روت میں سے بابئل کا استفسار
سوال: اس کتاب کا اہم نکتہ کیا ہے؟
جواب:اس حقیقی جنسی ناول میں بے شمار اہم نکات ہیں۔
تاریخی اعتبار سے: یہ ہمیں داؤد کا نسب نامہ دکھاتی ہے۔
روت 4 باب کی 18 سے 22 کے مطابق اسکے غیر مبہم ہونے کا ایک مقصد ہے۔
تصوراتی طور پر: بابئل بفلنگ سوالات کے جوابات صفحہ 98 پر بہت سے نکات واضح کیئے گئے ہیں کہ روت کا نقطہ قضاۃ میں المناک تصویروں سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
دی ایکس پوزیٹرز بابئل والیم 3 صفحہ 511 سے 513 میں اسکی بہت ساری ممکنہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
سوال: روت میں اس کتاب کی ادبی حیثیت کیا ہے؟
جواب: روحانی حیثیت سے ہٹ کر، روت کی کتاب ادب کی شاندار مثالی کتاب ہے۔ دی بلیورز بابئل کمنڑی صفحہ نمبر288۔ 287 میں درجہ ذیل بیان کرتی ہے۔ ایک دفعہ جب بینجمن فرینکلن فرانیسی عدالت میں تھاتو اس نے چند امیر فرانیسیوں کو بابئل کی بے حرمتی کرتے سنا تھا۔ جبکہ بنجمن فرینککلن خود بھی مسیحی نہ تھا، تو بھی اس نے بابئل کو ادبی قدر ے دیکھا۔ پس اس نے یہاں پر ٹھیک ایسا ہی کیا۔ فرینک لن نے روت کی کہانی فرانیسی ناموں میں بدلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے لکھی۔ پھر اس نے وہ کہانی امیر فرانیسیوں کیلئیے پڑھی۔
انہوں نے فرینکلن سے پوچھا کہ ادب کا یہ موی تم نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟
فرینکلن نے جواب دیا یہ اس کتاب میں سے ہے جس کو آپ بے حد گھٹیا تصور کرتے ہیں یعنی [مقدس بابئل] لائینت میں سے ہے۔
سوال: روت اور استثنا 23 باب کی 3 آیت میں کیا روت کو خداوند کے مجمع میں سے نکلالا نہیں گیا تھا؟
جواب: پہلے کچھ منظر اور پھر اسکے دوممکنہ جوابات۔
پس منظر:اس سختی کی ایک وجہ یہ ہے کہ سوتیلے اسرایئلی دوسرے معبودوں کی پرستش میں پرورش نہیں پاتے تھے۔
روت کے اسریئلی شوہر نے شریعت کی حکم عدولی کی جب اس نے موآبی عورت روت سے شادی کی۔ تاہم خدا پھر بھی نافرمانی کو آپنے منصوبہ میں استععمال کرسکتا ہے۔ اسکے علاوہ مسیحی دو جوابات سے متتفق نہیں ہوتے۔
جی ہاں ! روت کو نکالا گیا ہوگا،اگر کسی کم درجہ والے کو مجمع میں نکالا جاتا ہو،لیکن وہ پھر بھی خدا کی پرستش اور اس کی پیروی کرستی ہے۔ جیسا بعض اوقات مسیحیوں کو گناہ کے سبب سے منسڑی مواقعوں میں سے نکالا جاتا ہے۔ ( اپنی بیوی یا شوہر کو طلاق دینا۔وغیرہ) یا محض مخصوص لوگ انکی قومیت سے متعصب ہوتے ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی جو خدا نے انکو دیا ہوتا ہے اس میں رہ کر خدا کی خدمت کر سکتے ہیں۔
نہیں! تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا ااامیرا خدا ہوگا"
اگر کسی شخص کی جماعت بندی ہوتی ہے۔ جیسے روت1:16 ایک غیر ملکی اپنے آپلو اسرایئلی رکھنے کا پابند ہو۔ (یسعیاہ56 باب کی 6 آیت) اسی طرح روت تھی۔ پھر وہ اسریئل کی لے پالک ہوگی۔ حقیقت میں بادشاہ داؤد روت کا پوتا تھا( تیسری پشت میں سے) بمطابق روت 4 باب 21،22 (متی 1: 5۔6 )(لوقا3؛ 31۔32) بالکل ایسے ہی،یسعیاہ 56 باب کی 3 آیت بھی یہیکہتی ہے کہ وہ غیر ملکی جہنوں نے اپنے آپ کو خداوند کیلئیے پابند کیا ہے ان کو خدا کے لوگوں سے ہرگز خارج نہ کیا جائے گا۔
