نہ محمد اور نہ ہی بہا اللہ بائبل میں کیوں نہیں ہیں ؟
مسلمان اور بہا دونوں اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد / یا بہا اللہ کی بائبل میں نبوت ہوئی ہے۔ یہاں ان آیات کی ایک فہرست ہے جنکا انہوں نے دعویٰ کیا ہے اور کیوں آیات ان کا حوالہ نہیں دیتیں۔
سوال: پیدائش 16: 3؛ 17: 20؛ 21: 13 میں، کیا ہاجرہ نے اسمٰعیل کی ماں ہوتے ہوئے محمد کا حوالہ دیا؟
جواب: ہاجرہ ابرہام کی لونڈی اور اسکے بیٹے اسمٰعیل کا ذکر بائبل میں ہے ۔ اگرچہ یہاں عدنان ( محمد کی نسل) کی نسل کے بارے اسمٰعیل کی نسل سے تھا کچھ شک ہے۔ مشہور ابتدائی مسلمان مورخ الطبری والیم 6 صفحہ 37 کہتا ہے " ہمارے نبی محمد کی نسل سے معباد بن عدنان کے ساتھ نسب دان فرق نہیں کرتے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کا فرق کرتے ہیں کہ اس کے بعد کیا آتا ہے " ۔ تاہم، اس کے آخر میں یہ ایک لہر دار ترتیب ہے، کیونکہ اسمٰعیل بائبل میں ہوتے ہوئے یہ ظاہر نہیں کرتا کہ محمد خدا سے ہے۔
سوال: پیدائش 25: 13 میں، کیا قیدار کا حوالہ محمد سے متعلقہ ہے؟
جواب: پیدائش 25: 13 اسمٰعیل کے بیٹے قیدار کا ذکر کرتی ہے، لیکن اسمٰعیل اور قیدار کی محمد کی نسل پر شک ہے ۔ اس سے قطع نظر ، اگرچہ پیدائش 25: 13 ، اسمٰعیل کے بیٹیوں کک ذکر کرتی ہے، بشمول قیدار، ان کے متعلق کوئی اچھی یا بُری بات نہیں کہتا ۔ الطبری والیم 6 صفحہ 6، تین چیزوں کو تحریر کرتا ہے۔
1: عدنان کے بعد محمد کی نسل کے بارے نسب دانوں کے درمیان اختلافات ہیں ۔
2: اکثر نسب دان تمام نہیں محمد کو ۔۔۔۔۔۔۔ عدنان۔۔۔ نبات بن قیدار بن اسمٰعیل میں شامل کرتے ہیں۔
3: یہ اختلافات اٹھتے ہیں کیونکہ یہ ایک پرانی سائنس ہے جو پہلی کتاب کے لوگوں سے لی گئی ( پرانے عہد نامے سے ) ۔
چونکہ الطبری تسلیم کرتا ہے کہ انہوں نے نسب ناموں کے یہ نام یہودیوں سے لیتے ہیں اور پرانے عہد نامے سے ، یہ ایک آزاد گواہی نہیں ہے۔
سوال: استثنا 18: 15-18 میں، کیا موسیٰ نےاسرائیلوں میں سے ایک آنے والے نبی کے بارے بتایا، ' بھائیوں' کا حوالہ اسرائیلیوں کے چچا زاد اسمٰیلوں کے بارے ہے؟
جواب: نہیں، استثنا یہ نہیں کہتی کہ اسرائیلیوں کے ' بھائیوں' میں سے۔ یہ کہتی ہے ' موسیٰ کی طرح' ' ان کے درمیان میں سے' ، ان کے بھائیوں میں سے۔ خدا کے کلام کو بگاڑنا ٹھیک نہیں۔
استثنا 18: 15-18 کہتی ہے کہ خدا ایک نبی اٹھائے گا، کہ وہ اس کی سنیں گے، موسیٰ کی طرح ان کے درمیان سے، ان کے بھایوں میں سے، کیا یسوع ایک نبی تھا؟ کیا نہت سے یہودیوں نے اسکی سنی؟ کیا یسوع یہودیوں میں سے تھا؟ کیا یسوع ایک یہودی تھا؟ مسلمانوں کو اس سے متفق ہوتے ہوئے مسلہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ آیت محمد کی نسبت یسوع پر موزوں آتی ہے۔ یہاں چند مزید نقاط ہیں۔
اس سلسلے میں، قرآن خود سورۃ 29: 27 میں کہتا ہے کہ نبوت اضحاق اور یعقوب سے آئی ۔ یوسف علی کے قرآنی ترجمے میں، وہ کہتا ہے، " اور ہم نے اضحاق اور یعقوب کو دی اور نبوت اور مکاشفہ اسکی نسل میں مقرر کیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
جبکہ ابرہام کے گرد قوسین، یوسف علی کے انگریزی ترجمے میں، پورا لفظ " ابرہام" عربی میں نہیں ہے، اور یوسف علی نے ضرورت محسوس کی کہ " ابرہام" کا اضافہ کیا جائے کہ کیسے مسلمانوں کے خیالات بطور خدا کے کلام ہیں۔ آخر کار، یسوع کے رسول پطرس نے کہا یہ یسوع میں پورا ہوا اعمال 3: 22-26۔ پطرس رسول شاید عِلم کی ایک عظیم حالت میں ہو۔
یہاں ہمارے پاس انتہائی ابتدائی یونانی مسودات ہیں اور ان کی تواریخ بھی اعمال 3: 22-36 ۔
ویٹی نس 325-350 م
سنائنِکس 340-350 م
لوۃیرق کو پٹک تیسری / چوتھی صدی
اسکندری 450 م
سہڈِک کوپٹک تیسری / چوتھی صدی
افرائیمی ری سِکرپٹس پانچویں صدی
بینری کنٹابری جینس پانچویں اور چھٹی صدی
یہاں ہمارے پاس دوسری زبانوں میں ان آیات کے تراجم ہیں آرمینی پانچویں صدی
جارجین پانچویں صدی
لاطینی ولگیٹ چوتھی سے ]پانچویں صدی
ایتھوپی چھٹی صدی
شامی پشتا چوتھی سے پانچویں صدی
ابتدائی کلیسیائی بانیوں کا ذکر کیا یہ آیت یسوع کی طرف حوالہ ہپے۔ ان میں سے کچھ کو ایرینیس نے لکھا 182-188 م۔
طرطولیان 220-222 م
