ادویات پر اسکی علامات لگائی جاتی ہیں اس میں " نجات دہندہ زیوس" کا ایک مندر تھا ۔
سوال: مکاشفہ 2: 14۔ 16، 2: 21۔ 23 میں کیا اصلی ایماندار بلعام کی تعلیم کی پیروی کر سکتے ہیں اور جنسی بد اخلاقی کے مرتکب ہو سکتے ہیں ؟
جواب: بد قسمتی سے ہاں داؤد نے پُرانے عہد نامے میں ایسا کیا اور خدا نے اسے اس گناہ کی وجہ سے تلقین فرمائی ۔
سوال: مکاشفہ 2: 17 میں ، سفید پتھر کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: اُن زمانوں میں ، جب کوئی عوامی واقعہ ہوتا، جیسے کوئی مقابلہ یا کوئی تھیٹر کا کام تو سفید پتھر بطور ایک ٹکٹ حاضری کے لیے دیا جاتا تھا۔
سوال مکاشفہ 2: 18 میں آپ "تھواتیرہ" کو کیسے بیان کرتے ہیں؟
جواب: کُروڈن کی کنکوڈنس کے مطابق، شہر کو تھی آ۔ تی ۔ را، بیان کیا جاتا تھا بمعہ دو طویل ای، س دو طویل آ، س اور پہلے تیسرے لفظ کے تلفظ پر دی وکلف بائبل ڈکشزی میں بھی یہی تلفظ، لیکن دونوں آ، س کے اوپر نقاط ہیں۔
سوال: مکاشفہ 2: 18 29 میں ، ہم تھوایترہ کے شہر کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: طبعی طور پر تھوایترہ، سمرنہ سے 52 میل شمال مشرق میں ہے جس کے ساتھ ایک بڑی سڑک دریائے کا ئیکس اور ہرمس کو ملاتی ہے نئی جگہ آکھسر ہے۔ تھوایترہ، پُرامن طور پر 133 ق م میں رومی حکومت میں شامل ہوگیا اعمال 16: 14۔ 15 39 میں ایک لُدیہ نامی قرمزی کپڑوں کی تاجر جن سے پولُس فلپی میں ملا، وہ تھوایترہ سے تھی رنگسازی ، کپڑے پیتل اور برتن سازی ، اس سرحدی قلعے پر بنتے تھے دی انکز بائبل ڈکشزی والیم 6 صفحہ 546 کہتا ہے کہ یہ اُونی تجارت کا خاص طور پر اہم مرکز تھا ایشیائی قصبے کی نسبت یہاں زیادہ تجارتی انجمنوں کا ثبوت ہے دی نیو انٹرنیشنل ڈکشزی آف دی بائبل صفحہ 1013۔ 1014 کہتی ہے کہ تجارتی انجمن میں رکنیت کی اہمیت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے مسیحیوں کے لیے اس سے سمجھوتہ کرنا ایک آزمائش رہی ہو۔
سوال: مکاشفہ2: 20 میں کیا بداخلاق عورت کا نام حقیقت میں ایزبل تھا؟
جواب: یہ اُسکا اصلی نام ہوسکتا ہے کوئی عرف نام ، یا اس عورت کی بدکاری کا موازنہ اس عورت ایزبل سے ہو جس کا ذکر 1 سلاطین 21 میں ہے۔
سوال: مکاشفہ 2: 27 میں کیا حوالہ زبور 2: 9 سے ہے جو مسیح یا مسیحیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
جواب: یہ ابتدائی طور پر مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ایک دوسری طرح ، مسیح اسکی اجازت دیتا ہے کہ مسیح پر لاگو ہو مسیح آسمان پر حکومت کرتا ہے لیکن افسیوں 2: 6 ، مکاشفہ 3: 21 کہتے ہیں ہم مسیح کے ساتھ اس کے تخت پر اس کے ساتھ بیٹھیں گے۔
سوال:مکاشفہ 3: 1۔ 6 میں ہم سردیس کے شہر کے متعلق کیا جانتے ہیں
میل
دریائے ہرمس
جواب:
طبعی طور پر،
سردیس ہرمیس کی
وادی میں ہے
کے جنوب میں
اور کوہ تمولس
کے دامن 1000 فٹ کی
بلندی پر ہے یہ
تقریباً
سمرنہ کے مشرق
میں 50 میل ہے۔
رومی حکومت کے بہت پہلے سردیس لُدی حکومت کا شاید دارا الخلافہ رہا ہو دی انسائیکلوپیڈیا برٹنیکا کہتا ہے تاریکی حکومتوں نے ساتویں صدی ق م میں سردیس پر قبضہ کرلیا اور فارسیوں اور اتھینیوں نے اسے چھٹی صدی ق م میں اسیر بنایا سردیس کے لدُیوں نے 560 ق م میں اُفسس کو اسیر بنایا سردیس درالحکومت کے لیے ایک اچھی جگہ تھی کیونکہ کوہ تمولس کی اُونچی چٹانیں اسے اسیر بنانے کے لیے بہت مشکل پیدا کرتی تھیں تقریباً یوحنا کے زمانے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ کیسے فارسیوں نے سردیس کو اسیر بنایا کچھ ذرائع کہتے ہیں یہ 549 ق م میں واقع ہوا دوسرے کہتے ہیں 546 ق م کئی کہتے ہیں 39 ق م میں ایک لدیّ سپاہی جسکا خود (HeImeT) اچانک گر گیا اور فارسی محافظوں کے ساتھ احیتاط سے چٹانوں میں سے نیچے اترا تاکہ اسے ( ہیلمٹ) دوبارہ تلاش کرے رات کو فارسیوں نے شہرپر قبضہ کرنے کے لیے وہی راستہ استمال کیا انطاکیہ اعظم نے بھی دوبارہ رات کو اسی راستے سے 214 ق م سردیس پر قبضہ کیا جیسے مکاشفہ 3: 2، 3 کہتی ہے کہ ہمیں جاگتے رہنا چاہیے
سردیس 17 م میں ایک زلزلے سے تباہ ہوگیا لیکن یہ دوبارہ تعمیر ہوگیا دی وکلف بائبل ڈکشزی صفحہ 1525 کہتا ہے وہاں ایک بہت بڑا لیکن نامکمل ارتمس کا مندر تھا اسکی چوڑائی 160 اور لمبائی 300 فٹ تھی اور 58 فٹ اُونچے 78 ستون تھے۔