حتمی مکتہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے روت اور دیہاتی لوگ اسی سختی سے نہ آشنا ہوں۔ لیکن بعض اوقات خدا ہماری بے علمی کو بھی استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ۔ یشوع9 باب میں اسرایئل نے جبعونیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔
سوال: روت 1 باب میں کیا یہ کتاب نحمیاہ کی غیریہودی لوگوں کے ساتھ شادی پر پابندی کی جوابی کاروائی کی کاوش ہے جو 5 صدی میں لکھی گئی ۔ جیسا کہ ایسی موو گایئڈ ٹو دی بابئل صفحہ 265 میں دعویٰ کرتا ہے؟
جواب: نہیں ! ایسی موو بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کررھاہے۔ اسکے متعلقچار اہم نکات ہیں۔
1۔ بوعزکا داؤد تیسری پشت میں دادا ہونا۔ داؤد کے دور سے تقریبأ 1010ء قبل از مسیح سے پہلے کی حقیقت ہے اور اسکو وقت تواریخی تحریر بھی دی گئی (1۔تواریخ 2: 11۔12)
2۔ جبکہ ہم ٹھیک طور پر نہیں جانتے کی روت کی کتاب کب تحریر کی گئی ۔
یہ بات نہایت متجس ہوگی کہ یہ کتاب سلیمان کے دور کے بعد تحریر ہوئی۔
اور اس میں داؤد کے نامور بیٹے سلیمان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
3۔ روت کا موآبی ہونا بھی اسکی وضاحت کرتا ہے اور اسکے علاوہ کیا دوسرا راز ہوگا۔ یعنی جب حالات خراب پورہے تھے تو 1 سمویئل 22 باب کی3 اور4 آیت میں داؤد اپنے والدین کو موآب میں لاتا ہے۔
4۔ آخر کار ایسا رکھائی نہیںدینا کہ مصنف اپنے حقائق اس میں ڈالیں ہوں کیونکہ 1 باب کی 7 آیت میں یہ نہایت ہی آسان ہوگیا تھا کہ موآب میں ایک شہر کا نام بتایا گھیا و۔ تاہم مصنف نے کہا کہ وہ اس جگہ سے آئی جس جگہ کی وہ تھی۔ مصنف ہمیں یہ بتانے کی کوشش نہیں کررھا تھا کہ نعومی موآب میں کہاں رہتی تھی مصنف خود بھی بظاہرأ اس سے ناواقف تھا۔ کوئی ایک دلیل دے سکتا ہے کہ ہمارے پاس اسکے سوا کوئی اور ثبوت نہیں سوائے جو کچھ لوگوں نے روت 1 میں اور 1۔ تواریخ میں لکھا جبکہ یہ بات سچ ہے کہ ہمارے پاس تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔ ماقبل حقائق کے اور جو کچھھ لوگوں نے لکھا اسکے۔ مثال کے طور ہمارے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں ہے کہ جو لیس سیزر کی ماں بی تھی (کیا وہ انڈے سے نکلا تھا؟) اس بات سے لاتعلق ہوئے کہ لوگوں نے کیا لکھا۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں کہ داؤد کی نانی روت تھی۔ اس بات سے ہٹ کر کہ لوگوں نے کیا لکھا۔
سوال: روت 1 باب 1 آیت کیا الیملک کی غربت قحط کے سبب تھی یا نعومی بھری پوری تھی جیسا روت 1 باب 21 میں ہے؟
جواب: آپ کو امیر گھرانہ بنانے کیلئے بہت زیادہ روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے قحط کے سبب یہوداہ کو چھوڑا۔ نعومی کا 1 باب 21 آیت میں بھری پوری حوالہ ہے کہ اس کا ایک شوہر اور دوبیٹے تھے۔ جو بعد میں مر گئے۔ لوگ روپے پیسے کے لحاظ سے غریب ہو سکتے ہیں، مگر پھر بھی وہ پوری زندگی رکھتے ہیں ڈلیفیکلٹیز ان دی بابئل صفحہ 335۔ 336 میں خصوصأ جواب کیلئے غور کریں۔