اوریجن 225-254 م
کرائسِو سٹوم 407 م
جسٹن شہید 138-165 م۔
جسٹن شہید تقریباً 114 م میں پیدا ہوا، اگرچہ کچھ خیال ہے کہ 110 م ۔ اس کا پہلا مباحثہ 138 م کے درمیان لکھا گیا۔ اور اسکی موت 165 م میں ہوئی۔ واضح طور پر، اُسے مسیح کے بارے میں لکھنے سے پہلے یہ نبوت پڑھنا پڑی۔
ایک مسلمان کو نہ صرف کہنا پڑے گا کہ جسٹن غلط تھا، بلکہ تمام نئے عہد نامے کی مسودات جو پطرس نے لکھے غلط ہیں۔
مجموعی طور پر، دوسری زبانوں میں تراجم بہت پہلے بنائے گئے تھے؛ اوپر کی تواریخ یا نہ کہ پہلی ٹرانسلیشن کی تواریخ، بلکہ صرف ابتدائی مسودات کی تواریخ جو آج باقی ہیں۔ یہ قابل قدر ہیں کیونکہ وہ ترسیل کا ایک آزاد سلسلہ ہے، جو لوگ، یونانی مسودات پر بطور ایک پڑتال استعمال کرتے ہیں۔ ان مسودات کی ترسیل کا سلسلہ ۔ افریقہ سے ایشیاء تمام متفق ہیں کہ پطرس نے کہا کہ یہ یسوع کی طرف اشارہ ہے۔
دیکھیے " جب بدعات پوچھیں" صفحہ 43-44، 45۔ اور جب نقاد پوچھیں، صفحہ 125-126، صفحہ 131-132 اور صفحہ 133 مزید معلومات کیلے۔
سوال: کیا استثنا 33: 1-2 موسیٰ، یسوع اور محمد کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
جواب: ( الف) نہیں، جب تک مسلمان استثنا 33: 1-2 سے محمد کو اپنا خداوند نہیں کہنا چاہتے۔ علوی مسلمان اور دوسرے گھلات گروہ محمد کو خدا خیال کرتے ہیں، مگر وہ اعتراضات ہیں۔
(ب) استثنا 34: 10 یہ کہ " چونکہ پھر اسرائیل میں، موسیٰ کی طرح کوئی نبی نہیں برپا ہوا" ۔ یہ کتبہ لکھا گیا، شاید یشوع نے لکھا، یسوع کے آنے سے بہت ہی پہلے۔
(ج) استثنا 34: 10 ذکر کرتی ہے " روبرو" اور محمد نے کبھی نہیں کہا کہ اس نے اس نے اللہ سے براہ راست کلام حاصل کیا، بلکہ فرشتے کے ذریعے سے ( سورۃ 2: 97) ۔ یسوع نے براہ راست خدا باپ سے بات چیت کی بمطابق یوحنا 1: 18 اوت دوسرے متون ۔
(د) اگلی آیت 34: 11 کہتی ہے کسی دوسرے نبی نے، موسیٰ کی طرح پر جلال معجزات نہیں کئے۔ محمد نے ، جو قرآن میں ( سورۃ17: 90-93 ) ãیŸ á˜ªÇ Àÿ ˜ÿ ãØÇÈÞ ˜Èªی Çä ˜ی ØÑÍ ãÚÌÒÇÊ äÀیŸ ˜Æÿ ÓæÇÆÿ ÞÑÂä šªäÿ ˜Æÿ ۔ ( ÞÑÂä ÈÚÏ ãیŸ ãÓáãÇä ÑæÇیÇÊ Ìæ ÇÍÇÏیË ãیŸ ÀیŸ ˜ی ÊÑÏیÏ ˜ÑÊÇ Àÿ )
ÓæÇá: Ò龄 45: 3-5 ãیŸ¡ ˜یÇ یÀ ãÍãÏ ˜ی ØÑÝ ÇÔÇÑÀ ˜ÑÊÇ Àÿ ¿ ÌیÓÿ ˜À ˜ª ãÓáãÇä ÏÚæیٰ ˜ÑÊÿ ÀیŸ¿
ÌæÇÈ: äÀیŸ ÍÊیٰ ˜À ãÓáãÇä ÍÞیÞÊÇð ÇÓ ØÑیÞÿ Óÿ äÀیŸ Ïی˜ª Ó˜Êÿ ÀیŸ ÓæÇÆÿ ÇÓáÇã ˜ÿ ˜ª ÛáÇÊ ÝÑÞæŸ ˜ÿ¡ Ìæ ÎیÇá ˜ÑÊÿ Àیä ˜À ãÍãÏ ÍÞیÞÊÇð ÎÏÇ Àÿ۔ Ò龄 45: 6 ˜ÀÊی Àÿ¡ " Çÿ ÎÏÇ ÊیÑÇ ÊÎÊ ÇÈÏÇáÇÈÇÏ ÑÀÿ" (NIV)ãÌãæÚی ØæÑ Ñ ãÍãÏ ãÍãÏ äÿ ˜Èªی ÎÏÇ Àæäÿ ˜Ç ÏÚæیٰ äÀیŸ ˜یÇ¡ ãÍãÏ ˜ÿ ÇÓ ˜Èªی Ȫی ˜æÆی ÊÎÊ یÇ ˜æÆی ÓáØÇä ˜Ç ÚÕÇ ÊªÇ۔ Ïی˜ªÿ " ÌÈ äÞÇÏ æªیŸ " ÕÝÍÀ238 ÇæÑ " ÌÈ ÈÏÚÇÊ æªیŸ " ÕÝÍÀ 64 ã˜ãá ÌæÇÈ ˜ÿ áیÿ۔
ÓæÇá: Ò龄 84: 4-6¡ ˜یÇ æÇÏی Èõ˜Ç ãیŸ Óÿ ÒÑÊÿ ÀیŸ ÏæÓÑÇ äÇã ãی˜Ç ãÓáãÇäæŸ ˜ی ØÑÝ ÇÔÇÑÀ ˜ÑÊی Àÿ¿
ÌæÇÈ: äÀیŸ Șǡ ãی˜Ç Àÿ ÇÓ ˜Ç ˜æÆی ËÈæÊ äÀیŸ Àÿ۔ ÌÈ NIV ÓŠی ÈÇÆÈá ÕÝÍÀ 875 ÇæÑ äیæ ÌäیæÇ ÓŠی ÈÇÆÈá ÕÝÍÀ 847 ˜ÀÊÿ ÀیŸ ˜À Àã ÂÌ ãÍá æÞæÚ äÀیŸ ÌÇäÊÿ¡ Ò龄 84: 4-6 ˜ÀÊی Àÿ یÀ ˜æÆی ÔãæŸ ˜ی ÌÀ Àæ ی ÇæÑ ÇÓÿ ÎÒÇŸ ˜ی ÈÇÑÔ ÊÇáÇÈæŸ Óÿ ªÇäÿ ÀæÆÿ Àÿ۔ ÚÈÑÇäی áÝÙ Èõ˜Ç ãØáÈ Àæ Ó˜ÊÇ Àÿ " ÑæäÇ" یÇ " ÈáÓÇä ˜ÿ ÏÑÎÊ" Ò龄 84: 10 È ˜ÀÊی Àÿ۔ ãیŸ Çäÿ ÎÏÇ ˜ÿªÑ ˜Ç ÏÑÈÇä ÀæäÇ ÔÑÇÑÊ ˜ÿ ÎیãæŸ ÈÓäÿ Óÿ ÒیÇÏÀ ÓäÏ ˜ÑæäÇ " ۔ ãÓáãÇäæŸ äÿ Èšÿ ÍیÑÇä ˜ä Íãáÿ ˜یÿ ÇæÑ Çی ˜یÿ۔ Âæ Ïی˜ªیŸ ˜ª æÇÏیÇŸ ÇæÑ äÎáÓÊÇä Ìä Ñ ÔÑیÑ áææŸ äÿ Íãáÿ ˜یÿ۔
ÇäیæŸ äÿ Èäæ ãÓÊÊÚáیÞ Ñ ªÇÀ ãÇÑÇ ÌȘÀ ÇäÀæŸ äÿ áÇÑæÀی Óÿ Çäÿ ãæیÔی ÑÇäÿ ˜ی ÛáØی ˜ی۔ ÇäÀیŸ ˜ÀÇ یÇ ˜À æÀ" ÚÑÈ ÎæÈÕæÑÊ ÚæÑÊیŸ" áÿ áæ ÇæÑ ÇÓ˜ÿ ÈÚÏ ãÓáãÇä ÓÇÀیæŸ äÿ Çä˜ÿ ÓÇʪ ãÈÇÔÑÊ ˜ی۔ ÕÍیÍ ãÓáã æÇáیã 2: 3371 ÕÝÍÀ 733-734 º æÇáیã 3 äãÈÑ 4292º ÇÈæÏÇæÏ æÇáیã 2: 227 ÕÝÍÀ 727-728º ÇáØÈÑی æÇáیã 39 ÕÝÍÀ 57۔
ãÓáãÇäæŸ äÿ ÑõæãÀ ˜ÿ ãÓیÍی ÈÇÏÔÇÀ [ÓÑÏÇÑ] ˜æ Çی˜ ÛیÑ ãÔ˜æ˜ ÍیÑÇä ˜ä ÍãáÀ ãیŸ ÞÊá ˜Ê ÏیÇ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 43-44۔ ÒیÏ Èä ÍÇÑË ˜ی ÝæÌ äÿ ÇáÝÏÇÝÏ Ñ ªÇÀ ãÇÑÇ ¡ ãÑÏæŸ ÇæÑ ãæیÔیæŸ ˜æ ÑÝÊÇÑ ˜Ñ áیÇ ÇæÑ ÇáÎیÇÏ ÇæÑ ÇÓ ˜ÿ ÈیŠÿ ÇæÑ ÏæÓÑÿ Êیä ÂÏãیæŸ ˜æ ÞÊá ˜Ñ ÏیÇ 10 ÀÌÑی ÇáØÈÑی æÇáیã 9 ÕÝÍÀ 100-101۔