عبدیاہ میں حوالہ شاید سردیس کی طرف اشارہ کرتا ہو جس کو یہودی آباد کاروں نے تاریخ میں بعد سردیس کو شامل کیا ہو تیسری صدی سےیہاں بہت سے یہودی عبادت خانے تھے جو دریافت ہوئے دی انکربائبل ڈکشزی والیم 5 صفحہ 982۔ ۔ 984 کہتی ہے یہ ایک خوبصورت عمارت تھی 85x20 میٹر، جس میں 1000 لوگ سما سکتے تھے یہ مزید اضافہ کرتا ہے کہ یہ نظریہ کے رُخ کو موڑ دیتی ہے کہ یہودی رومی شہروں میں رہنے لگے " دوسرے عبادت خانے بہت چھوٹے تھے لیکن یہ اکمونیہ اپومیہ افردسیاس، ہیرا پولس، لودیکیہ ، میلتس اور پرنیس تھے مسیحیوں کے زمانے میں میلتو ( 161م میں ترقی کی ) سردیس کا ایک مشہور بشب تھا فارسی خورس 11 نے 646 م سردیس کو تباہ کر دیا مسیحیت، سردیس میں بچی اگرچہ وہاں گریگری تک ( 1315۔ 1343) بشپ رہے۔
سوال: مکاشفہ 3: 3 میں ، " چور کی طرح آنا ' کیا یہاں مسیح کی آمد ثانی کی طرف اشارہ ہے؟
جواب: دی این آئی وی سئڈی بائبل صفحہ 1929 کےمطابق نہیں یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ مسیح کی آمد کلیسیا کے توبہ سے انکار پر مشروط نہیں ایک دوسرا مختلف خیال یہ ہے کہ اگر وہ توبہ سے انکارکریں ، تو جب ،مسیح غیر متوقح طور پر دوبارہ آئے تو تیار نہیں ہونگے جیسے گھر کا مالک تیار نہیں ہوتا جب چور اُن کے گھر کو نقب لگاتا ہے ۔
سوال: مکاشفہ 3: 5 ، مکاشفہ 13: 8 مکاشفہ 17: 8 مکاشفہ 2: 12 ، 15 اور مکاشفہ 21 :27 میں ،" کتاب حیات حقیقت میں ہے۔۔۔۔ صرف ایک تبدیل شدُہ بیان ہے جو زندہ لوگوں کی فہرست ظاہر کررہی ہے ۔۔۔اور اس کتاب سے نکالے گا مرنے کےلیے،" اور صرف اسیری کے زمانے کے بعد یہ وہ ہیں جو آسمان پر ہونگے جیسے آسمووزگائیڈ ٹوُدی بائبل صفحہ 1200۔1201 بیان کرتی ہے؟
جواب: نہیں یہ ایک عظیم عدد ہے ( تقربیاً) بے دلیل دعویٰ کرتا ہے کہ آسموو بنانے کا شوقین ہے کتاب حیات پر بائبل کی دوسری آیات جیسے دانی ایل 12: 1 اور لوقا 10: 20 ( آسمان پر لکھے گئے نام) ، تمام کتاب حیات کے ساتھ ملتے جُلتے ہیں وہ جو آسمان پر رہتےہیں آسموو مُتفق ہوگا چونکہ یہ تمام آیات اسیری کے بعد کی ہیں وہ اپنا سارا مقدمہ صرف اسیری سے پہلے کی آیات پر بناتا ہےجو کتاب حیات کا ذکرکرتی ہیں خروج 32: 32، زبور69:28۔ تاہم زبور 139 ذکر کرتا ہے کہ داؤد سے پہلے کہ کوئی ایام خدا کی کتاب میں لکھے گئے ہیں ( ضروری نہیں کتاب حیات ہی ہو) اس سے پہلے کہ کوئی بھی وجود میں آیا تھا پس کم ازکم کے لیے نہ صرف اُن کا ریکارڈ نہیں جو موجود وقت رہ رہے ہیں۔
آسموو کا دعویٰ تقربیاً غیر دلیلی ہے اگرچہ اس کی دلیل دینے کی کوشش کی ہے اس طریقہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے جو اس کی رائے کی بنیاد پر کہ یادگاری صرف اسیری کے زمانے کے بعد سکھایا گیا۔ تاہم تمام دلیل کی بنیاد پر مفروضہ حقائق کی بنیاد پر نہیں یہاں یہ اس کا مفروضہ جو یادگاری اسیری کے بعد سکھایا گیا غلط تھا۔
آسموو کی دلیل پر تجسس ہے ، جیسے یادگاری کا تصور تقربیاً تمام قدیم وسطی زمانے کے ثقافتیں رکھی تھیں شاید وہ بھول گیا کہ مصریوں نے غلاموں سے بنوائیں تاکہ فرعون کے لیے یاد گار ہو۔اسی طراح حتیوں نے مرحوم بادشاہ کے لیے ایک چٹان میں یازلکاہ کی ایک ہیکل بنوائی۔ سکائتھیوں نے بھی مقبرے بنائے ۔ سمریوں کے علاوہ ( ابرہام کے لوگ)، بابلی، اسوری، مصری، حتی، یونانی، سکائتھیوں اور دوسرے آسموو عبرانی انوکھے کام یقین نہیں کرتے کہ یہ ایک یاد گار ہے۔
یہاں یاد گاری یقین کے بہت سے بائبلی ثبوتوں کی ایک نامکمل فہرست ہے، جو صرف قبل از اسیری استعمال ہوتی تھیں۔
خروج 3: 15 یسوع نے صدوقیوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہ آیت استعمال کی، جو زندگی کے بعد کی باتوں سے انکار کرتے تھے۔ یسوع کا نقطہ بطور جائز تھا جیسے اب ہے، یہ ابرہام، اضحاق اور یعقوب موسیٰ کے زمانے تک موجود تھے، چونکہ خدا نے کہا کہ وہ ابرہام ، اضحاق اور یعقوب کا خدا ہے۔ صدوقی ظاہراً کوئی جواب نہ دے سکے۔
1سیموئیل 2: 6، ( این آئی وی)" لیکن خدا میری جان کو پاتال کے اختیار سے چھڑائے گا کیونکہ وہی مجھے قبول کریگا"۔
زبور 22: 27، (این آئی وی )"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب جو خاک میں مل جاتے ہیں اسکے حضور جھکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
زبور 23: 6، زبور 23: 4 میں داؤد موت کے سائے کو بتانے کے بعد کہتا ہے، "وہ ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کریگا" ۔
زبور 49: 8-9، ( این آئی وی) " کیونکہ انکی جان کا فدیہ گراں بہا ہے وہ ابد تک ادا نہ ہو گا۔ تاکہ وہ اند تک جیتا رہے اور قبر کو نہ دیکھے " ۔