سوال:روت 1 باب 2 آیت میں کیا محلون(جسکا مطلب بیماری) اور کلیون(جسکا مطلب ضیاع) کے نام افسانہ کے لئے موزوں ترین ہیں۔ جیسا کہ ایسی موز گایئڈ ٹودی بابئل صفحہ 263۔ 264 میں دعویٰ کرتی ہے؟
جواب: کوئی ایک یوں قیاس کر سکتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ ان کے حقیقی نام ہوں بلکہ انکے مرنے کے بعد انکو کہا گیا ہے ۔
تاہم اس کا زیادہ مناسب جواب غیر مغربی ثقافت کے مطالعہ میں پایا جاتا ہے۔ اسرائیلی اور حتی کہ 20 صدی کے بت سارے افریقی لوگ موجودہ دور کے واقعات سے متعلق نام رکھتے تھے۔ چاہے وہ واقعات اچھے ہوں یا بئرے۔ پس اگر بیٹوں کی پیدائش مشکل وقت میں ہوئی تھی تو یہ فطرتی بات ہے کہ اسرایئلوں نے انکے نام اس نسبت سے رکھے ہونگے۔
اسکے ثبوت کے طور پر راخل نے اپنے بیٹے کا نام بینمین(غم کا فرزند) رکھا جسکے ساتھ ہی اسکی موت ہوئی ۔ اور فنیحاس کی بیوی نے 1۔ سمویئل 4 باب 19۔ 20 آیت کے مطابق مرتے وقت اپنے بیٹے کا نام یکیود رکھا (یعنی حشمت اسرایئلہ سے جاتی رہی)یزرعیل کی تباہی کے بعد خدا نے ہوسیع کو کہا کہ وہ اپنے پہلے بیتے کا نام یزرعیل رکھے اپنی بیٹی کا نام لورحامہ (رحم نہ کرنا) رکھ اور اپنے دوسرے بیٹے کا نام لوعمی رلھ (یعنی تم میرے لوگ نہیں ہو) خدا نے یسعیاہ کو کہا کہ تو اپنے بیٹے کا نام مہیر شالال حاش بز رکھ (لوٹ مار جلد کرنا، اور تیزی سے تباہ کرنا) یسعیاہ 8 باب آیت 1 تا 4
جہاں تک میرے بچوں کا ممعاملہ ہے تو میرے خیال میں انکے سادہ نام رکھونگا۔
سوال: روت 1 باب 2 آیت میں بیت لحم کے لوگوں کو افراتی کیوں کہا جاتا تھا؟
جواب: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دوشہر تھے جن کا نام بیت لحم تھا۔ اور وہ جنوبی حصہ میں پیدا ہوئے تھے۔ جنوبی علاقہ بیت لحم افراتی کہلاتا تھا جیسا 1 سمویئل 17 باب کی 12 آیت اور میکاہ 5 باب کی 2 آیت میں ہے۔
سوال: روت 1 باب 4 آیت کیا ان کا موآبی عورتوں کو بیوی بنانا ٹھیک تھا؟
جواب: اس بات سے ماسوائے کہ وہ ٹھیک تھے یا نہیں، بابئل سادہ طور پر یوں رقم طراز ہے کہ ان عام لوگوں نے ایسا کیا۔ جبکہ غیر اسرایئلی بیویوں کو بیاہ میں لینا ابھی تک منع نہیں کیا گیا تھاس، یہ عقلمندی کی بات نہ ہوگی۔ جیساکہ راستبازی کے مجمع میں سے موآبیوں کو نالا گیا تھا۔
سوال: روت 1 باب کی 6 آیت اس بات کا کیا مطلب ہے کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یوں انکی خبر لی؟
جواب: سطحی لحاظ سے جواب سادہ ہے: قحط سالی ختم ہوگی۔
تاہم یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ
1۔ قحط سالی بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے تھی یا
2۔ قحط سالی حملوں اور جنگ کی صورت حال کے سبب سے اور خدا نے انکو انکے مخالفوں سے چھٹکارہ دیا تھا۔
کسی بھی طرح سے متعلقہ یہ تھا کہ قحط سالی ختم ہو گئی تھی۔
سوال: روت 1 باب 8 آیت میں نعومی نے اپنی دونوں بہوؤں کو کیوں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسکے ساتھھ نہ جایئں؟
جواب: روت 1 باب 6 آیت میں ابتداء میں دونوں بیٹیوں نے نعومی کی پیروی کی۔ ہم قیاس آرائی کرسکتے ہیں کہ شاید دو وجوہات کی بنا پر اس نے خیال کیا ہو کہ انکو ساتھ لے جانا درست نہیں ہے