ÌæÀیäÇ ÞÈیáÿ ˜ÿ ÎáÇÝ Ìä ÕÍیÍ ãÓáã æÇáیã 2: 1827 ÕÝÍÀ 400۔ ÒیÏ Èä ÍÇÑË äÿ ÇÊÌãã ˜ی ÇÑŠی Ñ ªÇÀ ãÇÑäÿ ˜ی ÑÀäãÇÆی ˜ی ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 93 ۔
" ÚãÑ ÇæÑ 30 ÂÏãیæŸ äÿ ÊÑÈÀ ˜ÿ ãÞÇã Ñ ÍæÇÒÇä ˜ی ÔÊ Óÿ ªÇÀ ãÇÑÇ۔ ÛیÑ ãÓáã ÈÛیÑ ˜Óی ášÇÆی ˜ÿ 黂 Æÿ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 131۔
ÈÔیÑ Èä ÓÚÏ ÇæÑ 30 ÂÏãیæŸ äÿ Èäæ ãæÑÀ Ñ ÝϘ ˜ÿ ãÞÇã Ñ ªÇÀ ãÇÑÇ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã8 ÕÝÍÀ 132۔ ÕÝÍÀ äãÈÑ 123¡ 129 Ñ ÛæÑ ˜ÑیŸ¡ ˜À ÈÛیÑ ˜Óی ˜ی ÔÑ˜Ê ˜ÿ áæŠ ˜Ç ãÇá ãÍãÏ ˜Ç Àæ یÇ ˜یæä˜À ÇæäŠ ÇæÑ ªæšÿ ÇÓ ˜ÿ ÎáÇÝ äÀیŸ ášÿ ʪÿ۔ ÇÈÚیá¡ ÂÌÚÇá¡ ÔáÇãی ˜Ç ªÇÀ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 138۔
ÔõÌÇ Èä æÍÈ ÇæÑ 24 ÂÏãیæŸ äÿ Èäæ ÇãیÑ Ñ ªÇÀ ãÇÑÇ ÇæÑ ÇæäŠ ÇæÑ ÈªیšیŸ áÿ áیŸ۔ " [áæŠ ãÇÑ] ˜Ç ÍÕÀ ÀÑ ÂÏãی ˜æ 15 ÇæäŠ ÂÆÿ " ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 143۔
629/630 (8 ÀÌÑی) ãیŸ ÏªÊ ÇáÕÇÕá ˜ی ÝæÌی ãÀã¡۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 146-147۔ 8 ÀÌÑی¡ ÚãÑ Èä ÇáÚÇÓ ÇæÑ 300 ÂÏãیæŸ äÿ ÞÏÀ ˜ÿ ÞÈیáÿ ÇáÕÇÕá Ñ ªÇÀ ãÇÑÇ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 146۔
Çی˜ ªÑ 滂 ÌÓÿ Çá˜ÚÈÀ Çá یãäیÇ ˜ÀÇ ÌÇÊÇ ÊªÇ۔ ãÍãÏ äÿ ÌÑیÑ Óÿ ˜ÀÇ ÇÓ ˜æ ÏÓÊ ÈÑÏÇÑ ˜ÑÇÆÿ ÌÑیÑ ÇæÑ 150 ªæš ÓæÇÑæŸ äÿ ÇÓÿ ªیÑ áیÇ ÇæÑ æÀÇŸ Ñ ãæÌæÏ ÀÑ Çی˜ ˜æ ÞÊá ˜Ñ ÏیÇ۔ ÈÎÇÑی æÇáیã 5 ˜ÊÇÈ 59 äãÈÑ 641-642 ÕÝÍÀ 450-451۔
629-630 ã ( 8 ÀÌÑی) ãیŸ ÇáÎÈÊ ˜ی ãÀã ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 147-148 ۔ ÇÈæ ÚÈیÏÀ Èä ÇáÌÑÀ ÇæÑ 300 ÓæÇÑæŸ äÿ ÍõÌÇÆäÀ ˜ÿ ÞÈیáÿ Ñ¡ ÇáÎÈÊ ˜ÿ ãÞÇã Ñ 8 ÀÌÑی ãیŸ ªÇÀ ãÇÑÇ۔ ÇáØÈÑی æÇáیã 8 ÕÝÍÀ 146۔ áæŠ ˜ÿ ãÇá ˜æ ȘªیÑäÇ ÇæÑ ÇÀá ÞÈÇÆá Ñ ªÇÀ ãÇÑäÇ æÇáیã 10ÕÝÍÀ 17۔
ÓæÇá: ˜یÇ ÛÒáÇáÛÒáÇÊ 5: 16 ãÍãÏ ˜ی ØÑÝ ÇÔÇÑÀ ˜ÑÊی Àÿ ˜یæä˜À یÀ ˜Óی ˜æ " ã˜ãá ØæÑ Ñ ÓäÏیÏÀ" ˜ÿ ØæÑ Ñ Ð˜Ñ ˜ÑÊی Àÿ ÇæÑ ãÍãÏ ÇæÑ ãÎÏã ãÍãÏ ˜ÿ ( ˜Óی äÀ ˜Óی ØÑÍ) ÍãÇÆیÊی ÀیŸ¿
ÌæÇÈ: ãیŸ äÿ ÇÓ ˜ÿ ÈÇÑÿ Àáÿ˜Èªی äÀیŸ ÓäÇ۔ ÓáیãÇä ˜ی ÛÒá ˜ی ãÍÈÊ ˜ی ˜ÀÇäی ( ÛÒá ÇáÒáÇÊ) ãÓáãÇä ÚæÑÊیŸ ˜یÓÿ ãÍãÏ ˜ی ØÑÝ Úãá ˜ÑÊی ʪیŸ¿ ( ãÑÏæŸ ˜Ç Ð˜Ñ äÀیŸ ãیÑÇ ÎیÇá Àÿ ˜À ãÓáãÇä ÇیÓÇ äÀیŸ ÓæÊÿ)
ÓæÇá: یÓÚیÇÀ 21: 7 ãیŸ " ϪæŸ" Ñ ÓæÇÑ ˜یÇ یÓæÚ ÇæÑ "ÇæäŠæŸ" Ñ ÓæÇÑ ãÍãÏ Àÿ ÌیÓÿ ˜ª ãÓáãÇä ÏÚæیٰ ˜ÑÊÿ ÀیŸ¿
ÌæÇÈ: äÀیŸ ÌæÇÈ ãیŸ Óæäÿ ˜ÿ áیÿ Êیä äÞÇØ ÀیŸ۔
1: یÀ æÀ یÛÇã ÑÓÇŸ ÀیŸ Ìæ ÇÓ æÞÊ ÈÇÈá ˜ÿ ÒæÇá ˜ی ÑæÑÊ Ïیäÿ Ä ÑÀÿ ʪÿ۔ ÕÑÝ ÎÇÕ ÇÀãیÊ یÀ Àÿ ˜À ÔÇیÏ ÇæäŠæŸ Ñ ÓæÇÑ Àæ Ó˜ÊÇ Àÿ ãÎÈÑ À柡 ÏªæŸ Ñ Àæ Ó˜ÊÇ Àÿ ÚÇã ÔÀÑی ÀæŸ ÇæÑ Çšی ÈÇä Àæ Ó˜ÊÇ Àÿ ÝæÌی ÀæŸ۔
2: ÔÑیÑ ãÏیÇäی Ȫی ÇæäŠæŸ Ñ ÓæÇÑ ÀæÊÿ ʪÿ¡ áی˜ä یÀÇŸ ãÍãÏ ˜ÿ ÈÇÑÿ ÈÇÊ ˜ÑäÇ ÕÑÝ ÛیÑ ãÊÚáÞÀ Àÿ۔
3: ÂÎÑ ˜ÇÑ ¡ یÀÇŸ ÇæäŠæŸ Ñ ÓæÇÑ ÀیŸ ( ÕیÛÀ ÌãÚ Àÿ) ¡ Ó ÍÊیٰ اگر کوئی محمد تھا، تو اس کا مطلب ہو گا کہ دوسرا اونٹ سوار اس کے بعد آنیوالا ہے۔
کوئی نقطہ نہیں کوشش کرنے میں کہ " مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو" ۔ اس آیت کو اسلام کی مضبوطی کے لیے استعمال کرنا / ظاہر کرنا جبکہ بائبل میں بہت کچھ شامل ہے ( خدا کی پدریت، تثلیث، فضل سے نجات، روح القدس وغیرہ) یہ اسلام کے خلاف جاتی ہیں۔ دیکھیے " جب اہل بدعت تم سے پوچھیں" صفحہ 179 اور " جب نقاد پوچھیں " صفحہ 269 مزید معلومات کے لیے۔
سوال: یسعیاہ 21: 13-17 اور یسعیاہ 42: 10-11، کیا یہ حوالے بدر کی لڑائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، وہاں ( بیان کے طور پر) چند غیر مسلح مسلمانوں نے معجزانہ طور پر قیدار کے ( بیان کے طور پر) مکہ ( قریش) کے طاقتور آدمیوں کو شکست دی؟