زبور 52: 8-9، (این آئی وی)"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا توکل ابداُلاباد خدا کی شفقت پر ہے۔ میں ہمیشہ تیری شکرگزاری کرتارہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تیرے مقدسوں کی موجودگی میں تیری تمجید کرونگا" ۔
یسعیاہ 25: 7-8، (این آئی وی) " اور وہ اس پہاڑ پر اس پردہ کو جو تمام لوگوں پر پڑا ہے اور اس نقاب کو جو سب قوموں پر لٹک رہا ہے دور کردے گا، وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
یسعیاہ 53: 8-10، کسی کو جو ہمارے لئے تکلیف اٹھاتا ہے بیان کرنے کے بعد مارے گا۔ اور کسی دولت مند آدمی کی قبر میں رکھے گا آیات 8-9 میں، پھر بھی وہ اپنی نسل کو دیکھے گا آیت 10۔
ہارڈ سئینگ آف دی بائبل صفحہ 104 کہتا ہے فی الحقیقت وہی چیز ہے۔ اس کے باوجود، یہ دیکھنا حیران کن ہے کہ تعلیم یافتہ کتنے مَرد و خواتین تھے جو حتیٰ کہ ان دو متون سے انکار کریں گے [یسعیاہ 26: 19 اور دانی ایل 12: 2] اور بحچ کریں گے کہ پرانا عہد نامہ فی الحقیقت قیامت یا زندگی کے بعد موت کے متعلق کچھ نہیں سکھاتا۔
معاملے کی سچائی یہ ہے کہ قدیم لوگ جدید مشکوک افراد کی نسبت زیادہ اس مضمون سے ہم آہنگ تھے۔ مشرق قریب کے قدیم لوگوں نے لکھا کہ جب کوئی اس زمین سے انتقال کرتا ہے تو اگلی زندگی کیسی ہو گی۔ کسی کو صرف ایسے نمائندہ حصوں سے صلاح لینے کی ضرورت ہے جیسے گلگمیش ایپک، نیدرورلڈ وچ ڈیسنٹ آف اشتار، دی بک آف دی ڈیڈ اور دی پیرامڈ متون۔ درحقیقت مصر کی تمام اکانومی موت کے مسلک میں لے جاتی ہے، ان تمام کے لے جو اگلی زنگی کا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کو فرعون کے پیرامڈ کے ارد گرد دفن کیا جائے گا۔ ابرہام کے مصر تک پہنچنے تک، ایسے تصورات ان کی دیواروں پر تصویری تحریر دیوار پر نشانات اور مٹی سے بنے نمونے دکھائی دیتے تھے۔ اس کو یقینی بنانے کے لیے کسی نے نقطہ ضائع نہیں کیا۔ مدت کے بعد زندگی کا کوئی جدید عقیدہ نہیں تھا جس نے کسی معاقشرے کو ترقی دی ہو، جو خود سے زیادہ غیر مرئی طور سے سوچنا شروع کیا اور اپنے زمانوں سے۔ بجائے اس کے یہ ایک قدیم بھوک تھی جو بزرگان اسرائیل سے بہت پہلے انسانیت کے دلوں میں موجود تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اس نظریے کو دوسری اور تیسری صدیوں ق م سے کیوں منسوب کرنا چاہیے، اگر پہلے ہی دوسرے اور تیسرے ہزاری ق م ( میلنیم) اس کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط ثبوت ہے؟
ابتدائی ترین ممکنیت کے بائبلی ذکر جو ایک فانی انسان کی رہائش اور خدا کی غیر فانی حکومت پیدائش 5: 24 میں تلاش کیے جا سکتے ہیں [ " خدا نے حنوک کو اٹھا لیا" ] ۔
سوال: مکاشفہ 3: 5 میں، کیا کسی مسیحی کا نام کتاب حیات سے کاٹا جس سکتا ہے؟
جواب: یہ آیت نیچے تین میں دو باتیں کہہ رہی ہے، لیکن سچے مسیحی متفق نہیں۔ وہ یہ ہیں۔
1: تمام اس بات سے متفق ہیں کہ آسمان پر ایماندار اپنی نجات کبھی نہیں کھوئیں گے یا گریں گے نہیں۔
2الف: مسیحی جو ایمان رکھتے ہیں کہ تم اپنی نجات نہیں کھو سکتے وہ اسکی اس طرح تفسیر کرسکتے ہیں ایک عام وعدہ ہے، آسمان اور زمین پر تمام ایمانداروں کے لیے غیر مشروط طور پر دستیاب ہے۔
2ب: وہ مسیحی جن کا ایمان ہے کہ تم اپنی نجات کھو سکتے ہو اسکی یوں تفسیر کرسکتے ہیں، ایک خاص وعدہ ہے اور کئی ایماندار زمین پر جو غالب آتے ہیں انکے ساتھ وعدہ ہےکہ وہ اپنی نجات کبھی نہ کھوئیں گے۔ افسیوں 1: 14 پر بحث دیکھیے اور عبرانیوں 6: 4-10 پر مزید معلومات دیکھیں۔
سوال: مکاشفہ 3: 7-13 میں، ہم فلدیفیہ شہر کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: بادشاہ اومنز 11 پرگمن کا تھا اس نے اسے دوسری صدی ق م میں تلاش کیا، اس کا نام رکھا ( برادرانہ محبت کا شہر) اپنے شاہی بھائی اتالُس کے اعزاز میں۔ یہ شہر اور سردیس 17 م میں ایک زلزلہ کی وجہ سے تباہ ہو گئے اور رومی حکومت کے روپے پیسے سے اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اس شہر کا نام قیصر کے اعزاز میں عارضی طور پر نیو قیصریہ رکھا گیا۔
سوال: مکاشفہ 3: 8 میں، یسوع کیسے لوگوں کے سامنے ایک دروازہ کھولتا ہے؟
جواب: کم از کم تین طریقوں سے۔
نجات: یسوع ہمارے لیے آسمان پر دروازہ کھولتا ہے۔ وہ دروازہ اور دربان دونوں ہے ( یوحنا 10: 9؛ 10: 3) ( ایک الگ حاشیے کے طور پر، اگر آسمان واقعی ایک دربان رکھتا ہے، تو یہ مسیح ہو گا نہ کہ پطرس) شادی کی تقریب میں دروازہ بند ہو گیا ،متی 25: 10۔