مالی اعتبار سے وہ اس قابل نہ تھی کہ اپنی دونوں بہوؤں کی مدد کر سکتی ہو۔ بظاہرأ یوں بھی ہو گا کہ وہ کسی شادی کرنے کا موقع پائینگی یا کم از کم موآب میں اپنے خونی رشتہ داروں میں سے مدد کا سہارا حاصل کرینگی۔ قحط اوتر بھوک و افلاس نہایت ہی سنجیدہ حقائق تھے۔
روحانی اعتبار سے ان کا اسرایئل میں آنے کا کوئی نکتہ نہ تھا اگر وہ سچے خدا کی پرستش نہیں کرتی تھیں۔
یہ بابئل میں کم ازکم چوتھی مثال ہے کہ جب کوئی شخص اپنی شدید خوعاہش سے خدا کے لوگوں کا حصہ بنا نہ کہ محض پیدائشی اعتبار سے بلکہ اپنی مرضی سے ۔ مزید معلومات کیلئے روت 1 باب کی 15 آیت پر غور کریں۔
سوال: روت 1 باب کی 13 آیت میں نعومی نے ایسا کیوں کہا کہ خدا کا ہاتھ اسکے خلاف ہے؟
جواب: نعومی ابھی تک خدا کی پیرو کار تھی ۔ لیکن اپنمے شوہر کی وفات بیٹوں کی وفات اور قحط کے ساتھ انکے بعد آنے والی نسل کی ناامیدی کے باوجود یقینأ اس نے بہتر حالات دیکھے تھے۔ مزید بحث کیلئے روت 1 باب 20 آیت کو پڑھیں۔
سوال: روت 1 باب 13 آیت اور 1 باب کی آیت میں ، کیا روت میں ارامی زبان کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ 7 صدی میں تحریر ہوئے تھے؟
جواب: نہیںدی سکپٹی کل ایسی موزو گایئڈ ٹو دا بابئل نے صفحہ نمبر 262 پر حتی کہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کو 5 قبل از مسیح کی صدی میں لکھا گیا۔ درجہ ذیل پہلی بات بیان کرے گی کہ کیوں گفتہارامی الفاظ متعلقہ نہ تھے اور دوسری بات یہ کہ ایسا امکان کیوں تھا کہ یہ پہلے لکھی گئی۔
ارامی زبان کے لفظ کا مطلب ہوتا lehan1۔ روت 1 باب کی 13 آیت میں ہے، اور عبرعانی زبان میں اسکا مطلب ان کے لے بھی ہے۔روت 1 باب ارامی زبان کے تلفظ میں پکارا جاتا ہے۔mara20 آیت میں لفظ
جبکہ عبرانی میں یہ ایک شناختی آواز ہے اور لکھنے میں تھوڑا ہی مختلف ہے۔ بے شک، جیسا کہ کتاب کو جب سالوں پہلے نقل کیا گیا تو وہ کا تب جو ارامی جانتے تھے آسانی سے دوسری زبان کو متعارفکر سکتے تھے۔
2۔ مصنف گلیسن آر چیر بھی یہ نقط اٹھاتا ہے کہ غالبأ اس کو داؤد اور سلیمان کے دورکے دوران لکھا گیا تھا۔ اگرچہ داؤد اس کہانی کا حصہ نہیں ہے تو بھی داؤد کا خاص ذکر کیا گیا شاید سلیمان کا بھی ذکر ہواگر یہ اسکے دورحکومت میں لکھی گئی ہو گی۔ روت کی کتاب وہ وقت بھی واضح طور پر دکھاتی ہے جب اسرایئیلیوں کے متواثر غکلبہ کی وجہ سے موآبی ان سے نفرت رکھتے تھے۔
روت 1 باب 15 آیت، نعومی نے کیوں روت کو کہا کہ تو اپنی جٹھانی اور اپنے دیوتا کے پاس[موآب] چلی جا؟
جواب: پہلی جانب، اس بات کومتن میں اسطرح اخز کرنا اور پھر مسیحی منادی میں سادہ بیان کے طور پر استعمال کرنا مثالی بات نہیں ہے۔
حتی کہ ایسی صورت حال میں، نعومی کو معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ وہ کیا کر رھی ہے۔
نعومی نے روت کو اپنا فیصلہ پختہ کرنے کیلئے مجبور کیا۔ نعومی نہیں چاہتی تی کہ روت اس کے ساتھ مالی یا جزباتی وجوہات کی بنا پر اسکے ساتھ چلے۔ روت کا یہ دعویٰ رکھنا کہ وہ خدا کی خدمت کرنا چاہتی ہے یہ مناسب نہ ہوگا۔ اگر یہ محض بہا نہ ہوتا۔ یہ بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی بیانہ نہ تھا اور یقینأ یہ روت ہی تھی نہ کہ نعومی جو نعومی کے خدا کی پیروی کرنا چاہتی تھی۔