جواب: بائبل کے متعلق یہ سوچ دل پسند ہے۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر 624 م میں (3 ہجری) میں 300 یا 328 مسلمانوں نے 70 مکہ والوں کو قتل کر دیا اور مزید 70 کو گرفتار کر لیا جبکہ 14 اپنے بھی کھو دیئے ۔ یہ ایک فتح تھی، لیکن یہ ایک معجزہ نہ تھا جیسے یشوع، موسیٰ کے حکم پر بحیرہ قلزم دو حصوں میں بٹ گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس نے یہ نظریہ کہاں سے حاصل کیا کہ مدینہ کے " اونٹ سوار چھاپہ مار غیر مسلح تھے۔ دیکھیں صحیح مسلم والیم 3: 4394 ( 975-976)، صحیح مسلم والیم 3: 4341 صفحہ 951، والیم 3: 4360 صفحہ 960-961۔ ( 17 رمضان 2 ہجری) بخاری والیم 5 کتاب 59 نمبر 462 (صفحہ 323)؛ بخاری والیم 4: 324 صفحہ 206؛ بخاری والیم 5 کتاب 59 نمبر 292 صفحہ 201۔ اب دوبارہ یسعیاہ 21: 16-17 پر غور کریں؛ یہ کہتی ہے کہ ایک سال کے اندر تیر اندازوں کے بقیہ، قیدار کے جنگجو، تھوڑے ہونگے۔ بدر کے ایک سال بعد، مکہ والے فتح یاب نہیں ہوئے تھے، بلکہ تباہ و برباد کر دیا ۔ قدرے، یہ یسعیاہ کے زمانے میں اسوریوں کی طرف اشارہ ہے جو 715 ق م میں شمالی عربی قبائل پر حملہ کرنے والے تھے۔
سوال: کیا یسعیاہ 28: 10-13، عربی کی طرف اشارہ کرتی ہے، چونکہ یہ لوگوں سے تتلانے والی زبان میں بات کرتی ہے؟
جواب: یہ پھر ایک دلپسند سوچ ہے۔ یونانی زُبان عبرانی سے زیادہ مختلف ہے بہ نسبت عربی کے۔ تاہم یسعیاہ 28: 13 کہتی ہے انکے لیے خدا کا کلام احکام تھے، اور اکثر لوگ دیکھتے ہیں کہ سُنی اسلام کا یہی طریقہ ہے، صرف احکام کی پیروی کرو نہ کہ خدا کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق بھی ہو۔
سوال: کیا دانی ایل 12: 6 باب، کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے بہائی دعویٰ کرتے ہین، چونکہ وہ محمد کے 1260 سال ہجری سے ظاہر ہوا؟ ( کچھ سوالات کی جوابات صفحہ 43 )
قمری۔
360 دن
جواب:
نہیں وہ
یہ دعویٰ اس لیے
کرتے ہیں کیونکہ
360۔
کہتے ہیں
ایک دن ایک سال
ہے اور باب محمد
سال
360 کا ہے دن 1260 =
کے ہجری قمری سال 1260 میں ظاہر ہوا۔ سب سے پہلے تمام دنوں کا مطلب یہاں سال نہیں ہے۔ دوسرا یہ ہے، ابتدائی تاریخ جو وہ استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ با۴بل کی نہیں ہے۔ غیر جسمانی حسابی جسمانی موڑ توڑ ایک حد تک پہنچتے ہیں جو تمہیں بھی پڑھنا پڑتا ہے کہ دانی ایل 12: 14 میں آخری نقطہ کیا ہے۔ اس موقع پر اکثر لوگ متی میں سے جی اٹھیں گے، اور میکائیل جو یہودی لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جی اٹھے گا۔ یہ یقیناً واقع نہ ہوا؛ خاص طور پر، چونکہ اس کے بعد جلانے والی قربانی واقع ہوئی۔
بنیادی طور پر، بہائی تقریباً ہر بائبل کی نبوت لیتے ہیں جو مستقبل کے علم یا خلاصی کی منادی کرتا ہے اور بہا اللہ کے لیے اس کا اطلاق کر کے سوال مانگتا ہے۔ پھر وہ کہہ سکتے ہیں، " دیکھیں ، یہ نبوت پوری ہو گئی، اسلیے بہا اللہ سچا ہے۔
سوال: دانی ایل 12: 11-12 میں، کیا 1290 دن بہا اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو محمد کے 1290 سال بعد تھا محمد نے اپنے مشن کا اعلان کیا جیسے بہائی دعویٰ کرتے ہیں " کچھ سوالات کے جوابات میں " صفحہ 43-44 ؟
جواب: بہا للہ نے باب کے 19 سال بعد دعویٰ کیا، پس کوئی سوچے گا، وہ کہیں گے کہ وہ 1279 برس کا تھا۔ تاہم، چونکہ یہ 1290 سال مناسب نہیں ہوتا، وہ پیچھے کی تاریخ کی طرف جاتے ہین۔ تقریباً جب محمد نے کہا وہ نبی ہے۔
سوال: حبقوق 3: 3 میں، تیمان کا، مدینہ ہونا، اور کیا یہ پیشن گوئی محمد کی ہو سکتی ہے ، جیسے کچھ مسلمان دعویٰ کرتے ہیں ؟
جواب: تیمان ایک عربی نہیں تھابلکہ حقیقتاً عیسو کا ایک پوتا تھا پیدائش 36: 11، 15۔ تیمان ادوم کے شمال مشرقی حصے میں ایک شہر تھا یرمیاہ 49: 7 میں اس کا ذکر آیا ہے۔ ادوم مدینہ کے شمال میں سیکنڑوں میل دور ہے بمطابق دی نیو انٹر نیشنل ڈکشنری آف دی بائبل صفحہ نمبر 990۔ یہ یا تو ایک جوتویلان، جو پطرہ کے شمال میں ہے بمطابق وکلف بائبل ڈکشنری صفحہ 1671۔
صرف گھلات مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ پیشن گوئی محمد کی ہے ، چونکہ یہ آیت " خدا" کی بات کرتی ہے نہ کہ محمد کی تیمان سے آمد کا۔ کچھ گھلات مسلمان فرقے ایمان رکھتے ہیں کہ محمد خدا ہے ، حالانکہ سُنی مسلمانوں کے لیے یہ بدعت ہے۔ تاہم، اگر کوئی سنی مسلمان آپ یہ سوال سنجیدگی سے درحقیقت لے، تو انہیں ایمان رکھنا پڑتا ہے کہ محمد خدا ہے، چونکہ " خدا تیمان سے آیا" ۔