خدمت: ایک کھلا دروازہ کسی خدمت کے لیے ایک تشبیہ ہے، جیسے اعمال 14: 27 اور 1 کرنتھیوں 16: 9 سے ظاہر ہے۔
گزرگاہ: جب یوحنا ایک رویا میں آسمان پر منتقل ہوا تو یہ ایک کھلے دروزہ میں گزرا مکاشفہ 4: 1 ۔
اُمید اور بحالی: حتیٰ کہ ایک بُری جگہ جیسےوادیِ عکور ایک دروازہ ہو سکتی ہے ہوسیع 2: 15 میں۔
سوال: مکاشفہ 3: 12 میں، چونکہ مسیحی زندہ لوگ ہیں، مسیحی، خدا کی ہیکل میں ستون کیسے ہو سکتے ہیں؟
جواب: قادر مطلق خدا، اگر چاہے تو وہ زندہ لوگوں پر مشتمل ہیکل بنا سکتا ہے ۔ 1 پطرس 2: 5-6 اور 1 کرنتھیوں 3: 16-17 کے مطابق خدا کریگا۔
کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہاں یہ بیان ہے " کلیسیا کا ستون" کہاں سے آتا ہے۔
سوال: مکاشفہ 3: 14-22 میں، ہم لودیکیہ شہر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
جواب: سٹرونگز ایگزاسٹو کنکورڈنس کے مطابق " لودیکیہ" دو یونانی الفاظ کا موازنہ ہے ۔ 2992# لائیوس لوگ اور 1349# ڈِکے حق، انصاف۔ گیبلینز کنسائز کمنٹری ( آرنو۔ سی گیبلین کی لکھی ہوئی، 1861-1945) صفحہ 1208، اس نے لودیکیہ کا معنی بتایا " انصاف یا لوگوں کے حقوق" ۔ دی کنگ جیمز ورژن پیرلل بائبل کمنٹری ( تھامس نیلسن پبلشرز 1994) صفحہ 2666، لودیکیہکے حوالے سے بھی فہرست دی گئی " لوگوں کے حقوق"
انطیاکس 11 نے 250 ق م میں لودیکیہ کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اس نے اپنی بیوی کے نام پر اس کا نام لوڈکے رکھا۔ یہ 60 ، میں ایک زلزلے سے تباہ ہو گیا، اس سے پہلے کہ مکاشفہ کی کتاب لکھی جاتی ۔
لودیکیہ کے لوگ اتنے دولت مند تھے کہ انہوں نے بغیر کسی سرکاری بیرونی امداد کے دوبارہ تعمیر کر لیا۔ لودیکیہ میں زمین زرخیز تھی، وہ چمکدار کالے رنگ کے اونی کپڑے اور آنکھوں کی مرہم پیدا کرتے تھے۔ بد قسمتی سے، اس میں پانی کی ترسیل کا نظام کمزور تھا۔ اس کے برعکس ہیراپُلس کے قریب، جس میں گرم پانی تھا، اور کلسے جس میں ٹھنڈا پانی تھا، لودیکیہ نیم گرم تھا، گرم چشمقوں سے نالی نکالی گئی۔ ان میں سے زیادہ کا لودیکیہ کی کلیسیا کے پیغام میں اشارہ کیا گیا ہے مکاشفہ 3: 14-22 ۔
سوال: مکاشفہ 3: 14 میں، چونکہ مسیح " خدا کی تخلیق کا شروع" ہے، کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کوئی مخلوق ہے، جیسے یہواہ کے گواہ تعلیم دیتے ہیں؟
جواب: نہیں، یہاں یونانی لفظ، آرخے، ایسا لفظ ہے جس سے انگریزی زبان کا سابقہ " آرچ" حاصل ہوتا ہے۔ آرخے کا مطلب ہے، سر یا حکمران، اس کے ساتھ ساتھ ابتدا۔ یہواہ وٹسز آنسرڈ ورس بائی ورس صفحہ 103-104 اور جب بدعتی پوچھیں صفحہ 305 ذکر کرتے ہیں کہ لفظ آرکیٹیکٹ ( معمار) ، آرخے' سے ماخوذ ہے؛ اس طرح یسوع تمام مخلوق کا معمار ہے۔
یہاں ولیم کا ترجمہ بہت زیادہ واضح ہے۔ یہ کہتا ہے " خدا کی خلقت کا آغاز" اس کے ساتھ ایک حاشیہ کہہ رہا ہے " یونانی، ابتدا، لیکن ایک فلسفی فہم میں، اس طرح آغاز" ۔
جبکہ تمام خلقت کی اپنی ابتدا ہے اور خلقت مسیح کے وسیلے سے ہے، یہاں پہلا خیلا یہ ہے کہ مسیح تخلیق سے پہلے وجود رکھتا تھا اور مخلوق پر حکومت کرتا ہے، جیسے دی بائبل نولج کمنٹری: نیا ٹیسٹامنٹ صفحہ 941 کپہتا ہے۔
سوال: مکاشفہ 3: 19 میں، خدا ان کو جن کو عزیز رکھتا ہے کیوں تنبیہ اور مالامت کرتا ہے؟
جواب: خدا اپنے بچوں کو تنبیہ کرتا ہے بلکہ اسی طرح جیسے اچھے والدین ایک بچے کی تربیت کرتے ہیں اور اسکی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچے سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ بچہ تربیت کی کمی میں نشوونما نہ پائے۔ کیونکہ اچھے والدین بچے کے خیر خواہ ہوتے ہیں تاکہ وہ اچھے کردار کا مالک ہو اور ترقی ان کی عارضی / وقتی تسکین کی نسبت زیادہ اہم ہے۔
سوال: مکاشفہ4 میں، کون تخت پر بیٹھا ہے، باپ یا بیٹا؟
جواب: یہ باپ کی طرح زیادہ ہے، چونکہ بیٹے نے مکاشفہ 5: 7 میں اسکے ہاتھ سے ایک طومار لیا تھا۔ یہ برہ نہیں ہے، جسکی بنیاد 5: 13 پر ہے۔ تاہم، اس کا باپ ہونا، ظاہر نہیں کرتا کہ خدا ایک آدمی ہے یا آدمی سے آیا، گنتی 23: 19 اور 1 سیموئیل 15: 29 کے بر خلاف ہے۔ قدرے' خدا بطور جلتی جھاڑی ظاہر ہو سکتا ہے یا کسی بھی شکل میں جو وہ چاہتا ہے ، اور یہ ہے کیسے اس ( خدا) نے یوحنا کو اس رویا میں اپنا آپ نمودار کیا۔
سوال: مکاشفہ 4: 4 اور مکاشفہ 11: 16 میں 24 بزرگ کون ہیں، کون اپنے تختوں پر بیٹھے ہیں؟