بعضاوقات موجودہ انجیلی بشارت میں ہم ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ لوگوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی دی جائے۔ اور انکو باور کروایا جائے کہ حقیقت میں یہ ان ہی کا فیصلہ ہے۔ دوسری مثال میں بالکل ایسا ہی ہے دیکھیں یشوع 24 باب کی 14 سے 25 آیت۔
سوال: روت 1 باب 20 آیت میں، کیا نعومی ٹھیک کہہ رہی تھی کہ اسکو مارا کہو جس کا مطلب تلخ ہے؟
جواب خاندان میں تین اموات کا ہونا اور نعوی کے پاس مزید نسل کی امید بھی نہ تھی جو کہ وہاں کی ثقافت کے لئے اہم تھی ۔ وہ ابھی تک خدا کی پیرو کار تھی ،اور اسکی یہ خواہش قابل سمجھ تھی کہ اس کوتلخ کیا جائے۔ قابل سمجھ سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ یہ ٹھیک تھا۔ ایماندار کئی طرح سے کمزور ہو سکتے ہیں۔ اور وہ بہت زیادہ پست ہوگئی تھی خدا کی رحمت نے اس کو مایوسی سے نکالا اور اس کو ایک بڑی امید نوازی۔ ہوسکتا ہے کہ آج آپ ایسے ہی پست حالی کا شکار ہوں پولس کے ساتھھ 2۔ کرنتھیوں 1 باب 8 سے 10 آیت میں ایسا ہی ہوا۔ آپ ایسا محسوس کر سکتے ہیں کہ بری خبر یا تلخ آپ کا نام ہونا چاہیے۔ لیکن خدا آپ کو ایسی حالت سے اٹھا سکتا ہے اور آپ کو حقیقی امید دکھا سکتا ہے۔
1۔ پطرس 1 باب 3 سے 12 آیت، ہمیں ہماری بڑی امیدا کی بابت بتاتی ہے جیسا کہ پولس رومیوں 8 باب کی 18 آیت میں رکھتا ہے عبرانیوں 12 باب 1 سے 3 آیت صبراور یسوع کی امید اور دکھوں کی بابت بتاتی ہے اور یہ کہ ہمیں کیسے اس امید کی ضرورت ہے۔ ایک کمزور مہبم امید نہیں بلکہ ایسی امید جو ہمیں ہر آزمائش میں پورا اترنے کی قوت دیتی ہے۔
سوال: روت 2 باب 6۔ 7 آت میں کیوں بڑے نوکر نے بوعز کو بتائےبغیر روت کا کاٹنے والوں کے پیچھے پولیوں کے بیچ بالیں چننے کی اجازت دی؟
جواب: کلام مقدس ایسا نہیں کہتا، لیکن اسکی دو وجوہات ہو سکتی ہیں قانونی اعتبار سے اسرایئلی شریعت کے مطابق (احبار 19 باب 10 آیت 23 باب 22 آیت اور استثنا 24 باب 21 آیت کے مطابق) کسانوں کو دوسری مرتبہ کھیت میں جانا منع تھا بلکہ غریبوں اور اجنبی لوگوں کے لئے بالیں چھوڑی جاتی تھیں۔
تعلقات: بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ بوعز اور نوکر کے درمیان ایسا تعلق تھا جس بنا پر وہ کسی کام کا آغاز بوعز کو بتائے بغیر کر سکتاتھا۔ بغیر شک کئے کہ بوعزتنگ دل اور شریع کی خلاف ورزی کرنے والا بنا۔ مالک اور ماتحت کے رشتہ میں میں ماتحت کی سب سے بہترین خصوصیت یہ ہے کہ جو کچھھ مالک نے مرضی سے کیا ہو وہ قابل بھروسہ ہونے کے لائق سمجھا جائے۔
الگ طور پر آج کل لین دین کے معاملات میں تعلقات میں ایک طرف اگر زیادہ منافع ہو تو دوسری جانب کچھھ رقمبچائی جاتی ہے۔ جب دونوں اطراف زیادہ سے زیادہ منافع ہو تو دونوں اپنے مالی فائدہ کے تعلقات کو جاری رکھتے ہیں۔
سوال: روت 2 باب 19 آیت میں نعومی نے ایسا کیوں کیا ؟
جواب: جب نعومی نے دیکھا کہ رقم پوری ایک ایفہ نکلی ہے تو اس نے جائزہ لیا کہ کیا بات ہے۔ کسی نے روت پر مہربانی کی اور اسکی خبر گیری کی۔
سوال: روت 3 باب 7 سے 9 آیت میں روت اور بوعز نے یہاں کیا کیا تھا؟