دوسری وجوہات یہ محمد کی طرف اشارہ نہیں کر سکتا، یہ کہ " اسکی تمجید" محمد کی طرف اشارہ نہیں کرتا چونکہ ےمجید صرف خدا کے لیے ہے۔ فاران کا پہاڑ یہاں اسرا۴یلیوں نے خیمے لگائے، اور مکہ سے دور ہے ۔ " جب بدعتی پوچھیں" صفھہ 89 بھی یہی اہم جواب دیتی ہے۔ اگلا سوال دیکھو اور " جب نقاد پوچھیں" صفحہ 315 مزید معلومات کے لیے۔
آخر کار: کچھ مسلمان نمایاں طور پر، محمد اور بائبل؛ کے درمیان مزید سلسلہ بندی تلاش کرنے کا شوق رکھتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے سلسلہ بندی یسوع اور موعودہ مسیح کے درمیان پرانے عہد نامے کی ہے۔ تاہم، کچھ مسلمان اسے ناممکن جگہوں میں تلاش کرتے ہیں، حبقوق 3: 3، چونکہ وہ کہیں سے بھی سچی سلسلہ بندی تلاش نہیں کر سکتے۔
سوال: حبقوق 3: 3 میں اور استثنا 1: 1 میں، کیا کوہ فاران در حقیقت مکہ ہے، جیسے کچھ مسلمانوں کا دعویٰ ہے؟
جواب: نہیں، چونکہ فاران جزیرہ نما سینا کے بالکل مشرق میں تھا۔ اسمٰعیل اصل میں فاران کے بیابان میں رہیتا تھا پیدائش 21: 21، لیکن اسکی نسلیں نمایاں طور پر مزید وہاں نہیں تھے جب اسرائیلی وہاں آئے۔ استثنا 1: 1-2 کہتی ہے اسرائیلیوں نے فاران کے نزدیک میدان میں خیمے لگائے۔ یہ کوہ حورب سے ان کے لیے گیارہ دنوں کا سفر تھا۔ انہوں نے فاران میں کافی وقت گزارا، جیسے گنتی 10: 12؛ 12: 16؛ 13: 3 اور استثنا 33: 2 سے ظاہر ہے ۔ گنتی 13: 26 ظاہر کرتی ہے کہ قادش جو اسرائیل کے جنوب میں کافی دور ہے، یہ فاران کے بیابان میں ہے۔ داود 1 سیموئیل 25: 1 میں فاران کو گیا۔ ہدد ادومی، ادوم سے فاران کے راستے مصر کو بھاگ گیا 1 سلاطین 11: 18۔
خلاصہ: فارن، کوہ حورب سے گیارہ دن کے فاصلے پر ہے ، قادش فاران میں تھا اور فاران وہ جگہ ہے جہاں اسرایلیوں نے خیمے لگائے اور کنعان کی طرف جاسوس بھیجے۔۔
سوال: یوحنا 14: 16؛ 15: 26؛ 16: 5-14 محمد کا اشارہ کرتے ہیں جبکہ یہ روح القدس کا ذکر کرتا ہے ( پیراکلے توس) ؟ ( صحیح مسلم والیم 4 حاشیہ 2468 صفحہ 1254 یہ دعویٰ کرتا ہے )۔
جواب: نہیں، اگر یہ محمد کی طرف اشارہ ہے تو مسلمانوں کو ان پانچ چیزوں پر ایمان لانا ہو گا ( جو وہ نہیں کرتے)
1: محمد نے یسوع مسیح کو جلال دیا ( یوحنا 16: 14)
2: اللہ نے محمد کو یسوع کے نام میں بھیجا ( یوحنا 14: 27)
3: محمد کو بھی یسوع ہی نے بھیجا ( یوحنا 16: 7)
4: محمد نے یسوع کی حکمت لی اور ہمیں خبر بتائی ( یوحنا 16: 15)
5: محمد رسولوں کے اندر تھا ( یوحنا 14: 17)
پس ، کوئی بھی صاحب علم مسلمان ان آیات پر ایمان نہیں رکھے گا کہ یہ محمد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ آیات کسی دوسرے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔
دوسرے الفاظ میں، ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو یسوع کا جلال ظاہر کرنا چاہیے۔ اگر وہ سوچتے ہیں کہ محمد نے ایسا ان آیات کی بنا پر کیا۔ اس سلسلے میں، لفظ پیرا کلے توس جو یوحنا 14: 16 میں ہے صفحہ 75 میں، ( بوڈ مر 14/15) نے بعد میں دوسری یا غالباً تیسری صدی میں تاریخ میں شمار کیا، صفحہ 66 دوسری صدی کے وسط میں تاریخ میں شامل کیا، اور سینائی بھی۔ طرطولیان نے بھی سکھایا کہ پیراقلیط، اطمنان دینے والا، اپنے وقت کے لوگوں ( 193 م ) کے دلوں میں کام کر رہا تھا " ایک ہی بیوی رکھنے کا طریقہ" سبق 3 صفحہ 61۔
سوال: مکاشفہ 11 میں، کیا دو گواہ محمد اور علی ہو سکتے ہیں، جیسا بہائی کہتے ہیں؟ ( کچھ سوالات کے جواب" صفھہ 43-61)
جواب: نہیں مندرجہ ذیل دیارہ وجوہات کی وجہ سے۔
1: مکاشفہ 11: 3 کہتی ہے وہ 1260 دنوں تک نبوت کریں گے۔ محمد نے بہت کم نبوتیں کیں، اور علی کو کبھی بھی کوئی نبی نہیں مانا گیا۔
2: مکاشفہ 11: 5 کہتی ہے کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہچانے کی کوشش کرے، تو آگ ان کے دشمنوں کو کھا جاتی ہے۔ محمد کو زہر دیا گیا ( لیکن مشکل سے بچا)، اور علی کو ایک مسلمان نے قتل کردیا۔ علی کی وجہ یہ تھی کہ معاویہ نے شکست دی، اور اسکے بیٹے حسین کو ذبح کر دیا گیا۔ اس نے اپنے دشمنوں کو نہیں نگلا، بلکہ انہوں ( دشمنوں) نے اسے قتل کر دیا۔
3: مکاشفہ 11: 6 دونوں نبی آسمان کو بند کر سکتے ہیں تاکہ بارش نہ ہو۔ محمد نے کبھی بھی ایسا کرنا کا دعویٰ نہیںکیا، اور نہ ہی علی نے۔