جواب: خدا نے ہمیں انکی پہچان نہیں بتائی، پھر بھی یہاں تین بنیادی خیال ہیں۔
انفرادی لوگ: بارہ رسول اور بارہ اسرائیل کے قبیلوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یسوع نے شاگردوں سے وعدہ کیا کہ وہ بارہ تختوں پر بیٹھیں گے متی 19: 28۔
گروہ: اسرائیل کے بارہ قبیلے اور مسیحی۔ 1001 بائبل سوالات کے جوابات ( صفحہ 272) ایمان رکھتا ہے کہ وہ تخت نشین کلیسیا ہے۔ اس کا نقشہ پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ لاویوں کی کہانت کے 24 دائرے تھے جو 1 تواریخ 24 میں ہے۔ تاہم، یہاں کہنے کے لیے کوئی نمونہ نہیں کہ مسیحی بارہ گروپوں میں ہیں، اور یہ حیران کن ہو گا کہ اسے بطور ایک علامت دیا جائے، جبکہ تمام قارئین کے لیے علامت بے معنی ہے۔
فرشتے: فرشتوں کی ایک خاص ترتیب۔
سوال: مکاشفہ 4: 6-9؛ 5: 14؛ 15: 5 میں، چار جاندار کیا ہیں؟
جواب: حقیقی مسیحی ان پراسرار کروبی گروہ کے فرشتوں کی پہچان پر متفق ہیں۔ کروبیوں کا ذکر حزقی ایل 10: 1-16؛ 1: 15-21؛ 3: 12-14، 23 میں بھی ذکر ہے۔
یسعیاہ 6 میں سرافیم کے ساتھ مشابہت: کیونکہ بیانات قابل غور ہیں وغیرہ۔
یسعیاہ 6 میں سرافیم سے مختلف: کیونکہ پرانا عہد نامہ دو مختلف الفاظ یسعیاہ اور حزقی ایل میں استعمال کرتا ہے۔
سوال: مکاشفہ 5: 5 میں، کیا مسیح یسوع ایک شیر کی طرح پھر آئیگا، یا بطور برہ، جیسے مکاشفہ 5: 8 میں ذکر ہے؟
جواب: مسیح کے دو پہلو ہیں کہ وہ برہ کی طرح ایک قربانی کے طور پر پیش کیا گیا، اور وہ دوسری دفعہ شیر کی تندہی کے طرح آئیگا۔ اسکی دوبارہ آمد شیر کی طرح تبدیل نہیں ہوتی جو اس نے ماضی میں کیا تھا، ایک برہ کی طرح قربان ہوا ( یوحنا 1: 29)
سوال: مکاشفہ 5: 8-13 میں، کیا یہ مسیح کی پرستش ہے؟
جواب: ہاں یہ مسیح کی پرستش کو ظاہر کرنے کے لیے ایک شاندار آیت ہے ۔ مہربانی سے مندرجہ ذیل پر توجہ دیں۔
1: وہ برے کے سامنے گر گئے۔ ( 5: 8)
2: وہ مقدسوں کی دعاؤں کے ساتھ یہ کام کر ہے تھے۔ (5: 8)
3: انہوں نے پرستش کے قابل برے کی تمجید کی۔ ( 5: 9)
4: پھر فرشتوں نے قابل پرستش برے کی تمجید کی۔ (5: 12)
5: فرشتوں نے گیت گایا کہ برہ ہی کئی چیزوں کے لائق ہے جس میں عزت اور جلال اور تمجید شامل ہے ۔( 5: 12)
6: پھر ہر جاندار نے کہا کہ باپ اور برّہ دونوں کی تمجید اور عزت اور جلال اور قدرت ہو" ۔ ( 5: 13 این آئی وی)
7: چاروں جاندارنے کہا " آمین" سب کے لیے۔
8: آخر کار جب 5: 14 میں بزرگوں نے گر کر سجدہ کیا اور تمجید کی، تو وہ نمایاں طور پر پرستش کر رہے تھے 5: 8-12 میں وہ تمجید کر رہے تھے۔
یہ مورمن رسول بروس میکونکی سے فرق ہے ، جس نے کہا کہ یسوع کی پرستش کر غلط ہے۔ ( میکونکی نے کہا یہ خداوند کے ساتھ ہمارا تعلق ہے، برنگم ینگ یونیورسٹی میں ایک خطاب) یہ یہواہ کے گواہ میں بھی بالکل فرق ہے، جو یقین رکھتے ہیں کہ تم "یسوع کی عزت کر سکتے ہو، جیسے کئی لوگ اپنے ملک کے جھنڈے کے لیے جان نثار کرنے کا عہد کرتے ہیں" ، لیکن اسکی پرست؛ ش نہیں۔
سوال: مکاشفہ 5: 8؛ 14: 1-2؛ 15: 2 میں، خدا کی پرستش کرنے کے لیے موسیقی کے ساز استعمال کرنے کے بارے یہ کیا کہتی ہیں؟
جواب: چونکہ پرانے عہد نامے میں خدا کی پرستش کے لیے وہ مشینی موسیقی کے ساز استعمال کرتے تھے جیسے آسمان پر، خدا کی سازوں کے ساتھ پرستش ہوتی ہے یہ قابل قبول اور خوش کرنے کے لیے ہے ۔ چرچ آف کرائسٹ کے ایک کتابچے انسٹرومینٹل میوزک ان ورشپ صفحہ 25-26 کے مطابق تسلیم کرتا ہے کہ موسیقی گھروں میں ٹھیک ہے، اور حتیٰ کہ بربطوں کے حوالہ جات لغوی معنی میں لیا گیا ہے، کہ خدا آسمان پر جس چیز کو مقرر کرتا ، جسکی کلیسیا کے لیے وی اجازت دیتا ہے وہ کوئی اور چیز ہے" ۔
آؤ یہاں اس منتق کے ٹھوس پن کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ خدا نے موسیقی کے سازوں سے پرانے عہد نامے کے اوقات میں لطف اٹھایا۔ وہ اب اسے زمین پر پرستش کے لیے پسند نہیں کرتا۔ جبکہ اب خدا ہو سکتا ہے آسمان پر موسیقی کے ساز پسند کرتا ہے، وہ اب زمین پر پرستش پسند نہیں کرتا۔ جبکہ اب زمین پر موسیقی کے ساز رکھنا ٹھیک ہے( اگر یہ خوشگوار ہو) یہ پرستش کے لیے ٹھیک نہیں۔
میں کسی چرچ آف کرائسٹ والدین کے متعلق صرف تصور کر سکتا ہوں کہ وہ اپنے نوجوانوں کو بتاتے ہیں، " تم اگر چاہو، تو ان مسیحی سی ڈی کو چلا سکتے ہو لیکن جب تم سن رہے ہو تو بہتر ہے مگر خدا کی پرستش کے طور پر تمہارے دل میں نہ جائے"۔
سوال: مکاشفہ 6 میں، کیا چار سوار بھی آ چکے ہیں؟