جواب: جب کی کچھ لوگ اس کو یوں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان دونوں نے مباشرت کی روت کی کتاب ہرگز بھی ایسا کچھھ نہیںبتاتی۔ بابئل میں اصطلاح کسی کے ساتھ لیٹنا کا مطلب ہے کسی کے ساتھ مباشرت کرنا مگرروت کے لیٹنے کا مطلب ہے کہ وہ صرف سونے کے لئے لیٹی تھی۔
جیسا کہ ہارڈسینک آف دا بابئل صفحہ 199۔ 200 میں کہتی ہے بوعز آدھی رات کو ڈر گیاجب اسکے پاؤں ننگے تھے اور روت وہاں پر پڑی تھی۔ پس بے شک اس قبل بوعز کا روت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یا وہ حیراں نہ ہوا ہو گا۔
یہ دونوں اور 735 بفلنگ بابئل آنسرڈ صفحہ 98 میں وضاحت کرتی ہے کہ بوعز نے اپبنے کمبل کے ایک سرے کو اس پر ڈال دیا جو روایتی طور پر علامت تھا کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔ ہارڈسئینگز آف دا بابئل بھی صفحہ نمبر200 پر ذکر کرتی ہے کہ آج بھی عرب میں یہ عمل پایا جاتا ہے کرتی ہے کہ آبھی عرب میں یہ عمل پایا جاتا ہے کہ ایک شخص جسکو بیاہنا چاہتا ہے اس پر کپڑا ڈالے گا۔ روت کا رات کے انھیرے میں آنا یہ تھا کہ بوعز عوامی دباؤ نہ ہو کہ وہ اسے قبول کرے۔ وین کریٹکس آسک صفحہ نمبر 153 کے مطابق روت کا بوعز کے ننگے پاؤں کے قریب ہونا ایک روایتی عمل تھا جو کہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ بوعز کی تابعداری یا سپردگی میں تھی۔
سوال: روت 3 باب 11 آیت میں کیوں بوعز نے روت کو پاک دامن عورت کہا؟
جواب: کیونکہ بوعز نے روت کی وفاداری کو اپنے لئے عظیم تر دیکھا نسبت اسکے کہ وہ کسی دوسرے جوان آدمی سے شادی کرنے کی خواہش کرتی۔
سوال: روت 3 باب 14 آیت میں کیوں بوعز یہ بات نہیں بتانا چاہتا تھا کہ ایک عورت کھلیہان میں آئی تھی؟
جواب: غالبأ بوعز بدی کے خطرے سے خوف زدہ تھا(2 کرنتھیوں 8: 22آیت؛1 تھسنلنیکیوں 5 باب 22 آیت)
مزید برآں اگر یہ پتا چل جاتا کہ بوعز نے روت کو آنے کی اجازت دی تھی ،تو پھر دوسری عورتیں جیسا کہ ان کی بیویاں تھیں وہ بھی آنا چاہتی تھیں اور جوان مردوں کو مل سکتی تھیں۔
سوال: روت 4 باب 3 سے 8 آیت احبار 25 باب 5 سے 10 آیت کے مطابق کیا اپنے بھائی کی وفات کے بعداس کی بیوی سے شادی کرنا شریعت کے خلاف ہے؟
نہیں اس جواب کے چھھ نکات قابل غور ہیں۔
1۔ کوئی بھائی بھی زندہ باقی نہ تھا بلکہ قریبی رشتہ دار کو تلاش کررہے تھے۔
2۔ روت 4 باب 4 آیت پر غور کریں ابتدائی طور پر قریبی رشتہ دار جایئداد کو خریدنے پر راضی تھا، جب تک اسے معلوم نہ تھا کہ اس کے بدلے روت اس کی بیوی بن جائے گی۔ وہ اپنی نسل کی بات روت کے اچھے ہونے یا جایئداد کی نسبت زیادہ فکرمند تھا۔
3۔ روت اسرایئلی نہ تھی بلکہ ایک موآبی عورت تھی یہ بات بھی قریبی رشتہ دار کی جھجک کو بیان کر سکتی تھی۔
4۔ احبار 25 باب 5 سے 10 آیت کے مطابق احکام کا اطلاق اس پر موزوں نہیں ہے، کیونکہ آدمی شوہر کا بھائی نہیں ہے۔ تاہم وہ احبار 25 باب کی 5 سے 10 آیت کے احول اور روح کی پیروی کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
5۔ جبکہ احبار نے سزا پر سختی سے عمل در آمد کیا۔ آدمی نے اپنی جوتی نہیں اتاری اور روت نے اس کے چہرے پر نہیں تھوکا۔ آرچر یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ روت اس آدمی کو قبول کرنے کی خواہش نہیں رکھتی تھی۔