4: مکاشفہ 11: 6 محمد اور علی نے پانی کو خون نہیں بنایا، جیسے تقریباً تمام لوگوں کو انہوں نے قتل کیا، جلایا یا اور طروح سے دریاؤں کے ذریعے بھی نہیں۔ اگر کوئی سلفی مسلمان دلیل دے کہ انہوں نے خون کے دریا بہا دیئے جو شمار نہیں ہوتے، کیونکہ مکاشفہ 11: 6 کہتی ہے انہوں نے پانیوں کو خون میں بدل دیا۔
5: مکاشفہ 11: 7-8 محمد تشدد سے نہیں مارا گیا تھا، اور دونوں صورتوں مین انکی لاشیں عوام کے دکھاوے کے لیے ذلیل ہونے کے لیے نہیں پڑی رہیں۔
6: مکاشفہ 11: 8 انکی لاشیں کسی بڑے شہر کی گلی میں نہیں رکھی گئیں ۔ درحقیقت بسنتی طور پر، علی کچھ ایسے مرا۔
7: مکاشفہ 11: 9 ہر کسی نے انکی لاشیں نہ دیکھیں اور دفن کرنے سے انکار نہ کیا۔ محمد کو خاص طور پر اسکے پیروکاروں نے قدرے بروقت دفن کیا۔
8: مکاشفہ 11: 10 جب محمد اور علی قتل ہوئے تو کون بہت سے تحفے لایا؟
9: مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے جو محمدیہ کہلاتا ہے دو دعویٰ کرتا ہے کہ محمد کبھی نہیں مرا۔ صَبَییہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ علی کبھی نہیں مرا۔ ان چھوٹے گروہوں کے سوا مسلمانوں کے پاس کہنے کے لیے کوئی بنیاد نہیں یا علی زندگی میں زندہ ہوا۔
10: مکاشفہ 11: 12 مسلمان کبھی نہیں کہتے کہ محمد اور علی کسی بادل میں آسمان کی طرف نہیں چڑھے ۔
11: مکاشفہ 11: 13 جب محمد یا علی نے کسی غیر موجود بادل میں روانہ ہوئے تو کوئی شدید بھونچال نہیں آیا۔ نقطہ یہ نہیں کہ آیا تم ان وجوہات میں سے کچھ کی تمثیل بنا سکتے ہیں ۔ نقطہ یہ ہے کہ اگر حتیٰ کہ ان وجوہات میں سے ایک سے بھی تمثیل نہیں بنائی جا سکتی تو پھر نبوت اسکی طرف اشارہ نہیں کرتی۔
سوال: مکاشفہ 11: 2 میں، کیا یروشیلم 42 مہینوں تک روندا گیا کے ذکر کا مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ محمد کی ہجری اور باب کے مکاشفہ کے درمیان ہے جو 1260 م میں ہے جیسے بہائی تعلیم دیتے ہین " کچھ سوالات کے جوابات " صفحہ 46-47 ؟
جواب: نہیں ابوالبہا دعویٰ کرتا ہے کہ چونکہ ایک دن ( بیان کردہ) ہمیشہ ایک سال ہے، جو 1260 سال ہین۔ لیکن یہ فرض کریں اگر ایک دن کا مطلب ایک حقیقی دن ہے ، تو خدا کیسے اس طرح بات کرسکتا تھا جو وہ قبول کرسکتے ہین؟ نہیں، شک کی کوئی وجہ نہیں کہ یہاں دونوں کا مطلب دن ہے مزید برآں، اگر 42 مہینے وہ وقت تھا جب غیر اقوام پاک شہر کو روند رہے تھے، تو پھر ا تفسیر کا مطلب ہے کہ محمد مدینے میں، اور بعد میں مکہ میں وقت کو شامل کیا گیا جب مقدس شہر کی بے حرمتی کی گئی۔ حقیقتاً مکاشفہ 11: 2 بیان کرتی ہے معموں جو دانی ایل 12: 6 میں ہے۔
سوال: کیا شیراز میں کسی زلزلے سے مکاشفہ 11: 12-13 کی نبوت مکمل ہو گئی جب بہا قتل کیا گیا ۔ جیسے بہائی تعلیم دیتے ہیں۔ سوالات کے جوابات صفحہ 55-56؟
جواب: نہیں، سب سے پہلے اس وقت، شیراز میں زلزلے کا کوئی ثبوت میں نے نہیں دیکھا۔ دوسرے نمبر پر، اگر بہائی مکاشفہ 11 کو محمد اور علی کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں اور پھر مضمون کو باب کی طرف موڑنا چاہتے ہیں کہ مکاشفہ 11: 12-13 میں تو وہ یہ اپنا کیک بنا کر نہیں کھا سکتے۔ آیا کہ باب دونوں گواہوں میں ایک تھا یا وہ نہیں تھا اگر وہ نہیں تھا تو پھر بائبل کو کھینچا جا رہا ہے کہ اس آیت کو الگ کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ باب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
سوال: مکاشفہ 11: 14-15 میں، کیا محمد پہلا افسوس ہے اور باب دوسرا افسوس، جیسے " کچھ سوالات کے جوابات" صفحہ 56-57 کہتا ہے؟
جواب: بہائی کہہ سکتے ہیں کہ محمد پہلا افسوس ہے اگر وہ چاہیں لیکن میرا خیال نہیں کہ وہ ایسا کہیں، اگر وہ پڑھیں کہ حقیقت میں پہلا افسوس کیا تھا۔ پہلا افسوس، پانچواں نرسنگا، مکاشفہ 9: 10-12 میں مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ شیطانی / دوذخی ٹڈیاں اتھاہ گڑھے سے، زمین پر غیر ایمانداروں کو ڈنگ مارتی ۔ انہوں نے انہیں 42 مہینوں تک اذیت دی۔ یہ اتنا درد ناک ہو گا کہ لوگ مرنے کی خواہش کریں گے، لیکن موت انکو دھوکا دے گی۔
چھٹا افسوس، چھٹھا نرسنگا، اس وقت دریائے فرات پر چار فرشتے کھول دیئے گئے تاکہ 20 کروڑ فوجی سوار ⅓ حصے انسانوں کو قتل کریں ۔ کیا بہائی واقعی کہنا چاہتے ہیں کہ باب نے فوجوں کو کھولا جس نے ⅓ انسانوں کو قتل کر دیا ؟