جواب: شاید نہیں، وہ چیزیں جو وہ پیش کرتے ہیں ( فتح، جنگ، قحط اور موت/ وبا) یوحنا سے پیدا ہونے سے پہلے تک رہے ہیں، تاہم، مکاشفہ 6: 1-8 میں گھڑ سواروں کی نبوت، شاید ابھی پوری نہ ہوئی ہو، کیونکہ یہ چیزیں، ایسی عظیم قدر میں صحیح ترتیب میں نہ آئی ہوں، جب تک آپ 1415 فتح کے لیے، 1914 جنگ کے لیے، 1917 قحط کے لیے اور 1918 مری / وبا کے لیے شمار نہ کریں۔
اگر آپ اپنی معلومات کا تجزیہ کرنا چاہیں، تو WWW.BibleQuery.org/horsemen.htm آپکو یوحنا تک کے میرے اندازے بتاتا ہے ۔
سوال: مکاشفہ 6: 1 میں، کیا سفید گھوڑے پر سوار مسیح یسوع ہے؟
جواب: نہیں، جبکہ یسوع سفید گھوڑے پر بھی آتا ہو، تو یہ یسوع نہیں، کیونکہ یسوع کے ہاتھ میں کمان ( یا خالی کمان) نہیں ہے، یسوع " فتح کا قائل نہیں" اور یسوع جنگ کی علامت نہیں، نہ قحط اور مری / وبا کی۔ اس گھوڑ سوار کی پہچان شاید متی 24: 23 سے تعلق رکھتی ہو، یہاں کئی جھوٹے مسیح آئیں گے۔
سوال: مکاشفہ 6: 9-11 میں، وہاں کتنے مسیحی ایذا رسانی میں رہے؟
جواب:
|
تاریخ |
ایذا رسانی |
ہزار قتل ہوئے |
|
50-323 م |
10 ابتدائی مسیحی ایذا رسانیاں |
50 |
|
50م |
رومی نیرو مسیحیوں کو ایذا دیتا ہے |
|
|
95/96 م |
رومی دومتیان مسیحیوں ایذا دیتا ہے |
|
|
107 م |
رومی ٹریجن مسیحیوں ایذا دیتا ہے |
|
|
118 اتے 138 م |
رومی ہاڈریان کی مسیحیوں کو ایذا رسانیاں |
|
|
135 م |
اسرائیل میں یہودیوں نے مسیحیوں کو ایذا دی ( رومیوں نے نہیں) بار کوچبا ریوولٹ کے تحت۔ |
|
|
177م |
رومی مارکس اور لئیس مسیحیوں ایذا دیتا ہے ۔ |
|
|
202 م |
رومی سیمٹمس سیورسن مسیحیوں ایذا دیتا ہے |
|
|
235 م |
رومی میکسیمم مسیحیوں ایذا دیتا ہے ۔ |
|
|
250-251 م |
رومی ڈیکیوس مسیحیوں ایذا دیتا ہے |
|
|
251-253 م |
رومی گیلُس مسیحیوں ایذا دیتا ہے |
|
|
253-260 م |
رومی ویلریان مسیحیوں کو ایذا دینا جاری رکھتا ہے۔ |
|
|
270 م |
رومی لئیس مسیحیوں ایذا دیتا ہے ۔ |
|
|
184-303-305م |
رومی ڈائیوکلیٹیان مسیحیوں ایذا دیتا ہے ۔ |
|
|
315-323 م |
رومی لَنسنیئس مسیحیوں کو مشرق میں ایذا دیتا ہے ۔ |
|
|
370 م |
رومی ایریان ویلنز مشرق میں مسیحیوں کو مارتا ہے۔ |
|
|
525 م |
مسیحی بھاگتے ہیں ایتھوپیا کے یہودیوں کی ایذا رسانی |
|
|
527-528 م |
ہائز۔ جٹئین مصر میں مونو فزسٹاں کو ایذا دیتا ہے۔ |
|
|
700 م |
مسلمان مسیحیوں کو ایذا دیتے ہیں۔ |
|
|
978-1000 م |
یہودی ملکہ جو ڈیتھ آف ایگزم مسیحیوں کو ایذا دیتی ہے۔ |
|
|
1000 م |
ویلڈنسز کی یورپ میں ایذا رسانی۔ |
|
|
دسویں بارہویں صدیاں |
یورپ میں بدعتی لوگوں کو جلانا اور مارنا |
|
|
1100-1300 م |
منگول اکثر نیسٹورین کو مارتے ہیں |
|
|
1211 م |
سڑاسبورگ کے مقام پر ویلڈنسز نے جلا دیا۔ |
08۔0 |
|
1252 |
معصوم IV کائبل بدعت کا سراغ لگانے کے لیے ایذا دیتا ہے۔ |
|
|
1261-1331 |
ڈومنی کینز تفتیش کرتے ہیں۔ |
|
|
1232 |
ڈومنی کینز البرٹ کے تحت تفتیش کرتے ہیں۔ |
|
|
1233 |
گریگری IX نے تفتیش کا تعین کیا۔ |
|
|
1309 |
وینس، بدعت کی وجہ سے کلیمنٹV کی مخالفت کرتا ہے۔ |
|
|
1415-1416 |
چیکو سلواکیہ میں ہُستی منحرف ہو گئے |
|
|
1419-1434 |
ہینگری میں ہستیاں کے خلاف صلیبی جنگ۔ |
|
|
1431 |
ہُستی، پاک رومی شاہی آرمی سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ |
|
|
1480 |
فیرڈیلنڈ اور اسبیلا نے سپینی تفتیش کی۔ |
|
|
1487-1488 |
ویلڈنسز کے خلاف صلیبی جنگ ۔ |
|
|
1527 |
منتز اور دوسرے اینا بپٹسٹوں نے زُورچ میں قتل کیا۔ |
|
|
1545 |
ویلڈنسز میں اٹلی میں ایذا دی۔ |
|
|
1550-1560 |
ویلڈنسز میں اٹلی میں ایذا دی۔ |
|
|
1562 |
ٹولوس کے مقام پر پروٹسٹنٹوں کو قتل کرتے ہیں۔ |
04 |
|
1576-1593 |
فرانس میں پروٹسٹنٹوں اور کیتھولک عیسائیاں کی لڑائی۔ |
|
|
1618-1648 |
تیس سالہ جنگ 3/1 جرمنوں کو قتل کرتی ہے۔ |
7000 |
|
1600 |
سپینی تفتیش |
50 |
|
1692-1969 |
" مسیح کی صلیب کے تصور کی بے عزتی کرو" جاپان میں ایذا رسانی |
|
|
1637 |
جاپانی اور ولندیزی (ہالنیڈ کی) توپ خانے مسیحیوں کو کچلتے ہیں۔ |
|
|
1655 |
کئی ویلڈنسز نے اٹلی اور فرانس میں قتل کیا۔ |
|
|
1808 |
نپولین سپینی تفتیش کا خاتمہ کرتا ہے۔ |
|
|
1820-1841 |
ویت نام میں مسیحیاں کو ایذا دی گئی ۔ |
|
|
1870-1890 |
گوئے مالا کاہنوں کو ایذا دیتا ہے، صرف 100 رہے۔ |
|
|
1915 |