6۔ روت کی کتاب محض ان لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ ہے۔
سوال: روت 4 باب 6 آیت میں کیوں قریبی رشتہ دار پہلے زمین خریدنے کیلئے تیار ہوا اور پھر وعدہ سے پھر گیا؟
جواب: اس نے وجوہات بتائی جیسا کہ وہ روت سے شادی نہیں کر سکتا یا وہ اپنی جایئداد کو خطرہ میں ڈال سکتا تھا۔ جبکہ اس وقت کیژ ازدواجی کا رواج تھا۔ حقیقی وجہ یہ ہے کہ اگر روت اس کے پہلوٹھے کو جنم دیتی تو دوسرے لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ اس بچے کا حق اس آدمی کی جایئداد میں سے اور روت کے شوہر سے بھی ہے۔ استثنا 25 باب 5 سے 10 آیت خاص کر اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اگر بھائی اکٹھے رہتے ہوں تو خاوند کے مرنے کے بعد اسکے بھایئوں میں سے ایک بیوی کا حق ادا کرے۔ تاہم اس معاملہ میں یہ نہ تو بھائی تھے اور نہ ہی یہ اکٹھے رہتے تھے۔
سوال: روت 4 باب 8 آیت میں کیا جوتی کے تبادلہ کی بابت لوگوںکی اور کوئی بھی گواہی موجود ہے؟
جواب: جی ہاں نہ صرف استثنا 25 باب 7 سے 10 آیت میں ان کو ایسا کرنے کا حکم دیتی ہے۔ دی نیوزی ٹیبلٹس میں صفحہ نمبر369 میں دانیوانٹرنیشنل ویژن کے مطابق نئے مالک کا جوتی اتارنا اور جایئداد کے حقوق کا اعلان موجود ہے۔
سوال: روت 4 باب 10 آیت روت خریدی ہوئی بیوی کیوں ہے؟
(ایک مسلم نے اس کو بڑی بات کے طور پر ذکر کیا تھا)
جواب: بوعز نے روت کیلئے (یعنی جہیز) نعومی سے زمین خریدی ۔ بوعز نے روت اور اس کی ساس نعومی کا خیال رکھا۔ پگر ایک مسلم کو اس بوعز کے شفقت والے عمل سے کیا مسئلہ ہے میں اسکو سمجھ نہیں پایا۔ مجھے امید ہے کہ وہ بابئل کی کسی آیت کو ہےھیار نے کی کوشش نہیں کر رہا تھا جو کہ وہ کر سکتا تھا۔
اگر اس مسلم کو بیوی کو جہیز دینے کے معاملہ میں کوئی مسئلہ ہے تو پھر غور کریں کہ محمد نے امہ حبیبیہ کو بیوی بناتے وقت 4000 درہم ادا کیئے۔ ابو داؤد والیم 2 عدد 2103 صفحہ 565 اور علی بن ابو طالب نے اپنے لیئے رالبیعہ کی بیٹی کو خریدا۔اس سےاسکی ایک بیٹی ہوئی جس کا نام امہ رقعیہ تھا الطبری والیم 11 صفحہ 66۔
سوال: روت میں کونسے ابتدائی مسودہ جات ہیں جو موجودہ دور میں بھی موجود ہیں؟
جواب: ڈیڈسی سکرولزٹوڈے(1 قبل از مسیح) صفحہ نمبر 30 اور داوی کلف بابئل ڈکشنری صفحہ نمبر 436 تا 438 کے مطابق چار(4) مختلف کہا جاتا ہے4q105,4q104,2q17,2q16نقول ہیں ان کو
(xiii To xxix (دی ڈیڈسی سکرولزان انگلش فورتھ ایڈیشن(
کے تین حصے ہیں ۔ ان میں 4q104 کے دراصل دو حصے ہیں۔2q17
میں روت کی ایک اور نقل کے تین چھوٹے 4q105ایک ابتدائی ہے۔
حصے ہیں۔ (دی ڈیڈسی سکرولز ٹرانسلٹیڈ دا قمران ٹیکسٹ ان انگلش سیکنڈ اہڈیشن صفحہ نمبر 471 تا 481)
کرسچن بابئل میونوسکرپٹس، جوکہ 350 بعد از مسیح کی ہےجس میں پرانا عہدنامہ بشمول روت ہے۔
ویٹی کینونس
(325۔ 350 بعد از مسیح) میں تمام روت کی کتاب محفوظ ہے۔
الیگزینڈرنس (450 بعد از مسیح) میں تمام روت کی کتاب محفوظ ہے۔
سینی ٹیکس( 340۔ 350 بعد از مسیح) میں اس کتاب کا ہم کوئی حصہ بھی نہیں پاتے۔
سوال: وہ چند ابتدائی لوگ کون ہیں جہنوں نے روت کا حوالہ دیا تھا؟