سوال: مکاشفہ 12: 1 کیا عورت محمد کے تحت خدا کی شریعت ہے اور نر بچہ بہا اللہ کے تحت خدا کا نیا قانون ہے جیسے بہائی تعلیم دیتے ییں " کچھ سوالات کے جوابات " صفحہ 67-72؟
جواب: نہیں بہائیوں کے ساتھ ساتھ آج مکاشفہ 12: 10 میں مسیح کے اختیار کو قبول نہیں کرتے، کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اس کا کلام بگڑا ہوا رہا ہے۔ وہ مکاشفہ 12: 11 میں برے کے لہو سے حیوان کو شکست نہیں دیتے۔ اگر صرف وہ برے کی اہمیت سمجھ لیتے۔
سوال: مکاشفہ 12: 3 میں، کیا سرخ بڑا اژدھا شریر عمیاد دیناستی ( ابو بکر ، عمر ، اتمن، معاویہ وغیرہ ) تھا کس کی سات حکومتیں تھیں: روم، دمشق، فارس، عرب، مصر اور افریقہ، سپین اور ترکی کے گرد جیسے بہائی تعلیم دیتے ہیں۔ " کچھ سوالات کے جواب" صفحہ 69-70؟
جواب: نہیں، وہ کہتے ہیں جہ دس سر دس سپہ سالار ہین : جو ابوسفیان سے شروع ہوئے اور ماروان پر ختم ہوئے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں دس سے زیادہ لوگ ہیں، لیکن چونکہ یہاں دو معاویہ ، تین یزید ، دو ولید، اور دو مارواں ہیں، اگر آپ ان کو بغیر تکرار کے شمار کریں، تو یہ دس ہوتے ہیں ۔
حقیقت میں، حیوان شیطان ہے، کیونکہ مکاشفہ 12: 10 حیوان کو ہمارے بھائی قتل کرنے کے لیے بلاتی ہے۔ حیوان مسیح اور مسیحیوں کے بعد ہے کیونکہ مکاشفہ 12: 10 خدا کے مسیح کے اختیار سے بولتا ہے۔ غور کریں کہ عورت کی خدا کی طرف سے 1260 دنوں تک حفاظت کی گئی ۔ اب اسکی کیسے حفاظت کی جائیگی اگر 1260 دن تک ہیکل ہو روندا جائے۔
سوال: بحیرہ مردار کے طوماروں میں غیر بائبلی مسودات ، کیا راست باز استاد کی نبوت ایک محمد کی ہو سکتی تھی یا یسوع کی یا یوحنا اصطباغی یا کسی اور کی ؟
جواب: نہیں، کیونکہ ایک تو وہ راستباز اُستاد کہلاتا تھا جو ان مسودات کو لکھنے سے پہلے آیا تھا، خود مسودات کے ثبوت کے مطابق ۔ یہاں متعلقہ حصے بحیرہ مردار کے طوماروں سے ترجمہ کیے ہوئے تھے سے لئے گئے ہیں: قرآن کے انگریزی ، جو فلورنٹینو گریشیا مارٹینز نے لکھے۔
راستباز کا استاد ، اسیری کے 20+390 سال بعد آیا۔ اسیری 586 ق م میں ہوئی ، پس مکابین کے وقت کے دوران ہوا، مسیح کے وقت سے پہلے ۔ " کیونکہ جب وہ اسے ترک کرتے ہوئے بے وفا تھے ، اس ( خدا) نے اسرائیل سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور اسکی ہیکل سے اور تلوار سے انہیں آزاد کیا۔ تاہم، جب بہت پہلا وعدہ اسکو یاد آیا تو اس نے اسرائیل کا بقیہ بچا لیا اور تباہی سے آزاد نہ کیا۔ اور غضب کے موقع پر 390 سال بعد انہیں بابل کے بادشاہ نبو کدنضر کے ہاتھ سے آزاد کیا، اس نے ان سے ملاقات کی اور اسرائیل سے شاخین نکلنے کا سبب ہوا اور ہارون سے اگنے کی ایک شاخ نکلی، انکی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے اور اپنی زمیں کی اچھی چیزوں سے موٹا بنانے کے لیے ان کو آزاد کیا۔ اور انکو ان کا گناہ معلوم ہوا اور جانا کہ وہ گناہ گار انسان ہیں؛ لیکن وہ اندھے آدمیون کی طرح تھے اور ان کی طرح جو بیس سال تک راستہ ٹٹولتے رہے۔ اور خدا کے ان کے اعمال کا تخمینہ لگایا، کیونکہ انہوں نے اسے کامل دل سے ڈھونڈا اور ان کے ایک راستبازی کا استاد کھڑا کیا، اور اپنے دل کے راستے میں انکی رہنمائی کرنے کے لیے، دمشقی دستاویز کی نقول جو جنیزہ سے ملیں ( سی ڈی اے) کلسیوں 1 لائن 3-11 صفحہ 33۔
اسی بات کا دمشقی دستاویزات چار کیو 268Q4 کی نقل میں ذکر کیا گیا ہے لائن 13-17 صفحہ 48 اور (ªQC4 =) 266Q4 حصہ 2 لائن 7-14 صفحہ 49۔ غور کریں کہ جبکہ دو مسودات ( اے اور بی) قاہرہ میں ایک یہودی جنیزا سے ہیں۔ اور 900 م میں تاریخ میں شامل کیا گیا، دو اور مسودات تقریباً مسیح کے زمانے کے بحیرہ مردار کے طوماروں میں ہے ۔
ایک الگ ، راستبازی کا استاد ، حبقوق پیشتر ( QpHab1) کلسیوں 1 لائن 13 صفحہ 198؛ کلسیوں 2 لائن 2 صفحہ 198؛ کلسیوں لائن 10 صفحہ 199؛ کلسیوں 7 لائن 4 صفحہ 200؛ کلسیوں 8 لائن 3 صفحہ 200 ؛ کلسیوں 9 لائن 9-10 صفحہ 201؛ کلسیوں 11 لائن 5 صفحہ 201۔
زبور پیشتر 173Q4 حصہ 1 صفحہ 206 میں بھی راستبازی کے استاد کا ایک بہت تھوڑا سا ذکر ہے۔