کمیونزم کے تحت مسیحیوں کی ایذا رسانی |
|
|
1956 |
کولبیا میں کیتھولک عیسائیوں کو ایذا دی گئی۔ |
|
|
1976 |
گوئے مالا میں کیتھولک قتل کیے گئے۔ |
1000 |
|
1990 |
مسلمانوں کی طرف سے سوڈان میں شدید ایذا رسانی۔ |
|
|
1998 |
انڈونیشا میں مسلمانوں نے مسیحیوں کو شدید ایذا دی۔ |
|
|
1998 |
ازبکستان میں مسلمانوں نے مسیحی گرجا گھروں پر تشدد کیا۔ |
شاید 0 |
|
2001 |
بھوٹان کا بدھ مت بادشاہ مسیحیوں کو ایذا دیتا ہے ان کو فری تعلیم اور طبی امداد سے نکال دیا جب تک وہ عہد نہ کریں کہ وہ عبادت کے لیے اکٹھے نہ ہوں یا انجیل کی بشارت نہ دیں۔ بعض کو بُری طرح پیٹا گیا، ان کی نوکریوں سے نکال دیا گیا اور بھوٹان سے نکال دیا گیا۔ |
0 |
|
2008 |
مندوؤں نے صوبہ اڑیسہ ( انڈیا) میں مسیحیوں کو ایذا دی۔ |
|
جہاں تک بدعتی لوگوں کے لیے ایذا رسانی کا تعلق ہے، رومی حکومت نے 385 م میں بدعتی پرسکلیان کو پھانسی دی۔ بدعتی کو پھانسی کے خلاف کلیسیائی بانیوں امبروس، لِیو اور جون کراٹسوسٹوم نے احتجاج کیا۔ بدعتی پر تشدد کی تصدیق اوگسٹین نیں کیتی۔
سوال: مکاشفہ 6: 12 میں، کونسے بڑے زلزلے واقع ہوئے؟
جواب: مکاشفہ میں ابھی زلزلے اور تاریکی رونما نہیں ہوئے ۔ یہاں کچھ زلزلے ہیں جو رونما ہوئے ہیں۔
1201 میں زلزلہ موجودہ شام میں 1000 لوگ مرے۔
24-23/1 1556 میں زلزلہ، شانکسی چین میں 830 لوگ مرے کلاس XI 1883 میں جاوز کے نزدیک زلزلہ ( انڈونیشیا میں ) 100 لوگ مرے۔
1883 کراکٹو اڑ گیا۔ 12 مربع میل ( 31 مربع کلو میٹر ) زمین ماحول میں چلا گیا۔ 3000 میل تک شور سنا گیا ( 4800 کلو میٹر) انگلینڈ اور امریکہ میں اسے گرمیوں کے بغیر سال کہا جاتا ہے۔
سوال: مکاشفہ 6: 12-14 میں، ہمارے نظام شمسی میں یہ چیزیں کیسے رونما ہو سکتی ہیں؟
جواب: خدا قادر مطلق جب چاہے فطرتی قوانین کو بدل سکتا ہے یا اختیار کر سکتا ہے۔ تم جانتے ہو، کچھ لوگوں کے پاس بہت مشکل وقت ہوتا تھا، اس تصور کے ساتھ کہ کوئی فطرتی قانون اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مثلا جب رائٹ برادران، تجربے کر رہے تھے، تو کئی لوگ اتنے پکے یقین کے تھے کہ " آدمی نہیں اڑ سکتا" ، ان کا فطرتی قانون کا محدود خیال کہ ہوا سے بھاری جسم واپس آ جاتے ہیں، جہاز میں سوار ہونے کے ایمان میں ناقابل بناتا ہے۔ رائٹ برادران کے کمالات قابل غور ہیں نہ صرف یہ کہ انہوں نے کیا، بلکہ ثقافتی آب و ہوا میں بھی۔ جو فطرتی قانون کے امُور ہیں۔
سوال: مکاشفہ 6: 13 میں، گرے ہوئے انجیر کا نقطہ کیا ہے؟
جواب: ایں آئی وی سٹڈی بائبل صفحہ 1933 کے مطابق، سبز انجیر سردیوں میں ظاہر ہرتے ہیں، یہاں وہ آسانی سے درختوں سے گر جاتے ہیں، کیونکہ درختوں پر کوئی پتے نہیں ہوتے۔
سوال: مکاشفہ 6: 16 میں، کیا یسوع، خدا کے برے میں غضب ہے؟
جواب: ہاں، یسوع میں رحم کے ساتھ ساتھ غضب بھی ہے۔ رومیوں 11: 22 کہتی ہے خدا کی مہربانی اور سختی کو دیکھ لو۔
سوال: مکاشفہ 7: 1 میں، کیا زمین کے چاروں کونوں پر چار فرشتے کا مطلب ہے زمین کے چار کونے ہیں؟
جواب: نہیں، یہ چار فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جو قطب نما کے چار کونوں پر کھڑے ہیں۔ یہ شاید، یرمیاہ 49: 36 میں " چار پر" کی طرح ہیں جو عیلام کے خلاف گئے تھے اور زکریاہ 6: 1-8 میں چار رتھ ہیں۔
سوال: مکاشفہ 7: 2-4 میں، چونکہ ایک فرشتہ مشرق سے نکلتا ہے، کیا یہ ریورنڈ مون کی مشرق سے آمد ہے جیسے ریورنڈ مون کہتا ہے اپنی کتاب " ڈیوائن پرنسپل صفحہ 519-520 ( پانچواں ایڈیشن، 1977) ؟
جواب: جیسے " جب بدعتی پوچھیں" صفحہ 306-307 اشارہ کرتا ہے، مکاشفہ 7: 2-4 کہتا ہے۔
الف) ایک فرشتہ، مسیح نہیں( فرشتوں کی پرستش نہیں ہوتی بمطابق 22: 8-9، کلسیوں 2: 18)
ب) یہ مشرق کی سمت میں ہے، نہ کوئی ملک یا مشرق کا شہر۔
مجموعی طور پر، یہ اعمال 1: 7 کے مطابق وہی یسوع ہو گا، اور یسوع اسی طرح واپس آئیگا جیسے وہ گیا ۔ دی یونیفیکیشن چرچ " مسیح" جو واپس آنیوالا ہے، اور " یسوع" جو مر گیا کے درمیان امتیاز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، فلپیوں 2: 10-11 میں ہر گھٹنا یسوع کے آگے جھکے گا۔
سوال: مکاشفہ 7: 3-8 اور مکاشفہ 14: 1-5 میں، کیا 144٫000 چنے ہوئے ایمانداروں کی جماعت ہو سکتی ہے، جیسے یہواہ کے گواہ تعلیم دیتے ہیں ( کلام مقدس سے مباحثہ 1989 صفحہ 76) ؟