جواب: واحد پری نایئسن ایسا مصنف ہے جس نے روت کی کتاب میں سے حوالہ دیا وہ ملیٹویا میلٹیو آف سردیس ہے(170۔ 180/177 بعد از مسیح ) جس نے اس کے نام سے حوالہ دیا تھا۔
جو یس افریقینس اپنے خط ٹو آرسٹائیڈ باب5 میں ایکور دی امیانائٹ اور موآبی روت کے نسب نامہ کی بابت ذکر کرتا ہے۔ مگر اضافی طور پر روت کی کتاب کا ذکر نہیں کرتا متی اور لوقا روت کا حوالہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں یہ روت سے نہیں لی۴ے ہیں۔
سوال: روت میں یونانی اور عبرانی تورات کے تراجم میں چند فرق کونسے ہیں؟
جواب: یہاں پر چند تراجم میں فرق موجود ہے۔عبرانی ماسوریٹک ٹیکسٹ(اول) کا یونانی ترجمے کی تورث(دوم) سے موازنہ کرنے سے فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حصہ کا مرکزی نکتہ 1 باب پر ہوتا ہے۔
روت 1 باب 1 آیت: موآب علاقے کا موآب کی سرزمین سے فرق
روت1 باب 2 آیت: ناموں میں فرق معمولی ہے جیسا کہ (نعومی، کلیون،محلیون) کا فرق(نومین، مالون، کلیوین) سے
روت1باب 3 آیت: روت کی بھابھی کا نام عرف اور عرفہ کا فرق۔
روت 1 باب 6 آیت : موآب کے علاقے کا ملک موآب
روت 1 باب 13 آیت: تمھاری نسبت میرے لیئے یہ بہت تلخ بات ہےاور میں تمھارے سبب سے نہایت دلگیر ہوں
روت 1 باب 14 آیت: اپنءی ساس کو چوما کا اپنی ساس کو چوما اور اپنے لوگوں میں چلی گئی(اس کا اپنے لوگوں میں لوٹ جانے کا اطلاق دونوں میں یکساں ہے)
روت 1 باب 18 آیت: اس سے اور کچھ نہ کہا کا اس مزید کچھ اور نہ کہا (دونوں متن میں یہ ہی مفہوم پایا جاتا ہے کہ اس نے پھر اس سے اس موضوع پر بات نہ کی)
روت 1 باب 19 آیت: چلتے ہوئے داخل ہوئیں اور داخل ہوئیں ۔
روت 1 باب 20 آیت: تلخی سے کا فرق نہایت ہی تلخی سے ۔
روت 1 باب 21 آیت: خداوند میرے خلاف ہوا اور قادر مطلق نے مجھے دکھ دیا کا قادر مطلق نے مجھے عاجز کیا اور ازیت دی۔
روت 1 باب 22 آیت : موآب کے علاقے اور (موآب کا ملک) ۔
روت 3 باب 15 آیت : پھر وہ واپس گیا(بہت سارعبرانی ٹیکٹس میں) اور پگر وہ واپس گئی (بہت سارے عبرانی مسودہ جات تورات کے تراجم (=2q17)2qruth(b)سرئیک) (ڈیڈسی سکرول
روت 3 باب کی 13 سے 18 آیت کا ہے مگر یہ قابل یقین نہیں ہے کہ یہ کیا کہتا ہے) پری نائیسن کلیسائی مصنف( اس آیت کا حوالہ نہیں دیتے ہیں۔ روت 4 باب 4 آیت: لیکن اگر تو نہیں (بہت سارے ماسورٹیکٹیکست اور تورات کے تراجم میں) اور لیکن اگر وہ نہیں (بہت سارے عبرانی مسودہ جات میں)
روت 4 باب 5 آیت: نعومی سے موآبی روت بیوہ کو حاصل کر (ماسورٹیک ٹیکسٹ) اور نعومی سے تو اس مردہ کی بیوی روت کو خریدے(تورات کے تراجم میں ) اور نعومی سے تو موآبی عورت جو کہ بیوہ ہے حاصل کر(ویل گیٹ سرٹیک)
روت 4 باب 20 آیت: مسلمہ (زیادہ تر ماسورٹیک ٹیکسٹ میں) اور سلمون(چد عبرانی مسودہ جات چند تورات کے تراجم اوت ویل گیٹ میں) اس سوال کی کتابیات عبرانی ترجمہ جے۔ پی۔ گرین کے لٹیل ٹرانسلیشن میں سے ہے۔ اور تورات کا ترجمہ سرلین سولوٹ سی۔ ایل برنیٹن کی ٹرانسلیشن دی سپٹوجینٹ میں سے ہے۔
یونانی اور انگریزی۔
nrsvاورNkjv,niv,nasbدی ایکسپوزیڑز بابئل کمنڑی اور
بابئلز میں حاشیے استعمال کئے گئے ہیں۔