نتائج: راستبازی کا استاد قمراں کمیونٹی کا بانی تھا (liii.p) تعارف یہ بھی کہتا ہے کہ مختلف غیر معتبر نظریات نے دعویٰ کیا ہے راستبازی کا اُستاد یسوع تھا، ( یا یوحنا اصطباغی یا پھر یعقوب رسول) ۔ یہ اضافہ کرتا ہے، " تاہم عام طور پر ان تمام نظریات کے لیے آثار قدیمہ کی تحقیق سے جن نتائج پر پہچنے میں نا منظور ہے ، جو نتیجہ نکالتا ہے کہ تمام مسودات جمع تھے خربت قمران 68 سی ای میں کی تباہی سے پہلے صورت حال ( اور وہی سوکھی روٹی لکھی گئی ) اوپر تمام نظریات، مسودات کی حجری تشریح سے نتائج کا انکار کرتے ہیں "۔ ( xlvii.p) ۔ فلو نٹینو گارشیا مارنٹیز قمران انسٹیٹیوٹ کی رہنمائی کرتی ہے نیدر لینڈ میں گرونن جن یونیورسٹی میں۔
سوال: بحیرہ مردار کے طوماروں میں غیر بائبلی مسودات ، کیا ( بیان کردہ ) کاہنانہ مسیح یسوع ہو سکتا ہے اور ( بیان کردہ) شاہانہ مسیح ایک محمد کی نبوت ہو سکتی ہے جیسے ایک غیر مسلم نے دعویٰ کیا تھا؟
جواب: نہیں، سب سے پہلے بحیرہ مردار کء طوماروں مین کو۴ی کاہنانہ مسیح نہیں اور " شاہانہ مسیح" نہیں ہے قدرے کچھ بحیرہ مردار کے طوماروں میں ایک مسیح ہے، اور دوسرے مردار کے طوماروں میں دو مسیح ہیں، ایک ہارون کا مسیح اور ایک اسرائیل کا مسیح۔ اسرائیل کے کونسے قبیلے سے محمد تھا ؟ چونکہ محمد اسرائیل کے کسی قبیلے میں سے نہیں ہے ایک نہیں کہہ سکتا کوئی ایک ہو سکتا تھا ۔ دو مسیح کا ذکر ہارون اور اسرائیل کا روُل آف دی کمیونٹی میں lQRule کلسیوں 9 صفحہ 13-14۔
دستوالعمل پیروی کرنے کے لیے ہوتے ہیں ؛ ہارون کے مسیح کے ظاہر ہونے تک برائی کے زمانے میں سے ۔ دمشقی دستاویز سی ڈی ۔ اے کلسیوں 12 áÇÆä 23 ÕÝÍÀ 43۔
ÀÇÑæä ÇæÑ ÇÓÑÇÆیá ˜ÿ ãÓیÍ ˜Ç Ð˜Ñ 266Q ÍÕÀ 18 ˜áÓæ 3 áÇÆä 12 ÕÝÍÀ 56۔ ãÒیÏ ÈÑŸ ¡ ÑÇÓÊÈÇÒی ˜Ç ÇÓÊÇÏ¡ ÀÇÑæä ˜ÿ ãÓیÍ ˜ی ØÑÍ Àÿ۔ " ÇÓ˜ی ÊÔÑیÍ ˜ÇÀä ˜ÿ ÈÇÑÿ Àÿ [ ÑÓÊÈÇÒی ˜Ç ÇÓÊÇÏ] ÎÏÇ äÿ [ ÇÓ ˜ÿ ÓÇãäÿ] ÓŠیä ˜Ñäÿ ˜ÿ áیÿ äÇ ۔ ÇÓ äÿ ÇÓÿ ÌãÇÚÊ ÊáÇÔ ˜Ñäÿ ˜ÿ áیÿ јªÇ [ Çäÿ äÿ ÀæÆÿ ˜æ] [ ÇÓ˜ÿ ˜ÿ áیÿ] Ò龄 یÔÊÑ 171Q4 ˜áÓæ 3 áÇÆä 13-16 ÕÝÍÀ 205۔
ÏÀ Ñæõá ÂÝ Ïی ˜ÇäÑیÔä ( a28Q1) ˜áÓæ 2 ÕÝÍÀ 127 ãÓیÍ ˜ÿ ãÊÚáÞ ÈÇÊیŸ ˜ÀÊی Àÿ ۔ " ÌÈ ( ÎÏÇ) Çä ãیŸ ãÓیÍ یÏÇ ˜ÑÊÇ Àÿ " [ áÇÆä 11 ( ÎÏÇ ) ÝáæÑäŠیäæ ˜ی ˜ÊÇÈ ãیŸ Àÿ) ÇÓÑÇÆیá ˜ÿ ãÓیÍ ˜ÿ ÈÚÏ ÏÇÎá Àæ Ç ÇæÑ ÇÓ˜ÿ ÓÇãäÿ ÈیŠªÿ Ç ÓÑÏÇÑ ÈیŠªیŸ ÿ [ ÇÓÑÇÆیá ˜ÿ ÞÈیáæä ˜ÿ ¡ ÀÑ ˜æÆی] Çäی ÚÙãÊ ˜ÿ ãØÇÈÞ" ۔ ( áÇÆä 14-45) ˜یÇ ãÍãÏ äÿ ÔÑÇÈ ی¿ ÇæÑ[ ÌÈ] æÀ ÔÑÇ˜Ê ˜ÿ ãیÒ Ñ Ç˜Šªÿ ÀæÊÿ ÀیŸ [ یÇ یäÿ ˜ÿ áیÿ] äÈی ÔÑÇÈ ˜ÿ áیÿ ¡ ÇæÑ ÔÑÇ˜Ê ˜ÿ áیÿ ãیÒ áÇیÇ یÇ ( ÇæÑ ) ÇæÑ äÆی ÔÑÇÈ یäÿ ˜ÿ áیÿ ãáÇÆی ¡ ˜Óی ÑæŠی ˜ÿ Àáÿ ªá ÇæÑ ä۴ی ÔÑÇÈ ˜ÿ áیÿ ˜ÇÀä ˜ÿ ÓÇãäÿ ªیáÇäÇ ÇÀیÿ ¡ ˜یæä˜À æÀ ÑæŠی ˜ÿ Àáÿ ªá ÇæÑ äÆی ÔÑÇÈ ˜æ ÈÑ˜Ê ÏیÊÇ Àÿ ÇæÑ Çä ˜ÿ ÓÇãäÿ Çäÿ ÀÇʪ ªیáÇæ ۔ ÇÓ˜ÿ ÈÚÏ ÇÓÑÇÆیá ˜Ç ãÓیÍ ÑæŠی ˜ی ØÑÝ ÇäÇ ÀÇʪ ªیáÇÆÿ Ç " ۔ áÇÆä 17-20۔
äÊیÌÀ: ÀÇÑæä ˜Ç ãÓیÍ ÑÇÓÊÈÇÒی ˜Ç ÇÓÊÇÏ Àÿ ( Ò龄 یÔÊÑ 171Q4) ˜áÓæ 3 áÇÆä 13-16 ÕÝÍÀ 205) ¡ Ó یÀ ãÓیÍ äÀیŸ Àÿ ۔ یÀÇŸ ˜æÆی ÔÇÀÇäÀ ãÓیÍ äÀیŸ¡ ÕÑÝ Çی˜ ÇÓÑÇÆیá ˜Ç ãÓیÍ Àÿ ÇæÑ ãÍãÏ ÇÓÑÇÆیá Óÿ äÀیŸ Àÿ ãÍãÏ ˜Ç äÓÈÊÇð ÊæÑیÊ ÇæÑ ÇäÇÌیá ãیŸ Ð˜Ñ Àÿ ÓæÑۃ 7: 157 ˜ÿ ãØÇÈÞ۔ Ó ãÓáã ˜ª ÚÈÇÑÊ Ìæ ãÍãÏ ˜ی ØÑÝ ÇÔÇÑÀ ˜ÑÊی ʪی ÕÏیæŸ Óÿ ªæä ÑÀÿ ÀیŸ ۔ Çä˜æ ÇȪی ʘ Çی˜ Ȫی äÀیŸ ãáÇ۔ ˜Óی یÒ ˜æ یÏÀ ÈäÇäÿ ˜ÿ áیÿ ˜æÔÔ ˜ÑäÇ äÞØÀ یÀ ÍÞیÞÊ ãیŸ ÓÇÏÀ Àÿ یÓæÚ¡ یÓæÚ Àÿ ÇæÑ یÓæÚ æÇÓ ÂÆیÇ۔ ÑæÍ ÇáÞÏÓ ÑÓæáæŸ ˜æ Àáÿ Àی ÏیÇ یÇ ÊªÇ¡ ÇæÑ Ó یÀ ãÍãÏ äÀیŸ Àÿ۔
ØÑØæáیÇä: ( 197-217ã ) "یÑÇÞáیØ äÿ ÀãÇÑی ÊæÌÀ Ñ ÈÀÊ ÊäÈیÀ ˜ی Àÿ " Çÿ ÑیŠÓ Âä Ïی Óæá ÓÈÞ 58 ÕÝÍÀ 235۔ ØÑØæáیÇä äÿ ÊÚáیã Ïی ˜À یÑÇÞáیØ ¡ ÊÓáی ÈÎÔäÿ æÇáÇ¡ Çäÿ æÞÊ ãیŸ áææŸ ˜ÿ ÏáæŸ ãیŸ ˜Çã ˜Ñ ÑÀÇ ÊªÇ ۔ ØÑØæáیÇä Âä ãæäæیãی ÓÈÞ 3 ÕÝÍÀ 61۔
ÇæÑیÌä: ( 225-254ã) ˜ÀÊÇ Àÿ ˜À یÑÇÞáیØ Ç˜ ÑæÍ Àÿ۔ ی ÑäÓی یÒ 1۔7۔2 ÕÝÍÀ 284º 3۔7۔2 ÕÝÍÀ 285º 4۔7۔2 ÕÝÍÀ 285-286۔
ÂÑیáÆیÓ: ( 262-278ã) Çäی ˜ÊÇÈ " ÈÒÑæŸ ˜ی ÑæÍæä Óÿ ãäÇÙÑÀ " ÓÈÞ 26 ÕÝÍÀ 199 ãیŸ ÈÍË ˜ÑÊÇ Àÿ ˜À ǘ ÑæÍ ÈØæÑ یÑÇÞáیØ یÓæÚ ˜ÿ ÐÑیÚÿ ȪیÌÇ یÇ۔ ÇÓ ˜ÿ ÓÇʪ ÓÇʪ ÓÈÞ 27 ÕÝÍÀ 200۔