جواب: 144٫000 کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے بارہ قبیلوں سے مرد ( عورتیں نہیں) ہو سکتے ہیں۔ جبکہ یہ آیات لفظ " مرد " استعمال نہیں کرتیں، یہ واضح طور پر مرد ہیں کیونکہ مکاشفہ 14: 4 کہتی ہے وہ " عورتوں سے آلودہ نہیں ہوئے" ۔
فردوس ان سب کے لیے ہے جو یسوع پر ایمان رکھتے ہیں ( افسیوں 2: 19؛ فلپیوں 3: 20؛ کلسیوں 3: 1؛ عبرانیوں 3: 1؛ 12: 22)۔
کمپلیٹ بُک آف بابئل آنسرز صفحہ 60-61 اضافہ کرتا ہے، " واچ ٹاور تنازعہ کے بارے کیا خیال ہے کہ قبیلے مکاشفہ میں جن کا ذکر ہے اسرائیل کےظاہری قبیلے نہیں ہو سکتے؟ پہلا ضروری اشارہ جو بہت حقیقی ہے کہ خاص قبیلوں کا ذکر ان کی تعداد کے ساتھ کر دیا گیا کیونکہ وہ قبائل تمام امکان ختم کر دیتی ہے کہ یہ بات کی ای شکل ہے۔ بائبل میں کہیں بھی کوئی حوالہ نہیں کہ اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا کوئی مطلب ہو بالکہ اسرائیل کے بارہ قبیلے "۔ " جب بدعتی پوچھیں" صفحہ 307-308 اشارہ کرتا ہے کہ جبکہ کہ لفظ " قبیلہ" کلام پاک میں اکثر استعمال ہوا ہے، یہ کبھی بھی کسی چیز کے لیے استعمال نہیں ہوا، سوائے ظاہری قبیلوں کے۔
کچھ کا خیال ہے کہ 144٫000 تمام مسیحیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ " جب بدعتی پوچھیں" صفحہ 553-554 اس خیال کا ذکر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ غلط کیوں ہے۔ " یہواہ کے گواہ" آنسرڈ ورس بائی ورس صفہ 104-106 اضافہ کرتا ہے کہ 12000 صرف علامتی عدد ہے ، تو پھر ان حاصل 144٫000 بھی علامتی ہونا چاہیے۔ اگر ایسا دنیا میں 144٫000 ایک علامتی نمبر ہے؟ ( اگر یہواہ کے گواہ، میں جانتا ہوں کہ وہ متفق ہیں کہ 144٫000 اگرچہ ایک ظاہری عدد ہے)
سوال: مکاشفہ 7: 5-8 میں، دان کا قبیلہ کیوں غائب ہے؟
جواب:کلام مقدس یہ نہیں کہتا، لیکن کئی خیال کرتے ہیں کہ، کیونکہ سان پہلا قبیلہ تھا جو بت پرست بنا، وہ مکمل طور پر بت پرست بن گئے، اور کافی تباہ ہو گئے۔ کچھ کا خیال ہے کہ چونکہ یرمیاہ 4: 5 دان کا ذکر کرتا ہے ( اس کے ساتھ افرائیم کا) یروشلیم کی تباہی کے حوالے سے؛ ان قبیلوں کا ذکر نہیں ہوا۔ بعض ایرینئیس کی طرح دور چلے گئے ( 182-188 م) ایرینئیس اگینسٹ ہریسیزکتاب 5 سبق 232 صفحہ 559 اور اسکا شاگرد ہپولائیٹس ( 225-235/236 م) ٹریٹائز آن کرائسٹ اتے اینٹی کرائسٹ سبق 14-15 صفحہ207 خیال کر چکے ہیں کہ یرمیاہ 8: 16 کے ساتھ ساتھ استثنا 33: 22 نے اشارہ کیا ہے کہ مخالفِ مسیح دان کے قبیلے سے آئیگا۔
سوال: مکاشفہ 7: 6-8 میں، افرائیم کا قبیلہ کیوں غائب ہے، اور اس کی بجائے یوسف کا ذکر کیا گیا ہے؟
جواب: جیسے کمپلیٹ بُک آف بائبل آنسرز (صفحہ61) اشارہ کرتی ہے، افرائیم غیر اقوام کے خدا کی پرستش میں ملوث تھا ( قضاۃ 17 اتے ہوسیع 4: 17) پس اُس قبیلے کی نسبت جو سامریہ جیسا ہے یوسف کا ذکر کیا گیا۔
سوال: مکاشفہ 7: 1-8 اور مکاشفہ 14: 1-4 میں، 144٫000 کون ہیں؟
جواب: 5-8 آیات بے معنی نہیں ہیں۔ انہوں 144٫000 یہودیوں/ اسرائیلیوں ( مرد) کا ذکر کیا گیا ہے، ہر ایک قبیلے میں سے بارہ، سوائے دوان کے وبیلے کے۔ جبکہ بہت سے یہودی لوگ آج بھی یسوع کی پیروی نہیں کرتے، زکریاہ 12: 10-14 ظاہر کرتی ہے یہاں ایک وقت آئیگا وہ چھیدیں گے ( مسیح کو) ۔ رومیوں 11: 25-28 ظاہر کرتی ہے کہ اخیر زمانے میں بہت سے یہودی یسوع کی طرف پھر جائیں گے۔ تاہم، یہ جھوت کی مدد نہیں کرتا، مضبوط خیال یہ ہے کہ تمام یہودی آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونگے، اس سے قطع نظر کہ انہوں نے مسیح کو رد کیا۔ یسوع نے کٹر مذہبی فریسیوں کو یوحنا 8: 24 میں بتایا کہ اگر وہ یقین نہیں کرتے کہ یسوع ہی مسیح ہے تو وہ حقیقت میں اپنے گناہوں میں مر جائیں گے۔ دوسری آیات جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہودی کے ساتھ ساتھ غیر یہودیوں کو بھی یسوع کی ضرورت ہے اعمال 3: 19-20؛ متی 23: 29-33، یوحنا 10: 7-8، 14-16۔ ثبوت کے لیے کہ خدا نے یہودیوں کو رد نہیں کیا جب یسوع آیا، تو پولس " ثبوت" دیتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ( پولس) یسوع پر ایمان لایا، رومیوں 11: 1 مزید معلومات کے لیے پچھلے چار سوالات دیکھیں۔
سوال: مکاشفہ 7: 7 میں، لاوی کا قبیلہ کیوں شامل کیا گیا ہے؟ چونکہ لاویوں کی کوئی زمین نہیں؟
جواب: کلام پاک یہ نہیں کہتا، بلکہ ان کی شمولیت کا مطلب ہے کہ یہ صرف زمین کی فہرست نہیں۔ شاید یہ ان کا کردار بطور کاہن تھا اور جب یسوع آیا تو لاوی ختم ہو گئے تھے۔
سوال: مکاشفہ 7: 9-17 میں، بہت بڑا مجمع کون ہیں؟